پشاور/اسلام آباد: یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبلس کی قیادت میں آنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہاہے کہ افغانستان کے ساتھ معاملات میں مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا موثر راستہ ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہزاروں سال پر محیط مشترکہ تاریخ اور ثقافتی رشتے موجود ہیں، افغانستان کی جنگ کے اثرات سے خیبر پختونخوا کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کے سب سے بڑے سیاسی رہنما ہیں جن کا موقف واضح ہے کہ جنگ اور فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں، موجودہ صورتحال کی وجہ سے خیبر پختونخوا کا افغانستان کے ساتھ سالانہ 10 ارب روپے سے زائد کا تجارتی حجم شدید متاثر ہوا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق نصاب اور کورسز میں اصلاحات کر رہی ہے، عمران خان کے وژن کے مطابق نوجوانوں پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبے میں تعلیم کا بجٹ کئی گنا بڑھایا گیا ہے اور تعلیم کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
انٹرمیڈیٹ سطح پر یتیموں اور طالبات کو مفت تعلیم کی فراہمی کے لیے ایجوکیشن کارڈ متعارف کرایا گیا ہے۔اس موقع پر یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبلس نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور ووکیشنل اسکلز ترجیحی شعبہ جات ہیں، سینٹر آف ایکسی لینس مستقبل کی ضروریات کے مطابق ایک جدید ماڈل ہے۔ملاقات میں دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دریں اثناء سینٹر آف ایکسیلنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی بلاوجہ جیل میں ہیں تاہم ان کا نظریہ قید نہیں کیا جا سکتا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بینائی 85فیصد تک متاثر ہوچکی ہے، انہیں اپنی لیگل ٹیم اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت بانی کے نظریے کو عملی شکل دینے کیلئے کام کر رہی ہے اور عوام پر خرچ کرنا اولین ترجیح ہے۔
صوبے کے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کیلئے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں سے فرسودہ کورسز کو ختم کیا جا رہا ہے جبکہ نوجوانوں پر سرمایہ کاری حکومت کا مشن ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن کی کوئی گنجائش نہیں اور افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر وہ خود بھی کسی کی سفارش کریں تو اسے نہ مانا جائے۔

