پاکستان کی سفارتی اہمیت، ایک وردی پوش کی محنت کا نتیجہ

2025 ء میں آنے والے ایک اہم موڑ نے بحران کے انتظام اور نپے تلے سفارتی انداز کے امتزاج کے ذریعے پاک امریکا تعلقات کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ پاک بھارت کشیدگی کے ایک خطرناک مرحلے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی فوج نے تحمل سے کام لیا اور مکمل جنگ سے بچنے کے لیے پسِ پردہ رابطوں کا سہارا لیا جس کی بدولت جنگ بندی ممکن ہو سکی۔ اس کے بعد شہباز شریف سمیت پاکستان کی قیادت نے ایٹمی بحران کو ٹالنے کا سہرا ڈونلڈ ٹرمپ کے سر باندھا جس نے ان کی پہچان کی خواہش کو تقویت دی اور پاکستان کو ایک باصلاحیت شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔ جون 2025 ء میں وائٹ ہاس میں ہونے والی ایک ملاقات نے اس تبدیلی کو مزید مستحکم کیا جس میں ٹرمپ نے پاکستان کی ہمت اور اسٹریٹجک طاقت کی تعریف کی اور نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کے آزادانہ موقف کے باوجود پاکستان کے کردار پر دوبارہ غور کرنے کی ترغیب دی۔

اس بدلتی ہوئی صورتحال نے بھارت کی طرف امریکا کے دیرینہ جھکاؤ کو کمزور کر دیا اور اس کی جگہ ایک ایسے لین دین پر مبنی طرزِ عمل نے لے لی جس میں پاکستان کے ساتھ روابط کو ترجیح دی گئی۔ تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع بالخصوص پاکستان کے قدرتی وسائل کے شعبے میں وسیع ہوئے جبکہ جنگ بندی میں امریکی ثالثی کے دعوؤں پر واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تناؤ پیدا ہوا۔ بھارتی تردید کے باوجود ٹرمپ نے عوامی سطح پر فیلڈمارشل عاصم منیر کی تعریف کی جس نے تعلقات میں تناؤ پیدا کیا اور بھارت میں سیاسی ردِعمل کو ہوا دی۔ دریں اثنا ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان بڑھتے ہوئے ذاتی تعلقات پاکستان کے لیے امریکی پالیسی کی حمایت اور اقتصادی مدد جیسے ٹھوس فوائد کا باعث بنے۔ یہ تعلقات اس وقت مزید گہرے ہوئے جب غزہ کے استحکام کے منصوبے میں پاکستان کی ممکنہ شمولیت جیسی اہم درخواستیں سامنے آئیں جس نے اسلام آباد کو امریکا کی دوستی برقرار رکھنے اور فلسطینی مقصد کے لیے مضبوط عوامی حمایت کے درمیان ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا۔

انتہائی دباؤ کے ایسے ہی لمحات میں کسی لیڈر کی صلاحیتوں کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ بعد میں سامنے آنے والی سفارتی تفصیلات کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایک سرجن کی مہارت کے ساتھ اس معاملے کو سنبھالا۔ انہوں نے ٹرمپ کو انکار نہیں کیا بلکہ ‘تعمیری مذاکرات’ کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا جو اَب سفارتی مزاحمت کی ایک مثال بن چکا ہے۔ پاکستان نے مسلم دنیا میں اس منصوبے کے لیے سفارتی قیادت فراہم کرنے کی پیشکش کی اور سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی فوج کے اُصول سے اتفاق کیا لیکن عقلمندی کے ساتھ کچھ شرائط رکھ دیں: مثلاً اس فورس کے پاس اقوامِ متحدہ کا مینڈیٹ ہونا چاہیے (جس سے چین اور روس کو ویٹو کا اختیار مل گیا) اور اس کا مشن خالصتاً انسانی بنیادوں پر تعمیرِنو ہونا چاہیے نہ کہ مزاحمتی گروپوں کو غیرمسلح کرنا۔ اگرچہ کسی دوسرے سیاست دان کے لیے یہ ایک رکاوٹ ہوتی، لیکن ٹرمپ نے اسے مذاکرات کے ایک چیلنج کے طور پر لیا۔ اس بحث و مباحثے نے حقیقت میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے ان کے احترام کو مزید بڑھا دیا، جنہیں وہ ایک ایسا ‘ذہین انسان’ سمجھنے لگے جو اپنے ملک کا وفادار بھی ہے اور امریکا کے ساتھ تعاون کے لیے بھی تیار ہے۔

بالآخر یہ تعلق مزید مضبوط ہوکر اُبھرا۔ ٹرمپ نے اپنی عوامی تقریروں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ‘میرا پسندیدہ فیلڈ مارشل’ کہنا شروع کردیا، یہاں تک کہ بین الاقوامی فورمز پر وزیراعظم شہباز شریف کو بھی اسٹیج پر اپنے ساتھ کھڑا کیا تاکہ پاکستان کے ساتھ امریکا کے ‘بہترین تعلقات’ کی جھلک دکھائی جا سکے۔ اسلام آباد میں ماحول انتہائی پُرجوش تھا۔ دہائیوں سے پاکستان ایک ایسے خوف کا شکار تھا کہ افغانستان سے سوویت واپسی کے بعد اسے تنہا چھوڑ دیا جائے گا یا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسے دھوکہ دیا جائے گا۔ اب ان کے سپہ سالار نے وہ کر دکھایا جو کوئی سویلین سفارت کار نہ کرسکا: انہوں نے پاکستان کو دوبارہ اہم بنا دیا۔ ‘ٹرمپ-منیر’ تعلقات وقار اور احترام کے ایک نئے دور کی پہچان بن گئے۔ راولپنڈی کے جی ایچ کیو سے لے کر لاہور کے چائے خانوں تک ایک فخر کا احساس پایا جانے لگا۔ لوگ اپنے فیلڈ مارشل کا ذکر اس عقیدت سے کرنے لگے جو عام طور پر قومی شاعروں یا کرکٹ ہیروز کے لیے مخصوص ہوتی ہے اور انہیں ‘امریکی سوچ’ بدلنے کا کریڈٹ دیا گیا۔

اس فخر کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے ٹرمپ کے ان الفاظ کو دوبارہ دیکھنا ہو گا جو انہوں نے پہلی ملاقات کے بعد کہے تھے: ‘آپ جانتے ہیں کہ یہ پاکستانی کس قسم کے لوگ ہیں’ یہ وہ جملہ تھا جس نے پاکستانی شناخت کے مرکز پر اثر کیا۔ برسوں تک دنیا نے پاکستان پر ترس کھایا یا اسے جھڑکا۔ لیکن ٹرمپ نے ایٹم بم کو جو 1971 ء کے بعد عدم تحفظ کے نتیجے میں بنایا گیا تھا، ایک خطرے کے بجائے ایک اعزاز کے طور پر دیکھا۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ فوج کی پیچیدہ تاریخ کو دیکھا اور اسے ایک تعطل نہیں بلکہ سائز کے مقابلے میں ہمت کی فتح قرار دیا۔ یہ نفسیاتی توثیق کسی بھی امدادی پیکج سے زیادہ قیمتی تھی۔ اس نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام دیا کہ ان کے تزویراتی فیصلے یعنی 20ویں صدی میں معاشی صنعت کاری کے بجائے بم اور فوج کو ترجیح دینا رائیگاں نہیں گئے۔ اس نے انہیں بتایا کہ ‘اسٹریٹجک ڈیپتھ’ اور ‘کم ازکم دفاعی صلاحیت’ محض تھنک ٹینکس کی اصطلاحات نہیں بلکہ ایسے تصورات ہیں جن کا ایک امریکی صدر احترام بھی کر سکتا ہے اور خوف بھی۔اس ایک ملاقات کے اثرات ایشیا کے جغرافیائی و سیاسی ڈھانچے کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں۔ بھارت اور امریکا کا وہ متحدہ محاذ جو چین کو روکنے کے لیے بنایا گیا تھا، اس میں ایک دراڑ پیدا ہوگئی ہے اور اس دراڑ کے ذریعے پاکستان نے خود کو ایک ضروری تیسرے کھلاڑی کے طور پر شامل کرلیا ہے۔ جیسے جیسے واشنگٹن نئی دہلی کی خود مختار پالیسیوں جیسے روسی تیل کی خریداری سے نالاں ہو رہا ہے، وائٹ ہاس ان دنوں کو یاد کرنے لگا ہے جب پاکستان ایک قابلِ بھروسہ اتحادی تھا۔

جب حال ہی میں ایک صحافی نے ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا کہ ان کا پسندیدہ عالمی لیڈر کون ہے، تو صدر ٹرمپ نے ایک لمحہ بھی نہیں لگایا۔ انہوں نے جاپان کے وزیراعظم، جرمنی کے چانسلر یا سعودی عرب کے ولی عہد کا نام نہیں لیا۔ وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ مائیک کی طرف جھکے اور کہا: ‘مجھے وزیراعظم شریف پسند ہیں، لیکن مجھے فیلڈ مارشل سے محبت ہے۔ وہ شاندار ہیں۔ وہ میرے پسندیدہ ہیں’۔ پاکستان میں یہ اقتباس ہر اخبار کی شہ سرخی بنا اور ہر نیوز چینل پر چلایا گیا۔ ایک ایسی قوم کے لیے جس نے گزشتہ دہائی خود کو غیرمرئی محسوس کرتے ہوئے ‘دہشت گردوں کی پناہ گاہ’ کے طعنے سہتے ہوئے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دبا میں گزاری تھی، یہ خیال کہ دنیا کا طاقتور ترین شخص ان کے عسکری لیڈر کو اپنا ‘پسندیدہ’ قرار دے رہا ہے، قومی نفسیات کے لیے ایک مرہم کی طرح تھا۔ اس نے ان کے اس یقین کو پختہ کر دیا کہ تمام تر غربت اور افراتفری کے باوجود پاکستان ایک ایسی قوم ہے جو اہمیت رکھتی ہے؛ ایک ایسی قوم جس نے، جیسا کہ ٹرمپ نے مختصرا کہا، ایٹم بم بنایا اور ایک دیو کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہوگئی۔ اِدراک میں اس تبدیلی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اس مقام کے لیے پاکستانی اس وردی پوش شخص کے شکرگزار ہیں جو اوول آفس میں داخل ہوا اور ایک نئے عالمی نظام کی چابیاں لے کر باہر نکلا اور ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ اقوام کے بے رحم کھیل میں، تاثر اکثر طاقت جتنا ہی طاقتور ہوتا ہے۔