دمشق کا جلاد گرفتار، شام بھر میں جشن، لواحقین کے زخم تازہ

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
24 اپریل کی صبح شام کی حالیہ تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ بن کر ابھری جب امجد یوسف، جسے شامی عوام التضامن کے جلاد کے نام سے جانتے ہیں، بالآخر گرفتار کر لیا گیا۔ امجد یوسف وہ نام جو خوف، درندگی اور بے رحم قتل کی علامت تھا۔ نہ صرف شامی بلکہ یہ وحشت ناک ویڈیو دیکھنے والی ہر آنکھ اس کے انجام کی منتظر تھی۔
یہ خبر جنگ زدہ ملک کے لیے کسی غیرمعمولی پیش رفت سے کم نہیں ہے۔ دمشق، حلب، حمص اور دیگر شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، مٹھائیاں تقسیم کی گئیں، مساجد میں شکرانے کے نوافل ادا کیے گئے اور کئی مقامات پر خوشی کے اظہار کے لیے جانور ذبح کیے گئے۔ اس دن کو عوامی حلقوں میں یومِ تحریر جدید کا نام دیا گیا یعنی ایک ایسا دن جب مظلوموں نے پہلی بار محسوس کیا کہ ظلم کا ایک بڑا ستون گرچکا ہے۔ مگر یہ خوشی مکمل نہ تھی۔ جشن کے نعروں کے ساتھ ساتھ آنکھوں میں نمی بھی تھی۔ ’التضامن‘ قتل عام کے شہدا کے لواحقین کے لیے یہ لمحہ بیک وقت تسکین اور اذیت دونوں لے کر آیا۔ ایک طرف انہوں نے برسوں کے بعد ایک بڑے مجرم کو قانون کے شکنجے میں دیکھا تو دوسری طرف ان کے دلوں میں اپنے پیاروں کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ ایک بزرگ باپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: آج ہمیں لگا کہ رب نے ہماری سن لی، مگر ہمارا بیٹا واپس نہیں آئے گا۔ یہی وہ کیفیت تھی جس میں شام کا معاشرہ اس خبر کو قبول کر رہا تھا نصف جشن، نصف ماتم۔
سانحہ التضامن: جب انسانیت شرمندہ ہوئی
یہ داستان 16 اپریل 2013 ءکو شروع ہوتی ہے، جب التضامن میں ایک ایسا ہولناک واقعہ پیش آیا جس نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ علاقہ مخیم الیرموک کے قریب واقع ہے جہاں اس وقت جنگی حالات کے باعث خوف اور بے یقینی پہلے ہی اپنے عروج پر تھی۔ اس دن درجنوں نہتے شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان کی آنکھوں پر پٹیاں اور وائٹ ٹیپ باندھی گئی، ہاتھ پیچھے باندھے گئے اور انہیں ایک سنسان مقام پر لے جایا گیا جہاں پہلے سے ایک گہرا گڑھا کھودا جا چکا تھا۔ اس گڑھے کو بعد میں اجتماعی قبر کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ویڈیو شواہد میں دیکھا گیا کہ متاثرین کو ایک مکروہ دھوکے کے تحت دوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ آگے اسنائپر موجود ہے، اس لیے جلدی بھاگو۔ جیسے ہی وہ دوڑتے، پیچھے کھڑے مسلح اہلکار ان پر AK-47 سے فائرنگ شروع کر دیتے۔ گولیاں لگنے کے بعد وہ ایک ایک کر کے گڑھے میں گرتے جاتے۔ یہ ظلم یہیں ختم نہیں ہوا۔ گڑھے میں گرنے والوں کو مزید گولیاں ماری گئیں، بعض کو زندہ حالت میں آگ کے حوالے کر دیا گیا۔گڑھے میں بڑی تعداد میں استعمال شدہ ٹائر ڈال کر انہیں لاشوں اور زخمیوں سمیت پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی اور یوں ایک اجتماعی قبر کو جلتی ہوئی چتا میں بدل دیا گیا۔ ابتدائی ویڈیو میں 41 افراد کے قتل کی تصدیق ہوئی، اس مختصر ویڈیو کا ماہرین نے تجزیہ کیا تو 41 کی تعداد سامنے آئی مگر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ صرف ایک واقعہ تھا۔ مجموعی طور پر اس علاقے میں 288 افراد اسی طرز پر قتل کیے گئے جبکہ اس علاقے میں ہونے والے مزید درجنوں واقعات میں سینکڑوں افراد کو نشانہ بنایا گیا۔
ایک خاندان، نو جنازے
اس سانحے کی سب سے دل دہلا دینے والی مثال انخل شہر سے تعلق رکھنے والا الوالی خاندان ہے جس کے 9 افراد ایک ہی دن اس قتل عام کا نشانہ بنے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک مکمل نسل کی تباہی تھی۔ ان شہدا کے نام یہ ہیں: شادی یاسر احمد، یاسر احمد یاسین، خالد محمود یاسین، بلال محمود یاسین، یاسین محمود یاسین، ثائر عبدالمنعم محمود، خالد عبدالکریم، عبدالمنعم محمود یاسین اور عبدالناصر محمود یاسین۔ یہ سب ایک ہی خاندان کے چشم و چراغ تھے جنہیں ایک ہی گڑھے میں دفن کر دیا گیا۔
فلسطینی انجینئر ابراہیم الخضرا
ان مظلوموں میں ایک نام محمد ابراہیم الخضرا کا بھی شامل ہے۔ ایک فلسطینی انجینئر جو اپنے خاندان کے ساتھ شام میں مہاجرت کی زندگی گزار رہے تھے۔ آنکھوں میں معصومیت، چہرے پر سکون اور وقار۔ انہیں اس واقعے سے تین دن پہلے ایک چیک پوسٹ سے گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے روزمرہ کے سفر پر تھے۔ انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ یہ راستہ ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوگا۔ ویڈیو کے ایک منظر میں وہی شخص امجد یوسف انہیں گڑھے میں دھکیل کر گولی مارتا نظر آتا ہے۔ یہ منظر نہ صرف ایک فرد کی موت بلکہ انسانیت کی موت کی علامت بن چکا ہے۔ ان کے بچوں نے برسوں انتظار کیا کہ شاید ان کے والد کسی جیل میں ہوں گے مگر جب حقیقت سامنے آئی تو ان کی دنیا اجڑ گئی۔
راز کیسے کھلا؟
یہ سانحہ تقریباً 9 سال تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا، یہاں تک کہ 2022 ءمیں برطانوی اخبار The Guardian نے ایک ویڈیو شائع کی جس نے سب کچھ بدل دیا۔ یہ ویڈیو ایک ایسے شخص کے ذریعے منظر عام پر آئی جسے ایک لیپ ٹاپ مرمت کے لیے دیا گیا تھا۔ اس نے ایک خفیہ فولڈر میں یہ ویڈیو دیکھی اور اسے لیک کردیا۔ یہیں سے ایک بین الاقوامی تحقیق کا آغاز ہوا اور اس تحقیق کی قیادت ایک ایسی خاتون نے کی جس نے تاریخ بدل دی۔
انصار شحود کا مثالی کردار
انصار شحود یہ وہ نام ہے جس نے اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا۔ وہ نیدر لینڈ کی University of Amsterdam کے ہولوکاسٹ اور نسل کشی کے مرکز سے وابستہ محققہ تھیں۔ انہوں نے ایک فرضی شناخت آنا کے نام سے کام شروع کیا۔ خود کو بشار حکومت کی حامی اور کٹر علوی خاتون ظاہر کیا اور آہستہ آہستہ سرکاری اہلکاروں کے قریب پہنچ گئیں۔ ان کا نیٹ ورک 500 افراد تک پھیل گیا۔ انہوں نے قاتل کی نفسیات کو سمجھا کہ ایک مجرم کو اپنے بوجھ کو بانٹنے کے لیے کسی سامع کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی کمزوری کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے امجد یوسف سے اہم اعترافات حاصل کیے۔ اپنے ساتھی Uur ngr کے ساتھ مل کر انہوں نے 27 ویڈیوز کا تجزیہ کیا جن سے امجد یوسف کی شناخت ممکن ہوئی۔
جلاد کی گرفتاری
پہاڑوں میں چھپا ہوا جلادگرفتاری کا مرحلہ بھی غیرمعمولی تھا۔ امجد یوسف نبع الطیب کے ایک الگ تھلگ گھر میں چھپا ہوا تھا جو پہاڑوں کے قریب واقع تھا۔ وہ دن کے وقت پہاڑوں میں چھپتا اور رات کو گھر آتا۔ اس نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے کھڑکیوں کو ڈھانپ رکھا تھا اور مقامی لوگوں کے مطابق وہ کبھی کھلے عام نظر نہیں آتا تھا۔ مہینوں کی نگرانی کے بعد شامی سیکورٹی فورسز نے ایک خفیہ آپریشن کے ذریعے اسے گرفتار کر لیا۔ انس خطاب نے اعلان کیا کہ یہ کارروائی انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دی گئی۔
مقامِ واردات: زمین نے سچ اگل دیا
گرفتاری کے بعد جب مقامِ واردات پر کھدائی کی گئی تو ایسے مناظر سامنے آئے جنہوں نے ہر آنکھ کو اشکبار کردیا۔ کپڑوں کے ٹکڑے، جوتے، کھوپڑیاں، ہڈیاں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت تھے کہ یہاں انسانوں کو بے دردی سے قتل کر کے دفن کیا گیا تھا۔ آج امجد یوسف گرفتار ہے مگر انصاف کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ یہ گرفتاری ایک علامت ہے کہ ظلم ہمیشہ قائم نہیں رہتا مگر سوال اب بھی باقی ہے: کیا ان ماں کے آنسو رک جائیں گے؟ کیا ان بچوں کو ان کے باپ واپس مل جائیں گے؟ جواب واضح ہے: نہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ گرفتاری امید کی ایک کرن ہے۔ ایک پیغام ہے کہ سچ کو دبایا جاسکتا ہے مگر مٹایا نہیں جاسکتا اور شاید اسی لیے شام کے ایک شہری نے کہا: ”ہم اپنے شہدا کے لیے پھول بوئیں گے کیونکہ ان کا خون رائیگاں نہیں گیا۔“