مشرق وسطی میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی ظاہر ہونے لگے ہیں، جہاں مارچ کے مہینے میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ میں مہنگائی کی ماہانہ شرح 1.18 فیصد بڑھی، جبکہ سالانہ بنیادوں پر یہ شرح 7.30 فیصد تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ، یعنی جولائی سے مارچ تک مہنگائی کی اوسط شرح 5.67 فیصد رہی۔
شہری علاقوں میں مہنگائی میں نسبتاً زیادہ اضافہ دیکھا گیا، جہاں مارچ میں قیمتوں میں 1.34 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 0.96 فیصد رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق شہری علاقوں میں چکن کی قیمت میں 13 فیصد اور پھلوں کی قیمت میں 11.25 فیصد اضافہ ہوا۔
اسی طرح سبزیاں 5.01 فیصد اور دال ماش 2.78 فیصد مہنگی ہوئیں۔ گوشت کی قیمت میں 1.53 فیصد جبکہ خشک میوہ جات میں 0.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب کچھ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی۔ مارچ میں شہری علاقوں میں ٹماٹر 29.16 فیصد، انڈے 17.96 فیصد سستے ہوئے، جبکہ آلو 12.02 فیصد اور گندم 5.48 فیصد تک سستی ہوئی۔
مجموعی طور پر شہری علاقوں میں بعض اشیا کی قیمتوں میں 2.11 فیصد کمی بھی نوٹ کی گئی۔
ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبے میں بھی نمایاں اضافہ سامنے آیا، جہاں ٹرانسپورٹ سروسز 9.15 فیصد مہنگی ہوئیں، موٹر فیول کی قیمت میں 18.01 فیصد جبکہ بجلی کی قیمت میں 5.08 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دیہی علاقوں میں بھی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جہاں پھل 14.68 فیصد، سبزیاں 6.84 فیصد، چکن 6.76 فیصد اور دال ماش 2.07 فیصد مہنگی ہوئیں۔
تاہم یہاں بھی کچھ اشیا سستی ہوئیں، جن میں ٹماٹر 27.47 فیصد، انڈے 20.69 فیصد، آلو 18.02 فیصد اور گندم 4.88 فیصد سستی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطی کی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور ترسیل کے اخراجات بڑھنے سے پاکستان میں مہنگائی پر دبا برقرار رہنے کا امکان ہے۔

