کراچی:ملک کے مختلف شہروں میںلوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹوں سے متجاوز،عوام بے حال،لوڈشیڈنگ سے کاروبار اور تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر،نیپراکے خلاف توہین عدالت کی درخواست کردی گئی۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں اعلانی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹوں سے بڑھ گیا ہے، شہر کے مستثنی علاقوں میں بھی کئی کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ادھر پشاور میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے جبکہ کوئٹہ میں 4 سے 6 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے عوام پریشان ہے، بلوچستان کے دیگر اضلاع میں 8 سے 10 گھنٹے کی بجلی بندش معمول بن گئی ہے۔
لیسکو ذرائع کے مطابق لاہور میں غیر اعلانی لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی، شارٹ فال 100 میگاواٹ تک رہ گیا ہے۔ پنجاب کے دیہات اور چھوٹے شہروں میں کئی کئی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔
دوسری جانب جماعت اسلامی نے نیپرا حکام کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کردی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتِ عالیہ نے 6 نومبر 2025 کو نیپرا کو لوڈشیڈنگ کے معاملے پر فیصلہ کرنے اور جواب جمع کرانے کا حکم دیا تھا، تاہم تاحال عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے اور اس غفلت کے باعث کراچی کے شہری شدید اذیت کا شکار ہیں۔
جماعت اسلامی نے موقف اپنایا کہ بڑھتی ہوئی گرمی میں شہر کے مختلف علاقوں میں بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے، جس سے شہری زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نیپرا حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔سندھ ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کہا کہ آج ہم نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت نے 6 نومبر 2025 کو حکم دیا تھا کہ نیپرا ایک ماہ میں لوڈشیڈنگ کے معاملے پر جواب جمع کرائے، مگر ایک ماہ نہیں بلکہ چھ ماہ گزرنے کے باوجود کوئی جواب جمع نہیں کرایا گیا۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے پورے شہر کو اندھیروں میں دھکیل دیا ہے، کراچی میں اندھیر نگری اور چوپٹ راج قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2005 میں ادارے کی نجکاری اس لیے کی گئی تھی کہ شہریوں کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے، مگر ادارہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے منافع خوری میں مصروف ہوگیا۔

