غزہ/لندن/بیروت:غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے بعد20سال میں پہلی مرتبہ مقبوضہ مغربی کنارے کے ساتھ غزہ کے ایک علاقے دیر البلاح میں بھی ہفتے کو پولنگ ہوئی۔فلسطینی اتھارٹی نے انتخابی علاقوں میں دیر البلاح کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر شامل کیا ہے۔
حماس نے انتخابات میں باقاعدہ حصہ نہیں لیا البتہ پولنگ اسٹیشنز کی حفاظت اور نتائج کے احترام کا اعلان کیا ہے۔عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق بلدیاتی انتخابات کی نگرانی کے لیے سینٹرل الیکشن کمیشن مقبوضہ کنارے رملہ میں قائم کیا گیا ہے جس کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً 15 لاکھ جب کہ غزہ کے علاقے دیر البلاح میں70ہزار رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔
غزہ کی پٹی سے صرف دیر البلاح کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ یہ غزہ کے ان چند علاقوں میں سے ایک ہے جو اسرائیلی افواج کی تباہی سے بڑی حد تک محفوظ رہے ہیں اوریہاں سے آبادی کا انخلا دیگر علاقوں کی نسبت کم ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے دیر البلاح کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر شامل کیا ہے تاکہ مغربی کنارے اور غزہ کو سیاسی طور پر ایک نظام سے جوڑنے کا تاثر دیا جا سکے۔انتخابات کے لیے پولنگ ہفتے کی صبح مقامی وقت کے مطابق صبح7 بجے شروع ہوئی۔
مغربی کنارے کے شہر البیرہ اور غزہ میں دیر البلاح سے سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں فلسطینیوں کو طویل عرصے بعد پولنگ اسٹیشنز کا رخ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔فلسطینی قانون کے تحت ان انتخابات میں کوئی بھی شخص آزاد امیدوار کے طور پر تنہا الیکشن نہیں لڑ سکتا۔
امیدواروں کے لیے لازمی ہے کہ وہ ایک گروپ یا پینل کی صورت میں اپنی رجسٹریشن کروائیں جسے انتخابی فہرست کہا جاتا ہے۔زیادہ تر انتخابی فہرستیں صدر محمود عباس کی تحریک فتح یا آزاد امیدواروں پر مشتمل ہیں جبکہ غزہ کی پٹی کے تقریباً نصف حصے پر کنٹرول رکھنے والی حماس نے باقاعدہ طور پر بطور جماعت انتخابات میں حصہ نہیں لیا تاہم اپنے حامیوں کو آزاد حیثیت میں شامل ہونے سے بھی نہیں روکا ہے۔
فتح کا مقابلہ زیادہ تر آزاد پینلز سے ہے جن کی قیادت پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین جیسے دھڑوں کے امیدوار کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کچھ آزاد امیدواروں اور پینلز کو حماس کی حمایت حاصل ہے۔
رپورٹس کے مطابق حماس نے دیر البلاح میں پولنگ اسٹیشنز کی حفاظت کے لیے اپنی پولیس اور سیکورٹی فورسز تعینات کرنے اور انتخابات کے نتائج کے احترام کا اعلان کر رکھا ہے۔واضح رہے کہ فلسطین میں 2006 ء کے بعد سے کوئی صدارتی یا قانون ساز اداروں کے انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے بلدیاتی کونسلیں فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام چند فعال جمہوری اداروں میں سے ایک بن چکی ہیں۔
یہ کونسلیں قانون سازی کے بجائے پانی، صفائی ستھرائی اور مقامی انفرااسٹرکچر جیسی بنیادی سہولیات کی ذمہ دار ہیں۔دوسری جانب الجزیرہ کی رپورٹ میں فلسطینی سینٹر فار پالیسی اینڈ سروے ریسرچ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حماس اب بھی عوامی سطح پر سب سے مقبول دھڑا ہے، تاہم غزہ ایک نئے طرزِ حکمرانی کی طرف بڑھ رہا ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے تحت تجویز کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت ایک بین الاقوامی بورڈ آف پیس تشکیل دیا گیا ہے تاہم حماس کو غیر مسلح کرنے، تعمیر نو اور اقتدار کی منتقلی جیسے اگلے مراحل پر پیش رفت فی الحال تعطل کا شکار ہے۔
ادھرفلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ کی پٹی کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں قابض اسرائیل کی فضائی اور توپ خانے کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں 13 شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ4لاشیں گزشتہ روزبمباری کے دوران ملبے تلے سی ملی ہیں جس کے بعد شہداء کی تعداد17ہوگئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قابض دشمن کی جانب سے مشرقی علاقوں کو نشانہ بنا کر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ناصر میڈیکل کمپلیکس کے مطابق جنوبی غزہ میں خان یونس کے علاقے مواصی میں پولیس کی ایک گاڑی پر کیے گئے حملے میں اہلکاروں سمیت8 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔
ان شہداء میں سے جن کی شناخت ہو سکی ہے ان میں عبدالمنعم محمد مقداد، عمر صالح معمر، عبدالرحمن عبدالرحیم برکات، محمد نادر الدواہیدی، محمد حمدی مقداد اور حسام شیخ العید شامل ہیں۔پولیس کے محکمہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ اس حملے میں اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف افسران اور جوانوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کیپٹن عمران عمر اللدعہ اور لیفٹیننٹ احمد ابراہیم القصاص شہید جبکہ دو دیگر اہلکار شدید زخمی ہوئے۔
شمالی غزہ میں کمال عدوان ہسپتال کے قریب الطنانی خاندان کے گھر پر قابض دشمن کے توپ خانے نے گولہ باری کی جس کے نتیجے میں ایک خاتون اسلام محمد کرسوع اوران کے دو سگے بہن بھائی حمزہ اور نایا خالد طنانی جام شہادت نوش کر گئے۔
اسی طرح شمالی غزہ میں کمال عدوان ہسپتال کے قریب ہی الطنانی خاندان کے ایک اور گھر پر گولہ باری سے مزید دو فلسطینی شہید ہو گئے۔ شمالی غزہ کے قصبے بیت لاہیا میں سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قابض اسرائیل کی افواج نے فائرنگ کی جس سے ایک بچی زخمی ہو گئی۔
شمالی غزہ میں طبی خدمات کے ڈائریکٹوریٹ نے اپنے بیان میں بتایا کہ ان کے عملے نے ایک 10 سالہ بچی کو شدید زخمی حالت میں غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال منتقل کیا ہے۔ اس بچی کو بیت لاہیا پروجیکٹ کے علاقے میں مقیم شہریوں اور نازحین پر کی جانے والی فائرنگ کے دوران نشانہ بنایا گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ بچی اس وقت سر میں گولی لگنے سے زخمی ہوئی جب وہ نازحین کے لیے قائم کردہ خلیفہ اسکول کے اندر موجود تھی۔ اسی طرح جنوبی غزہ میں خان یونس کے مختلف محلوں پر بھی قابض دشمن کی گاڑیوں نے شدید فائرنگ کی۔
طبی اور مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ہفتہ کی صبح ننھی بچی دعاء محمد سلیمان رحیم ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئی جو اسے چند روز قبل وسطی غزہ کی پٹی میں دیر البلاح کے مغرب میں قابض دشمن کی فائرنگ کے نتیجے میں آئے تھے۔
ادھرعالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ 2026ء کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیل کی وحشیانہ نسل کشی کے نتیجے میں بگڑتی ہوئی طبی اور انسانی صورتحال کے درمیان غزہ کی پٹی میں بے گھر فلسطینیوں کے ہاں موذی جانوروں اور حشرات الارض سے وابستہ 17 ہزار سے زائد کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
عالمی ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں موجود مایوس کن اور سنگین حالات بحالی کی کوششوں میں مسلسل رکاوٹ بنے ہوئے ہیںجبکہ بیان میں خاندانوں کے درمیان وبائی امراض کی شرح میں اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ شعبہ صحت اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری سامان اور آلات سے محروم ہے۔
دریں اثناء دنیا کے مختلف ممالک سے ”گلوبل صمود فلوٹیلا 2” غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنے کے مقصد سے فریڈم فلوٹیلا اتحاد کے تحت روانہ ہو گیا ہے۔اس بحری بیڑے میں 70 سے زائد کشتیاں اور جہاز شامل ہیں جو بحیرہ روم کے مختلف مقامات بالخصوص بارسلونا اور تیونس کی بندرگاہوں سے روانہ ہوئے ہیں۔
اس انسانی ہمدردی کی مہم میں 100 سے زائد ممالک کے تقریباً 3,000 انسانی حقوق کے علمبردار شریک ہیں جن میں اراکین پارلیمنٹ، انسانی حقوق کے کارکنان اور بین الاقوامی شخصیات شامل ہیں۔
اس فلوٹیلا میں ایک خصوصی طبی یونٹ بھی شامل ہے جس میں 1,000 طبی عملہ اور ماہرین موجود ہیں جو اپنے ساتھ جدید طبی آلات اور ضروری سامان لے کر جا رہے ہیں تاکہ غزہ کی پٹی کے تباہ حال طبی نظام کو سہارا دیا جا سکے۔
منتظمین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تحریک صرف بحری راستے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں زمینی راستہ بھی شامل ہے جسے ”قافلہ صمود 2” کا نام دیا گیا ہے جو الجزائر سے روانہ ہو کر تیونس اور لیبیا سے ہوتا ہوا رفح سرحد تک پہنچے گا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت متعدد عالمی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے کی ضمانت دی جائے اور ماضی کی طرح اسے روکنے یا نشانہ بنانے جیسے اقدامات سے باز رہا جائے۔
دوسری جانب محاصرہ توڑنے والی عالمی کمیٹی کے چیئرمین زاہر بیراوی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ فلوٹیلا”پرامن شہری مزاحمت” کا ایک ذریعہ ہے جس کا مقصد عالمی برادری پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ غزہ کے ظالمانہ محاصرے کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔
علاوہ ازیںحماس نے غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی افواج کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام کی شدید مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں 13 شہری جام شہادت نوش کر گئے۔
حماس نے قرار دیا کہ یہ حالیہ کشیدگی سیز فائر معاہدے کے ضامنوں اور ثالثوں کی اس ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ قابض دشمن کے جرائم کو لگام دینے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔
حماس تحریک نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں بمباری اور قتل و غارت کی رفتار میں اضافہ ثالثوں اور عالمی برادری کے کردار میں واضح عجز اور فلسطینیوں کے خلاف جاری سنگین جرائم کو روکنے کی ذمہ داریوں سے غیر منصفانہ پہلو تہی کو ظاہر کرتا ہے۔
ادھرفلسطین کے علاقے غزہ میں واقع شہر دیر البلاح میں متحدہ عرب امارات کے زیرِ اہتمام ایک بڑی اجتماعی شادی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں 150فلسطینی جوڑے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔
یہ تقریب اماراتی اقدام ”الفارس الشہیم” کے تحت 24 اپریل کو منعقد کی گئی جس کا مقصد غزہ کے متاثرہ اور مالی مشکلات کا شکار نوجوانوں کی شادیوں میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
تقریب میں شریک جوڑوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں شادی جیسے اہم مرحلے کو ممکن بنانا ان کے لیے ایک خواب جیسا تھا۔ شرکا کے مطابق اس اقدام نے نہ صرف ان کی معاشی مشکلات کم کیں بلکہ امید اور خوشی کا پیغام بھی دیا۔
منتظمین نے کہاکہ اس طرح کی تقریبات کا مقصد فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور انہیں عملی مدد فراہم کرنا ہے۔
علاوہ ازیںجنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں مزید 6 افرادجاں بحق ہوگئے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنگوں کے باعث ایران اور لبنان میں 3 کروڑ 20 لاکھ افراد بے گھر ہیں جب کہ بیشتر صحت مراکز تباہ یا بند ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ لبنان میں بیماریاں بڑھ رہی ہیں اور دوائیں کم ہیں، بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی ادارہ صحت کو فوری طور پر 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز کی ضرورت ہے۔دوسری جانب ایران اور لبنان میں جنگیں شروع کرنے والا اسرائیل اس وقت دونوں تنازعات میں جنگ بندی پر عمل پیرا ہے جبکہ ان جنگوں کا انجام اسرائیل کے بجائے امریکا طے کر رہا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع اور ایران سے مذاکرات میں اسرائیل کی عدم شمولیت نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے طویل عرصے تک ایران اور حزب اللہ کو بڑا خطرہ قرار دیا اور جنگ کی حمایت کی لیکن موجودہ صورتِ حال اس کے قابو سے باہر ہے، اسرئیلی وزیرِ اعظم نے عوام سے ایران اور حزب اللہ کے خاتمے کے وعدے کیے تھے جو پورے ہوتے نظر نہیں آ رہے۔
حالیہ سروے کے مطابق زیادہ تر اسرائیلی شہری چاہتے ہیں کہ جنگ جاری رہے چاہے اس کے نتیجے میں امریکا کے ساتھ تعلقات خراب ہو جائیں جبکہ ایران کے ساتھ جنگ بندی بھی اسرائیلی عوام میں غصہ پیدا کر رہی ہے۔رپورٹ میں تجزیے کے مطابق اسرائیل اثر و رسوخ رکھتا ہے مگر حتمی فیصلے واشنگٹن کرتا ہے۔

