کراچی/لاہور/ملتان:ملک بھر کے ہوائی اڈوں سے حج پروازوں کا ہفتہ سے باقاعدہ آغاز ہوگیا۔کراچی،لاہور اور ملتان سے656عازمین سعودیہ روانہ ہوگئے۔
کراچی سے نجی ایئر لائن کے ذریعے پہلی حج پرواز 160کو لے کر روانہ ہو گئی۔ عازمین حج کو گورنر سندھ نہال ہاشمی اور وزارت مذہبی امور کے اعلیٰ حکام نے رخصت کیا اور مبارک باد دی۔اس سال کراچی ایئر پورٹ سے 31 ہزار سے زائد عازمین حج روانہ ہوں گے۔
روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ کے تحت سعودی حکام عازمین حج کی ون ٹائم امیگریشن کراچی ایئر پورٹ پر ہی کرے گا۔گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کراچی ایئرپورٹ پر پہلی حج پرواز کی خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بڑے خوش نصیب لوگ ہیں جو حج پر جارہے ہیں۔
اللہ پاک سے آپ سب عازمین دعا کریں کہ ملک ترقی کرے ،پاکستان میں بسنے والوں کے لیے دعا کریں، رزق حلال کمانے کی کوشش کے لیے دعا کریں۔
ادھرروٹ ٹو مکہ کے سعودی پروجیکٹ کے تحت لاہور سے پہلی حج پرواز 345 عازمین کو لے کر مدینہ منورہ روانہ ہو گئی۔سعودی ایئرلائن کی پرواز SV5735صبح ساڑھے 10بجے لاہور سے روانہ ہوئی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق، صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان، سعودی سفیر نواف سعید المالکی، وفاقی سیکرٹری مذہبی امور ابرار احمد مرزا اور روٹ ٹو مکہ پراجیکٹ کے سربراہ میجر جنرل ڈاکٹر صالح بن سعد المیرابا نے عازمین حج کو رخصت کیا۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور دیگر مقررین نے بہترین سہولیات کی فراہمی اور تعاون پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد محمد بن سلمان، سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر توفیق بن ربیعہ اور سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر لاہور سے روانہ ہونے والے پاکستانی عازمین حج نے حکومت پاکستان کی کاوشوں پر شکریہ ادا کیا۔
ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پری حج آپریشنز 2026ء کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں ائیربلیو کی پرواز PA-876 کے ذریعے 151 عازمینِ حج کو مدینہ منورہ روانہ کیا گیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی تھے۔ دیگر مہمانوں میں میاں محمد کاظم پیرزادہ (صوبائی وزیر آبپاشی)، رانا عبد المنان ساجد (رکن صوبائی اسمبلی) اور بیگم مقصودہ انصاری (رکن صوبائی اسمبلی)شامل تھے۔
اس موقع پر سی او او/اے پی ایم ایم انور ضیا، ڈائریکٹر حج ریحان عباس کھوکھر، ڈائریکٹر ٹرمینل آپریشنز ایئر بلیو کنور یاسر، ڈائریکٹر کمرشل ایئر بلیو ایم شفیق جبکہ اے ایس ایف، ایف آئی اے اور اے این ایف کے افسران بھی موجود تھے۔
مہمانِ خصوصی نے ایئرپورٹ انتظامیہ اور ڈائریکٹوریٹ حج کی جانب سے عازمینِ حج کو فراہم کی جانے والی سہولیات کو سراہا اور حج کے مقدس سفر کی اہمیت پر زور دیا۔
دوسری جانب قومی ایئر لائن (پی آئی اے) نے حج 2026ء کے لیے اپنے قبل از حج آپریشن کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے تحت 19 اپریل سے عازمینِ حج کی روانگی شروع ہو جائے گی۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق رواں سال 191 پروازوں کے ذریعے مجموعی طور پر 55 ہزار سے زائد عازمین کو حجازِ مقدس پہنچایا جائے گا۔
ان میں سرکاری اسکیم کے تحت 49 ہزار اور پرائیویٹ حج گروپس کے 6 ہزار سے زائد عازمین شامل ہیں۔یہ آپریشن اسلام آباد، کراچی، لاہور، ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ اور کوئٹہ سے براہِ راست پروازوں کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔
شیڈول کے مطابق قبل از حج آپریشن کی پہلی پرواز پی کے 747 سیالکوٹ سے 19 اپریل کی رات 01:55 بجے 390 سے زائد عازمین کو لے کر مدینہ منورہ روانہ ہوگی۔اسی روز فیصل آباد سے بھی ایک پرواز 150 عازمین کو لے کر روانہ ہوگی۔
ملتان سے پہلی حج پرواز 20 اپریل، اسلام آباد اور کوئٹہ سے 21 اپریل، کراچی سے 23 اپریل جبکہ لاہور سے پہلی پرواز 24 اپریل کو روانہ ہوگی۔ترجمان نے مزید بتایا کہ اسلام آباد سے 15,400 سے زائد، کراچی سے 15,000، لاہور سے 12,377، ملتان سے 5,383، کوئٹہ سے 4,487، فیصل آباد سے 3,680 اور سیالکوٹ سے 2,075 عازمین کو سعودی عرب پہنچایا جائے گا۔
پی آئی اے کا یہ قبل از حج آپریشن 21 مئی کو اختتام پذیر ہوگا۔ سی ای او پی آئی اے نے تمام ٹیموں کو ہدایت کی ہے کہ عازمین کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے، جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے ایئرپورٹس پر پی آئی اے کا عملہ عازمین کی رہنمائی کے لیے ہمہ وقت موجود رہے گا۔
دریں اثناء وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے تصدیق کی ہے کہ رواں سال عازمین حج کیلئے سہولیات کو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں مزید بہتر بنایا جا رہا ہے، عازمین پاکستان سے پہلی حج پرواز کی روانگی کے ساتھ ہی نظم و ضبط کے ساتھ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
ایک انٹرویومیں سردار محمد یوسف نے حجاج کرام کے لیے دعا کرتے ہوئے ان کے لیے محفوظ سفر کی خواہش اور کسی بھی قسم کی پریشانی سے پاک سفر کیلئے امید کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر نے عازمین حج پر زور دیا کہ حج کے دوران سعودی قوانین کی مکمل پابندی کریں کیونکہ ان ضوابط کی پابندی پاکستان اور میزبان ملک کی اچھی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مقامی قوانین کے احترام سے تمام حاجیوں کی حفاظت اور وقار کو یقینی بنایا جائے گا۔

