غزہ/تل ابیب/بیروت:غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی مظالم تھم نہ سکے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید7فلسطینی شہید جبکہ 24 زخمی ہوگئے۔
عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ گزشتہ24گھنٹوں کے دوران8لاشیں موصول ہوئیں جن میں سے7نئے شہید تھے جب کہ ایک لاش ملبے سے نکالی گئی۔اس دوران24زخمی بھی ریکارڈ کیے گئے۔
جنگ بندی کے بعد سے773افراد شہید اور 2171 زخمی ہو چکے ہیں، تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے اب تک 761 لاشیں برآمد کرلی گئیں۔رپورٹ کے مطابق متعدد متاثرین اب بھی ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں ۔
جہاں جاری حملوں اور تباہی کے باعث ریسکیو ٹیمیں نہیں پہنچ پارہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق7اکتوبر2023 ء سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت میں اب تک 72 ہزار 549 فلسطینی شہید اور1 لاکھ 72 ہزار 274 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ادھرایران جنگ کے تنازعے کے باعث عالمی برادری کی توجہ غزہ کے سنگین بحران سے ہٹ گئی۔غزہ پٹی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک مستحکم جنگ بندی کرانے کی کوششیں کئی مہینوں سے جاری ہیں لیکن اب تک بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔
گزشتہ اتوار کے روز حماس کا ایک وفد قاہرہ روانہ ہوا تاکہ مصری ثالثوں کے ساتھ جنگ بندی کے عمل کے اگلے مراحل پر بات چیت کی جا سکے۔ توجہ اب بھی جنگ بندی کے پہلے مرحلے سے متعلق حل طلب مسائل پر مرکوز ہے جس پر چھ ماہ سے زیادہ عرصہ قبل اتفاق کیا گیا تھا۔
ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ آیا دوسرا اور سب سے بڑھ کر آخری مرحلہ حاصل کرنا ممکن بھی ہے یا نہیں۔ ناروے ریفیوجی کونسل نے 10 اپریل کے روز کہا تھاجنگ بندی کے چھ ماہ بعد بھی غزہ پٹی کے شہری عام لوگوں پر حملوں، محدود امداد اور ایک غیر یقینی سیاسی عمل کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی حملوں سے شدید تباہ ہونے والی غزہ کی اسلامی یونیورسٹی کے کیمپس کے اندر بے گھر فلسطینی خاندان عارضی خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں میں رہ رہے ہیں۔اسی دوران غزہ پٹی میں انسانی صورتحال بدستور نہایت نازک ہے اور کئی مقامات پر یہ مزید خراب ہو گئی ہے۔
عام شہری اب بھی سامان کی قلت، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کے علوم کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سائمن وولفگانگ فکس نے ڈی ڈبلیو کو بتایا”صورتحال تنزلی کے دائرے میں داخل ہو چکی ہے، جب امدادی سامان کی ترسیل ہو بھی جاتی ہے، تب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار رہتی ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے اتوارکو رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان کے ان حصوں کو تین زونز میں تقسیم کر دیا ہے جن پر اس کا کنٹرول ہے۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت احارانوت کے مطابق، سرخ لکیر (ریڈ لائن)سے مراد ان دیہات کی پہلی قطار ہے جو براہِ راست اسرائیل،لبنان سرحد پر واقع ہیں۔
اخبار کا کہنا ہے کہ وہاں زیادہ تر عمارتیں پہلے ہی تباہ ہو چکی ہیں اور اب اس علاقے میں ایران کے حمایت یافتہ لبنانی گروپ حزب اللہ کا کوئی جنگجو موجود نہیں ہے۔ اس علاقے میں کچھ مقامات پر اسرائیلی زمینی فوج نے مستقل پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اسرائیلی فوج نے رابطہ کرنے پر ابتدائی طور پر اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔اخبار نے مزید بتایا کہ پیلی لکیر (یلو لائن)سرحد سے چھ سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اسرائیل نے اسی طرح کی یلو لائن غزہ پٹی میں بھی نافذ کی ہے جس کے نصف حصے پر اکتوبر 2025 ء میں جنگ بندی کے بعد سے اس کا قبضہ برقرار ہے۔ لبنان کے اس زون میں درجنوں دیہات شامل ہیں اور مبینہ طور پر فوج کا مقصد شمالی اسرائیل پر ہونے والی شیلنگ، خاص طور پر راکٹ حملوں کو روکنا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی زمینی فوج اب بھی اس زون میں تعینات ہے اور وہاں اب بھی جھڑپیں ہو رہی ہیں جن میں حزب اللہ کے گڑھ بنت جبیل کے ارد گرد کے علاقے شامل ہیں۔تیسری لکیر دریائے لیطانی تک پھیلی ہوئی ہے جو سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے۔
اخبار کے مطابق اس علاقے میں فوج بنیادی طور پر فائر پاور اور مشاہداتی چوکیوں کے ذریعے اپنا کنٹرول نافذ کرنا چاہتی ہے۔
علاوہ ازیںاسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں کو نشانہ بنایا ۔
لبنانی حکام کے مطابق جنگ بندی سے پہلے اسرائیلی حملوں میں 40 ہزار مکان یا تو مکمل تباہ ہوگئے یا انہیں شدید نقصان پہنچا ، لبنان پر اسرائیلی حملے میں یو این امن مشن کا فرانسیسی فوجی بھی مارا گیا۔ ادھر جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران ایک اسرائیلی فوجی ہلاک اور 9 سے زائدزخمی ہو گئے، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ زخمی 9 فوجیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
لبنان میں حکام نے جنگ بندی کے بعد جنوبی علاقوں میں تباہ شدہ سڑکوں کی بحالی کا آغاز کر دیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی بمباری سے تباہ شدہ پلوں اور اہم شاہراہوں کو دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے، برج رحال کے قریب بین الاقوامی شاہراہ پر ٹریفک جزوی طور پر بحال کر دی گئی۔
ادھرحزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے واضح پیغام دیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی یکطرفہ نہیں ہو سکتی۔ایک بیان میں حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جاری 10 روزہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار نہیں رہ سکتی جب تک دونوں فریق اس کی پاسداری نہ کریں، جنگ بندی کا مطلب تمام قسم کی دشمنیوں کا مکمل خاتمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے جنگجو لبنان میں اسرائیلی حملوں کا جواب دیتے رہیں گے، ہم دشمن پر اعتماد نہیں کرتے، مزاحمتی جنگجو میدان میں موجود رہیں گے اور ان کی انگلیاں ٹریگر پر ہوں گی۔
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتیرس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امن پسندوں پر حملے قابل قبول نہیں، لبنان میں امن پسندوں کے مارے جانے کا یہ حالیہ ہفتوں میں تیسرا واقعہ ہے، یہ حملے بند ہونے چاہئیں، فریقین جنگ بندی اور دشمنیوں کا خاتمہ کریں۔
قطر نے جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے عملے پر حملے کی مذمت کی ہے۔قطر کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ اس حملے میں جنوبی لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کے امن مشن میں شامل ایک فرانسیسی فوجی ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے، یہ حملہ بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

