مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کوکھانے کے لالے پڑگئے

واشنگٹن:ایران جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے کچھ کو اپنے قلیل کھانے کی راشننگ کرنی پڑ رہی ہے اور طویل بھوک برداشت کرنی پڑ رہی ہے۔

یہ صورت حال ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ان حالات سے پریشان ہو کر، خاندان کے افراد نے اپنے پیاروں کی غذائیت کے لیے کیئر پیکجز بھیجنے پر کافی رقم خرچ کی ہے، لیکن علاقے میں یو ایس پوسٹل سروس کی ترسیل معطل کر دی گئی ہے جس سے گھر کے پکے ہوئے کھانوں اور پروٹین بارز سے بھرے ڈبے پھنس کر رہ گئے ہیں۔

یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق یو ایس ایس ٹریپولی پر سوار ایک نیوی سیلر نے گذشتہ ماہ اپنی ماں کو پیغام بھیجا کہ سامان بہت کم ہونے والا ہے، حوصلے بہت پست ہو جائیں گے۔فی الوقت 50 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی مشرق وسطیٰ میں تعینات ہیں جن میں ہزاروں میرینز اور سیلرز شامل ہیں جو آبنائے ہرمز میں گشت کرنے والے جنگی جہازوں پر سوار ہیں۔

کئی بحری جہاز فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بندرگاہ پر نہیں گئے۔متعدد حالیہ سروے بتاتے ہیں کہ امریکیوں کی اکثریت اس جنگ کی مخالف ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں ہزاروں اموات ہوئی ہیں، بشمول 13 امریکی فوجیوں کے اور ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔

یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق ڈین ایف نامی ایک 63 سالہ شخص بہت پریشان ہو گئے جب ان کی بیٹی، جو یو ایس ایس ٹریپولی پر تعینات ایک میرین ہیں، نے انہیں جہاز پر فراہم کیے گئے کھانے کی تصویر بھیجی، اس میں گوشت کا ایک چھوٹا حصہ اور ایک ٹورٹیلا تھا۔

ٹرے کا زیادہ تر حصہ خالی تھا۔ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر لی گئی تصویر ایک اتنی ہی بے ذائقہ خوراک دکھاتی ہے، جس میں گاجروں کا ایک چھوٹا ٹکڑا، ایک ہیمبرگر اور گوشت کا ایک باریک ٹکڑا شامل تھا۔

ڈین کی بیٹی نے انہیں پیغام بھیجا کہ ان کے جہاز پر موجود فوجی خوراک کی راشننگ کر رہے ہیں، ان کے پاس کوئی تازہ پھل یا سبزیاں نہیں ہیں اور کافی مشین خراب ہو گئی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان نے دی انڈیپنڈنٹ سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

جنرل ڈین کین، جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین نے رواں مہینے کے شروع میں صحافیوں کو بتایا کہ جنگ میں شمولیت کرنے والے امریکی فوجیوں نے 60 لاکھ سے زیادہ کھانے، نو لاکھ 50 ہزار گیلن سے زیادہ کافی، اور 20 لاکھ سے زیادہ انرجی ڈرنکس استعمال کیے ہیں۔

کین نے مزید کہا کہ فوجیوں نے نکوٹین کی بھی بہت زیادہ مقدار استعمال کی ہے۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمیں کوئی مسئلہ ہے۔ فوجیوں کے قلیل راشن میں اضافے کی کوشش میں، خاندان کے افراد نے گھر کے کھانوں سے بھرے ڈبے بشمول گرل سکاٹ کوکیز، گھر میں بنائی گئی فج، کائنڈ بارز اور نئے موزے انہیں مشرق وسطی بھیجنے کی کوشش کی۔

ویسٹ ورجینیا کی ایک کمیونٹی نے یو ایس ایس ابراہم لنکن پر سوار ایک سیلر کو 22 ڈبے بھیجے۔ ٹیکساس کی ایک خاتون نے کہا کہ ان کے خاندان نے اپنے بیٹے کے لیے پیکجز پر دو ہزار ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔ پھر بھی یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق ان میں سے کوئی بھی کھیپ نہیں پہنچائی گئی۔

ادھرامریکا میں ایئر نیشنل گارڈ کے رہنمائوں نے امریکی فضائیہ کی جنگی تیاریوں میں خطرناک کمی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فضائی بیڑے کی جدید کاری اور جنگی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے فوجی فنڈنگ میں فوری اضافہ کرے۔

یہ انتباہ کانگریس کو بھیجے گئے ایک سرکاری خط میں دیا گیا ہے۔ اس خط کو ”ایئر اینڈ اسپیس فورسز میگزین”نے حاصل کیا ہے۔ خط میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ امریکی فضائیہ اپنی 78 سالہ تاریخ میں سب سے قدیم، سب سے چھوٹی اور سب سے کم تیار فورس بن چکی ہے۔

ان رہنمائوں نے اس کمی کو دور کرنے کے لیے 72 سے 100 نئے لڑاکا طیارے خریدنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انہیں فعال دستوں، ریزرو اور نیشنل گارڈ میں تقسیم کیا جا سکے۔

مطالبات میں خاص طور پر کم از کم 48 عدد ایف ۔ 35 ایف اور 24 عدد ایف ، 15 ای ایکس لڑاکا طیاروں کی خریداری اور مستقبل میں سالانہ 72 عدد ایف، 35 اور 36 عدد ایف ، 15 ای ایکس طیارے حاصل کرنے کا ہدف شامل ہے۔

اس خط پر امریکا کی ان تمام 22 ریاستوں کے ایئر نیشنل گارڈ کمانڈروں نے دستخط کیے ہیں جن کے پاس یہ فورسز موجود ہیں۔ ایڈاہو نیشنل گارڈ کے اسسٹنٹ ایڈجوٹینٹ جنرل بریگیڈیئر جنرل شینن سمتھ نے اسے ایک غیر معمولی قدم قرار دیا ہے جو وسیع فوجی اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتا ہے۔

جنرل شینن سمتھ نے واضح کیا کہ حالیہ امریکی فوجی کارروائیوں، بالخصوص ایران کے خلاف جنگ سے منسلک آپریشن ایپک فیوری نے طیاروں اور فضائی عملے پر دبائو کی شدت کو بے نقاب کر دیا ہے۔