غزہ اور لبنان میں اسرائیل کے تابڑ توڑ حملے

غزہ:غزہ کے جنوبی شہر خان یونس پر ہفتے کی دوپہر قابض اسرائیل کے فضائی حملے میں ایک اور شہری جام شہادت نوش کر گیا ہے جس کے بعد ہفتے کو شہید ہونے والوں کی کل تعداد تین ہو گئی ہے۔ اس سے قبل ہفتے کی صبح ہی غزہ کے مشرق میں قابض فوج کی فائرنگ سے دو بھائی شہید ہوئے تھے۔

غیرملکی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ خان یونس شہر کے مشرق میں واقع بنی سہیلہ چوک کے قریب قابض اسرائیل کے فضائی حملے میں خان یونس کے مشرقی قصبے خزاعہ کے پناہ گزین نوجوان احمد فائز ابو ریدہ شہید ہو گئے جبکہ ایک اور شہری زخمی ہوا۔

اسی طرح ہفتے کی صبح غزہ شہر کے مشرقی حصے میں قابض اسرائیل کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں دو بھائی شہید اور متعدد زخمی ہوئے جس سے سیز فائر کے حوالے سے قابض دشمن کی جانب سے جاری مسلسل خلاف ورزیاں ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہیں۔

ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ غزہ شہر کے مشرق میں قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے شہری فہمی اور سائد قدوم شہید ہو گئے جبکہ دیگر کئی افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

دریں اثنا، غزہ شہر کے جنوب مشرقی محلے زیتون میں بھی قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے ایک شہری زخمی ہوا۔قابض اسرائیل کے ایک کواڈ کاپٹر ڈرون نے بھی غزہ شہر کے مشرقی حصوں میں بمباری کی اور اندھا دھند فائرنگ کی۔

عینی شاہدین کے مطابق قابض اسرائیل کے ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں نے غزہ شہر کے مشرق میں واقع محلہ التفاح کے مشرقی علاقوں پر گولہ باری کے ساتھ ساتھ شدید فائرنگ کی۔

وزارت صحت نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ گذشتہ 11 اکتوبر سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 692 اور زخمیوں کی تعداد 1,895 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ملبے تلے سے 756 افراد کو نکالا جا چکا ہے۔

ادھرجنوبی لبنان پر اسرائیلی فوج کے حملے میں 2 لبنانی صحافیوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔عرب اور لبنانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے میں لبنانی چینل کی گاڑی کونشانہ بنایا گیا،جاں بحق صحافیوں میں ایک خاتون صحافی فاطمہ فتونی بھی شامل ہیں۔

دوسرے صحافی علی شعیب ہیں۔لبنان کے صدر جوزف عون نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ جرم اس بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت جنگ کے دوران صحافیوں کو تحفظ فراہم حاصل ہوتا ہے۔

علاوہ ازیںحماس نے جنوبی لبنان میں صحافیوں کی گاڑی پر قابض اسرائیلی فوج کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں المنار ٹی وی کے نامہ نگار علی شعیب، المیادین کی نامہ نگار فاطمہ فتونی اور فوٹو جرنلسٹ محمد فتونی جاں بحق ہو گئے۔

حماس نے ہفتے کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ آپریشن ایک ایسا سفاکانہ جرم ہے جو قابض حکومت کی جانب سے صحافیوں کے خلاف اپنائی گئی اس منظم پالیسی کا تسلسل ہے جس کا مقصد حق کی آواز کو دبانا ہے اور یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔