ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ نے نہ صرف مشرقِ وسطی بلکہ پوری دنیا کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے، مگر اس جنگ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے امریکا کی طاقت، حکمتِ عملی اور قیادت، خصوصاً صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بظاہر ایک سپر پاور ہونے کے باوجود امریکا اس جنگ میں وہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا جن کا اس نے آغاز میں دعویٰ کیا تھا۔ اس ناکامی کا سب سے واضح اظہار خود امریکی صدر کے متضاد، مبالغہ آمیز اور بعض اوقات مضحکہ خیز بیانات میں نظر آتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ بیانیے کی سطح پر بھی امریکا کے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔
جنگ کے آغاز میں امریکی حکمتِ عملی واضح تھی۔ ایران کی قیادت کو ختم کرنا، اس کے دفاعی نظام کو تباہ کرنا اور بالآخر رجیم چینج کے ذریعے ایک نیا سیاسی نظام مسلط کرنا۔ مگر چند ہی ہفتوں میں یہ منصوبہ غیر حقیقت پسندانہ ثابت ہوا۔ اگرچہ ایران کو نقصان ضرور پہنچا، مگر ریاستی ڈھانچہ برقرار رہا، نئی قیادت سامنے آ گئی اور مزاحمت بھی جاری رہی۔ اس کے باوجود صدر ٹرمپ بار بار یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ایران میں رجیم چینج ہو چکی ہے۔ یہ دعویٰ نہ صرف زمینی حقائق کے برعکس ہے بلکہ خود امریکی بیانیے کی کمزوری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی ملک میں واقعی نظام تبدیل ہو جائے تو اس کے واضح سیاسی، آئینی اور انتظامی آثار سامنے آتے ہیں، مگر ایران میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس کے باوجود اس طرح کے بیانات دینا دراصل اپنی ناکامی کو کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح صدر ٹرمپ کے بیانات میں تضاد اور غیر سنجیدگی بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ ایک طرف وہ یہ کہتے ہیں کہ جنگ تقریباً ختم ہو چکی ہے اور اب نشانہ بنانے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا، جبکہ دوسری طرف وہ مزید حملوں کی دھمکیاں بھی دیتے ہیں۔ یہ تضاد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نہ تو جنگ کے اہداف واضح ہیں اور نہ ہی اس کے اختتام کی کوئی سنجیدہ حکمتِ عملی موجود ہے۔
مزید برآں اس جنگ نے امریکی سفارتی حکمتِ عملی کی کمزوریوں کو بھی آشکار کیا ہے۔ ایک طرف امریکا مذاکرات کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف عسکری دباؤ بڑھاتا ہے، جس سے اس کی سنجیدگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی امریکا کو اس جنگ کے باعث تنقید کا سامنا ہے، جبکہ کئی اتحادی ممالک کھل کر اس کی پالیسیوں کی حمایت کرنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔ اس صورتحال نے امریکا کی عالمی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے محدود وسائل کے باوجود صبر و تحمل اور تدریجی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے باعث وہ نہ صرف اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ عالمی سطح پر خود کو ایک مزاحم قوت کے طور پر بھی منوا سکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جنگ اب محض عسکری نہیں رہی بلکہ ایک نفسیاتی اور سفارتی معرکہ بھی بن چکی ہے، جس میں امریکا کو غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور انہیں وہاں سے ایک بڑا تحفہ بھی ملا ہے، حالانکہ ایرانی حکام نے ان تمام دعوؤں کی تردید کی۔ یہ صورتحال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ امریکی قیادت نہ صرف میدانِ جنگ میں دباؤ کا شکار ہے بلکہ سفارتی سطح پر بھی اپنی پوزیشن واضح کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر مضحکہ خیز بات وہ بیانات ہیں جن میں یہ تاثر دیا گیا کہ ایران نے ٹرمپ کو اپنا سپریم لیڈر بنانے کی پیش کش کی، جس پر انہوں نے شکریہ کے ساتھ انکار کر دیا۔ اس قسم کے بیانات سنجیدہ بین الاقوامی سیاست کی بجائے ایک مذاق معلوم ہوتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کس طرح ایک بڑی جنگ کو بھی بیانیے کے ذریعے ہلکا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ درحقیقت یہ بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ امریکا اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے غیر سنجیدہ دعووں کا سہارا لے رہا ہے۔
امریکی ناکامی کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس جنگ نے عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور عالمی تجارت میں رکاوٹوں نے نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ خود امریکا کی معیشت کو بھی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی مہنگائی اور اقتصادی سست روی کی صورت میں مزید نمایاں ہوں گے۔ مزید برآں یہ حقیقت بھی نہایت اہم ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکا نے مذاکرات کے مواقع کو بھی ضائع کیا۔ رپورٹس کے مطابق جنگ سے قبل اور دوران کم از کم دو مواقع ایسے آئے جب سفارتی حل ممکن تھا مگر ان ہی ادوار میں حملے کر کے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کر دیا گیا۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ امریکا خود بھی واضح حکمتِ عملی کے بغیر اس جنگ میں داخل ہوا اور اب نکلنے کے لیے راستہ تلاش کر رہا ہے۔
یہ تمام صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ امریکا اس جنگ میں نہ صرف اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے بلکہ اسے اپنی ساکھ، معیشت اور سفارتی حیثیت کے حوالے سے بھی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے بیانات، چاہے وہ رجیم چینج کے دعوے ہوں، خفیہ مذاکرات کی باتیں ہوں یا غیر سنجیدہ نوعیت کے دعوے، درحقیقت اس ناکامی کو چھپانے کی ایک کوشش معلوم ہوتے ہیں۔ ایران جنگ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ جدید دور میں طاقت کا استعمال ہمیشہ کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ امریکا جیسے طاقتور ملک کے لیے بھی یہ جنگ ایک مشکل امتحان بن چکی ہے، جہاں نہ تو واضح فتح نظر آ رہی ہے اور نہ ہی باعزت واپسی کا راستہ۔ ایسے میں بیانات کا سہارا لینا وقتی طور پر بیانیہ تو بنا سکتا ہے مگر حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ یہ جنگ شاید میدان میں نہیں بلکہ حقیقت اور دعووں کے درمیان لڑی جا رہی ہے اور فی الحال اس میں سچائی کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔

