حکومت کا ملکی طلب سے اضافی چینی برآمد کرنے پر غور

لاہور:حکومت نے ملکی طلب سے اضافی چینی برآمد کرنے کیلئے گرین سگنل دیدیا تاہم کسی بھی صورتحال سے بچنے کیلئے ایک بار پھر تمام تر صورتحال کا جائزہ اور فیڈرل بورڈ آف ریو نیو سے رپورٹ لینے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔چینی برآمد کرنے کا جائزہ لینے کیلئے اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی سیکرٹری صنعت سیف انجم ،ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

اجلاس میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا ء اشرف بھی شریک ہوئے ۔چیئرمین شوگر ملز ایسوسی ایشن چوہدری ذکا ء اشرف نے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستیں، افغانستان اور چین پاکستانی سفید چینی کیلئے بڑی منڈیاں ہیں، اس کرشنگ سیزن کے آغاز میں 2 لاکھ 71 ہزار ٹن چینی کا ذخیرہ موجود تھا، 25 مارچ 2026 کے اعداد وشمار کے مطابق اب تک تقریباً 75 لاکھ ٹن چینی پیدا ہوئی ہے چونکہ چند ملوں میں ابھی تک کرشنگ جاری ہے اس لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ چینی کی پیداوار 77 لاکھ ٹن تک پہنچ جائے گی جبکہ ایک لاکھ ٹن چینی چقندر سے بھی حاصل ہوگی۔

لہٰذااس دفعہ کرشنگ سیزن کے اختتام تک چینی کا مجموعی اسٹاک 80 لاکھ 71 ہزار ٹن موجود ہو گا جبکہ 13 ماہ کی کھپت تقریباً 70 لاکھ 20 ہزار ٹن ہے ، اعدادوشمار کے مطابق اس مرتبہ تقریباً 10 لاکھ 50 ہزار ٹن اضافی چینی موجود ہو گی۔ اجلاس میں موجود وفاقی سیکرٹری صنعت سیف انجم نے چینی کی برآمد کیلئے گرین سگنل دیا تاہم شرکا ء نے تمام تر صورتحال کا ایک بار پھر جائزہ لے کر فیصلہ کرنے پر اتفاق کیا،اس حوالے سے ایک بار پھر ایف بی آر سے رپورٹ لی جائے گی۔