افغانستان میں بھوک اور غربت کاراج

”اس وقت افغانستان ان 10 ممالک میں شامل ہوچکاہے جو قحط زدہ ہیں، جہاں بھوک اور غربت کا راج ہے، جہاں اشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ میں نہیں، لوگ لقمے لقمے کو ترس رہے ہیں اور کوئی ان کا پرسان ِحال نہیں۔” یہ ایک مستند غیر ملکی نشریاتی ادارے کی تحقیقی رپورٹ کا خلاصہ ہے جو اس نے رواں ہفتے پیش کی۔نصف صدی سے افغانستان حالت ِجنگ میں ہے۔ اب تک کوئی مستحکم حکومت نہیں آسکی۔اس لئے افغان عوام کی حالت انتہائی خستہ اور ناگفتہ بہ ہے۔گزشتہ ساٹھ سالوں میں جو بھی شخص افغانستان گیا وہ افغان عوام کی حالت دیکھ کر آنسو بہائے بغیر نہ رہ سکا۔

24 اکتوبر 2008ء کو اقوام متحدہ کی خیر سگالی کی سفیر اور ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی نے افغانستان کا دورہ کیا تھاتو افغانوں کی حالت زار دیکھ کر جذبات پر قابو نہ پاسکیں اور بے اختیار رو پڑی تھیں۔ انجلینا نے افغانستان کے شہر ننگر ہار اور کابل میں 2دن غربت کا شکار افغان مہاجرین کے ساتھ بھی گزارے تھے۔ وہ مقامی لباس میںملبوس رہیں اور لوگوں میں گھل مل گئیں۔ واپسی پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ”جولی ”نے کہاتھا:2001ء میں طالبان دور کے خاتمے کے بعد 50 لاکھ سے زائد مہاجرین واپس وطن لوٹے ہیں۔ اس وقت سے افغانستان ان تارکین وطن کو سنبھالنے اور بسانے کی کوششیں کررہا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے یہ کوششیں بار آور ثابت نہیں ہورہی۔ کئی سالوں سے یہ مفلوک الحال خاندان در بدر بھٹک رہے ہیں۔خوراک، رہائش، صحت اور تعلیم کے حوالے سے یہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

ایک ”جولی ”ہی کیا جو بھی افغانستان گیا، جس نے بھی افغانستان کا دورہ کیا وہ افغان عوام کی خستہ حالی پر افسوس اور دکھ کا اظہار کرتا ہوا ہی لوٹا۔ 1998ء میں مجھے افغانستان جانے کا اتفاق ہوا تو اس وقت ہم نے افغان عوام کی غربت و افلاس کے دل خراش مناظر اپنی گناہ گار آنکھوں سے دیکھے تھے۔ افغانستان میں داخل ہونے کے بعد غربت وافلاس، ویرانی ووحشت اور خانہ جنگی کے مظاہر قدم قدم پر استقبال کررتے ہیں۔کابل کے لیے سوار ہوتے وقت میری نظر ایک کمسن بچے پر پڑی۔ بچہ مٹی میں لتھڑا ہوا، کپڑوں پر کیچڑ اور منہ پر چھنچھیاں یعنی سرخ گلاب جیسا چہرہ مٹی میں اٹا ہوا اور ناک بہہ رہی تھی۔ اس نے ہماری گاڑی کے شیشے پر میلے کچیلے ہاتھ مارتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کیا اور پھر دونوں ہاتھ جوڑ کر روٹی کا سوال کیا۔ مجھ سے وہ منظر دیکھا نہ گیا۔ میں نے فوراً ہی اپنے بیگ سے ڈبل روٹی نکال کر اس کی طرف بڑھادی اور ساتھ ہی چند افغانی بھی دے دیے۔ ایک بوڑھا شخص جس کے ساتھ دو مفلوک الحال بچیاں بھی تھیں۔ کہنے لگا: ”دو دن سے کچھ نہیں کھایا۔ہمارے گھر میں بھی بیماری ہے۔” ایک ہوٹل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”روٹی تو دلوادیں۔” میں کھانا لینے کے لیے ہوٹل کی طرف بڑھا تو دو خواتین نے دستِ سوال پھیلاتے ہوئے کہا: ”کھانا تو دلوادو۔” میں نے حسبِ استطاعت دونوں ”گروہوں ”کو کھانا لے دیا۔

کابل تک بائی روڈ سفر کرتے ہوئے ایسے بچے بچیاں اور درجنوں مردوخواتین نظر آئے جن کے مسکنت زدہ چہروں پر استعماری قوتوں کے لیے شکوے نمایاں تھے۔سرمایہ دار، امیرترین اور طاقتور ممالک کی ستم ظریفی تو ملاحظہ کیجیے! ایک طرف انسانوں کا خون پینے والے اور مہلک ہتھیار بنانے پر اربوں کھربوں صرف کررہے ہیں تو دوسری طرف پوری دنیا میں ایک ارب سے زائد لوگوں کو دو وقت کی روٹی بمشکل میسر ہے۔ ان میں سے 80 کروڑ انسانوں کو بھوکا سونا پڑتا ہے۔ اور ان میں سالانہ 25 ہزار افراد غذائیت کی شدید کمی کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔ عالمی طاقتوں کا سار زور اس پر ہے کہ ان کی فوجی طاقت میں کمی نہ آئے اور آمدن بڑھتی ہی چلی جائے۔ وہ غریبوں کی حالت زار پر توجہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ دنیا اسلحے کی تیاری پر جتنی رقم خرچ کرتی ہے اس کے صرف ”ایک فیصد” سے وہ تمام بچے اسکول جاسکتے ہیں جنہیں غربت کے باعث تعلیم کی سہولت میسر نہیں۔ ایک جنگی طیارے پر جتنی لاگت آتی ہے اس سے کئی اسپتال اور اسکول بنائے جاسکتے ہیں۔ غریبوں کے لیے گھر اور مکان تعمیر ہوسکتے ہیں۔ دنیا میں بچوں کی تعداد تقریباً دو ارب بیس کروڑ ہے۔ ان میں سے ایک ارب بچے غربت کی آغوش میں پل رہے ہیں۔ پوری دنیا میں روزانہ ہر 3.6 سیکنڈ بعد کوئی نہ کوئی انسان بھوک کی وجہ سے مرتاہے۔

ترقی یافتہ ممالک فخریہ اعلان کرتے ہیں ہم ہر سال غریب ممالک کو اتنے کروڑوں ڈالر کی امداد دیتے ہیں۔ وہ دعوے ضرور کرتے ہیں، پر عملی اقدام نہ ہونے کے برابر ہے۔ امریکا اور یورپ کے باسی ہر سال شراب پینے اور سگریٹ سلگانے پر 500ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں۔ اس میں سے اگر ہر سال 200ارب ڈالر مل جائیں تو دنیا سے غربت، بھوک، جہالت، پانی کی کمی اور بیماریوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی حکومتیں امن قائم کرنے کے نام پر اور مبینہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اربوں کھربوں خرچ کرتے ہیں، پرانہیں تیسری دنیا کے ان کروڑوں غریبوں کاخیال نہیں آتا ہے جو خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ امیر کبیر ممالک کس منہ سے خود کو ”انسانی حقوق کے علمبردار” کہتے ہیں؟ پس منظر کے طور پر بتاتا چلوں انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کی رپورٹ کے مطابق اس وقت افغانستان میں ماہانہ 60افراد موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ 85لاکھ افراد دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔ معاشی طور پر تباہ حال افغانستان کی کوکھ میں پچاس لاکھ یتیم اور لاوارث بچے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق افغانستان میں 30فیصد بچے پانچ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ صرف کابل اور قندھار میں 60ہزار سے زائد ننھے منے بچے بازاروں، گلیوں اور سڑکوں پر محنت مزدوری کرتے ہیں۔

افغان حکومت کی طرف سے معذور افراد کے لیے روزگار اور دیگر سہولیات کے حوالے سے کوئی خاص پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے خصوصی افراد مزید پریشانیوں اور اذیت میں مبتلا ہورہے ہیں اور ان کی زندگی مزید اجیرن ہوگئی ہے۔ آج سے پانچ سال پہلے 2021ء میں جب امریکا نے افغان طالبان کے ساتھ قطر معاہدہ کرنے کے بعد افغانستان طالبان کے حوالے کردیا تھا تو امید ہوچلی تھی کہ اب افغان عوام کے دکھ ختم ہوجائیں گے۔افغانستان میں امن و سلامتی اور خوشحالی ہوگی، لیکن آرزوئے بیسیار کہ خاک شد۔پاک افغان جنگ کی وجہ سے افغان عوام بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہیں۔ایک مرتبہ پھر افغانستان ان 10ممالک میں شامل ہوچکاہے جو قحط زدہ ہیں، جہاں بھوک اور غربت کا راج ہے، جہاں اشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ میں نہیں، لوگ لقمے لقمے کو ترس رہے ہیں اور کوئی ان کا پرسانِ حال نہیں۔