جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے عہد اقتدار میں 7ستمبر 1974ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے دو ماہ کی تفصیلی بحث کے بعد قادیانیوں کومتفقہ طور پر غیرمسلم اقلیت قرار دیا۔ وہ شعبان المعظم کا مہینہ تھا’ آگے رمضان المبارک کی وجہ سے پارلیمنٹ کا اجلاس منعقد نہ ہو سکا۔ اس زمانہ میں پنجاب کے وزیراعلیٰ جناب حنیف رامے تھے، قادیانی لابی نے فائدہ اٹھایا اور اس مدت میں گورنمنٹ اور اپوزیشن کے درمیان اتنی دوریاں پیدا کر دیں جناب رامے صاحب نے اپنے تیز اور تند بیانات سے قادیانی نوازی میں انتہا کر دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عرصہ تک 7ستمبر کے آئینی فیصلہ پر قانون سازی نہ ہو سکی۔
جناب بھٹو صاحب نے نئے الیکشن کا ڈول ڈالا، الیکشن میں مبینہ طور پر دھاندلی کے خلاف چلنے والی تحریک نے 1977ء کی تحریک نظامِ مصطفی کا روپ اختیار کر لیا۔ اس طویل رسہ کشی میں اس آئینی ترمیم پر قانون سازی پس منظر میں چلی گئی۔ تحریکِ نظام مصطفی کے دوران جب بھٹو گورنمنٹ اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات چل رہے تھے جناب جنرل ضیاء الحق صاحب نے چھلانگ لگائی بھٹو صاحب کو گرفتار کر کے خود اقتدار پر براجمان ہو گئے۔ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے الیکشن کا وعدہ کر کے انحراف کے مرتکب ہوئے۔ ان تمام تر سنگین حالات کے باوجود مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے عقیدہ ختم نبوت کی جدوجہد کو جاری رکھا گیا۔ محدث العصر مولانا سید محمد یوسف بنوری کے وصال کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد منتخب ہوئے۔ آپ نے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کو فعال کیا۔ لاہور میں تمام مکاتب فکر کے کئی اجلاس منعقد ہوئے۔ مجلس عمل کا نیا انتخاب عمل میں لایا گیا، مولانا خواجہ خان محمد مجلس عمل کے صدر، مولانا مفتی مختار احمد نعیمی سیکرٹری جنرل، مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی، جناب علی غضنفرکراروی مرکزی نائب صدور، مولانا محمد شریف جالندھری رابطہ سیکرٹری، مولانا محمد ضیاء القاسمی نائب سیکرٹری جنرل، مولانا زہد الراشدی صاحب سیکرٹری اطلاعات منتخب ہوئے۔
تب اللہ تعالیٰ کے فضل سے کراچی، کوئٹہ، پشاور ، فیصل آباد، حیدرآباد، چناب نگر میں بڑی ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا۔ سیالکوٹ جامع مسجد ڈونگا باغ میں بڑی سطح کی قومی کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں 27اپریل 1984ء کو ‘راولپنڈی چلو’ کی کال دی گئی۔ ملک بھر میں اس کی تیاری کے لیے تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے دن رات ایک کر دیے۔ راجہ بازار جامعہ تعلیم القرآن میں کانفرنس کا انعقاد طے پایا تھا۔ پورے ملک میں بھرپور تیاری کے دوران گوجرانوالہ سے مولانا محمد ضیا القاسمی گرفتار کر کے بہاولپور جیل میں بند کر دیے گئے۔ مولانا مفتی محمد زین العابدین، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف، جناب راجہ ظفر الحق وفاقی وزیر مذہبی امور نے جنرل محمد ضیاء الحق کو قائل کیا۔ راجہ صاحب اور مولانا محمد شریف جالندھری کی جنرل ضیاء الحق صاحب سے ملاقات ہوئی۔ حکومتی حلقوں سے مثبت اشارے ملنے لگے۔ پورے ملک سے قافلوں کی روانگی کا عمل شروع ہوا۔ راولپنڈی سے باہر جگہ جگہ ناکہ بندیاں تھیں اس کے باوجود قافلے جیسے کیسے انفرادی، اجتماعی طور پر راستہ بدل بدل کر پہنچنا شروع ہوئے۔ حکومت کو پل پل کی خبر تھی۔
اللہ ربُّ العزت نے کرم فرمایا، 26اپریل 1984ء کو جنرل محمد ضیاء الحق صاحب سے مجلس عمل کی مرکزی قیادت نے مولانا خواجہ خان محمد کی سربراہی میں ملاقات کی۔ مولانا خواجہ خان محمد، مفتی احمد الرحمن،مفتی مختار احمد نعیمی، مولانا محمد عبداللہ اسلام آباد، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالقادر روپڑی، مولانا نورالحق نورپشاور ، مولانا مفتی زین العابدین، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف، جناب راجہ ظفر الحق (رحمہم اللہ) سمیت حضرات کی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے امتناعِ قادیانیت آرڈیننس جو پہلے سے وزارت قانون، وزارت مذہبی امور نے تیار کر رکھا تھا، وہ قائدین تحریک ختم نبوت کے سامنے رکھا۔ اجلاس میں اس پر صاد ہوا تو جناب جنرل محمد ضیاء الحق صاحب نے قائدین کے سامنے اس پر دستخط کیے۔ مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی نے خوشی میں جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کے ہاتھ چومے، مولانا عبداللہ صاحب نے جنرل صاحب سے وہ قلم مانگ لیا، جس سے اس آرڈیننس پر دستخط ہوئے۔ اس آرڈیننس کے ذریعہ قادیانیوں پر جو قدغن لگی اور اہل اسلام کے مؤقف کو حکومتی سطح پر تسلیم کیاگیا، اس کو ملاحظہ فرمائیے:
1۔ اس آرڈیننس کی رو سے قادیانیوں کی تبلیغی سرگرمیوں کو خلاف اسلام قرار دیا گیا۔
2۔ اس آرڈیننس کی رو سے مرزا قادیانی کے دیکھنے والوں کو ”صحابی” نہیں کہہ سکتے۔
3۔اس آرڈیننس کی رو سے مرزا قادیانی کے دیکھنے والوں کو ”رضی اللہ عنہ” نہیں کہہ سکتے۔
4۔ اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی اپنے چیف گرو کو ”امیرالمؤمنین” نہیں کہہ سکتے۔
5۔ اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی اپنے چیف گرو کو ”خلیفة المؤمنین” نہیں کہہ سکتے۔
6۔ اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی اپنے چیف گرو کو ”خلیفة المسلمین” نہیں کہہ سکتے۔
7۔ اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کو ”ام المؤمنین” نہیں کہہ سکتے۔
8۔ اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان کو ”اہل بیت” نہیں کہہ سکتے۔
9۔ اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی اپنی عبادت گاہ کو ”مسجد” نہیں کہہ سکتے۔
10۔ اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی مسلمانوں کی طرح ”اذان” نہیں کہہ سکتے۔
11۔ اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی خود کو ”مسلمان” نہیں کہہ سکتے۔
12۔ اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی اپنے دھرم کو ”اسلام” نہیں کہہ سکتے۔
13۔ اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی اپنے دھرم قبول کرنے کی دعوت نہیں دے سکتے۔
14۔ اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی کسی بھی اقدام سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح نہیں کر سکتے۔
15۔ اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی تحریری تقریری طور پر یا مرئی نقوش کے ذریعہ خود کو مسلمان ظاہر نہیں کرا سکتے۔
16۔ اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی کوئی ایسی نشانی یا علامت استعمال نہیں کر سکتے جس سے ان کا مسلمان ہونا سمجھا جائے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کو تین سال کی عدالت سزا دے سکتی ہے اور جرمانہ بھی۔ گویا اب قادیانی خود کو کسی بھی طرح مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ بعد میں قادیانیوں نے اسے وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا۔ عدالت نے متفقہ طور پر قادیانی پٹیشن کو خارج کر دیا، پھر ایک ترمیم کے ذریعے جنرل ضیاء الحق صاحب کے تمام آئینی اقدامات کو قانونی تحفظ دے کر قانون کا حصہ بنا دیا گیا۔ یہ سب کچھ اسی 26اپریل 1984ء کے فیصلہ کا نتیجہ تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس سال بھی اسلام آباد میں اس کامیابی کی خوشی میں ایک تقریب اور کرک میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کر رکھا ہے۔ 7ستمبر 1974ء سے لے کر آج تک تمام تر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد میں ایک عظیم اور یادگار واقعہ 26اپریل 1984ء کا آرڈیننس کا بھی ہے۔ ابھی حالیہ دور میں قادیانیوں کے خلاف چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سہ رکنی عدالت عظمیٰ کا فیصلہ جس نے قادیانیت کو زمین سے لگا دیا’ یہ بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ غرض یہ کہ پارلیمنٹ ہو یا اسٹیبلشمنٹ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ واشاعت کے لیے 7ستمبر اور 26اپریل دونوں ایام اہمیت کے حامل ہیں۔

