ڈیجیٹل دور میں اخلاقیات!

جدید دور میں سوشل میڈیا کے آنے کے بعد لوگوں کے اخلاق تیزی سے تباہ ہو رہے ہیں۔ آئیے! دیکھتے ہیں کہ قرآن و حدیث اس حوالے سے ہماری کیا رہنمائی کرتے ہیں۔ اخلاقیات کا لفظ عربی زبان کے لفظ خلق سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ”عادات، اطوار یا کردار” کے ہیں۔ لغوی اعتبار سے اخلاقیات سے مراد وہ اصول اور عادات ہیں جو کسی شخص کے اندرونی کردار کی عکاسی کریں۔ قرآن مجید نے اخلاقیات پر بہت زیادہ زور دیا ہے اور متعدد آیات میں اچھے اخلاق کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے روکتا ہے۔”(سورة النحل، آیت 90)

اسلامی تعلیمات میں اخلاقیات کی کئی اقسام بیان کی گئی ہیں، جن میں انفرادی، اجتماعی اور روحانی اخلاقیات شامل ہیں۔ انفرادی اخلاقیات سے مراد وہ اصول ہیں جو انسان کو اپنے ذاتی معاملات میں نیک کردار اور صحیح رویے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ ان اخلاقیات میں دیانت داری، انصاف، عفت اور پاک دامنی وغیرہ شامل ہیں۔ دیانت داری کو اسلام میں ایک عظیم صفت قرار دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں بیان فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:”جو شخص دیانت دار ہے، وہ نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔”(ترمذی شریف)دوسرے نمبر پر اجتماعی اخلاقیات آتی ہیں۔ اس سے مراد وہ اصول ہیں جو معاشرتی زندگی میں انسان کے کردار کو بہتر بناتے ہیں۔ ان اصولوں میں بندوں کے حقوق، انصاف، عدل، احترام، بھائی چارہ اور مساوات شامل ہیں۔

قرآن مجید میں اجتماعی اخلاقیات پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی میں تعاون نہ کرو۔”(سورة المائدہ، آیت 2)تیسرے نمبر پر روحانی اخلاقیات کا ذکر آتا ہے۔ یہ وہ اصول ہیں جو انسان کی روحانی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ ان اصولوں میں اخلاص، تقویٰ اور صبر شامل ہیں۔ قرآن مجید نے روحانی اخلاقیات پر بھی زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”بے شک اللہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”(سورة البقرہ، آیت 194)اسلام نے جن اخلاقیات پر زور دیا ہے وہ دیگر مذاہب کے مقابلے میں بہت بالاتر ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔”(بخاری شریف)قرآن مجید نے روزمرہ اخلاقیات کے حوالے سے بہت واضح، فیصلہ کن اور حتمی ہدایات دی ہیں۔٭ قرآن مجید انصاف کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔”(سورة النحل، آیت 90)٭ قرآن مجید انسانوں کو عفو و درگزر کا بھی حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”بھلائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی، برائی کو بہتر طریقے سے دور کرو، پھر وہی شخص جو تمہارا دشمن تھا گہرا دوست بن جائے گا۔”(سورة حم السجدہ، آیت 34)

حضرت یوسف علیہ السلام کا اپنے بھائیوں کو معاف کر دینا اس کی بہترین مثال ہے، جہاں انہوں نے اپنے بھائیوں کے ظلم کے باوجود انہیں معاف فرما دیا۔ (سورة یوسف، آیت 92) قرآن مجید سچائی اور امانت داری کا بھی حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ ہو جاؤ۔”(سورة التوبہ، آیت 119)٭ اسی طرح عدل و انصاف کے بارے میں فرمایا:”بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت داروں کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل سے فیصلہ کرو۔”(سورة النسائ، آیت 58)٭ قرآن مجید صبر و برداشت کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”اور ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، جان و مال کے نقصان اور آمدنیوں کے گھاٹے سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دو۔”(سورة البقرہ، آیت 155)قرآن مجید نے انبیاء کرام کے اعلیٰ اخلاق اور اوصاف کو بھی بطورِ خاص ذکر فرمایا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حلیم اور بردبار قرار دیا گیا اور ان کے صبر، قربانی اور توکل پر روشنی ڈالی گئی۔

حضرت یوسف علیہ السلام کا کردار بھی قرآن مجید میں اعلیٰ اخلاق، صبر اور عفت کا مثالی نمونہ ہے، اسی لیے ان کے قصے کو” احسن القصص” کہا گیا۔صحابہ کرام کے اچھے اخلاق کا ذکر بھی قرآن مجید میں موجود ہے۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صداقت، سخاوت اور استقامت کو قرآن کریم نے سراہا اور اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ (سورة اللیل، آیات 18ـ19)

علاوازیں احادیثِ نبویہ میں بھی اخلاقیات پر بے شمار تعلیمات ملتی ہیں۔٭ ایک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مومنوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔”(ترمذی شریف) اسی طرح ایک اور حدیث شریف میں فرمایا:”سچ بولنا نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔”(بخاری شریف)حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید نے اخلاقِ حسنہ کا بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سخت ترین دشمنوں کو معاف فرما کر فرمایا:”جاؤ، تم سب آزاد ہو۔”(بخاری شریف، حدیث 4286) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک کا بھی بہترین نمونہ پیش فرمایا، گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹاتے، اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارتے اور ان کی دل جوئی فرماتے۔

جدید دور میں تیز رفتار معاشرتی تبدیلیوں نے مسلمانوں کے اخلاق پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ بدقسمتی سے بد اخلاقیاں بڑھتی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ناچاقیاں اور اختلافات پیدا ہو رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال نے گھریلو زندگی، اداروں اور اخلاقی اقدار کو متاثر کیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن و حدیث کی اخلاقی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ کو عملی نمونہ بنا کر پیش کریں تاکہ آج کے ڈیجیٹل دور میں ہم اپنی زندگی کو پر سکون رکھ سکیں۔