اسپیس ایکس کا اسٹار شپ راکٹ دھماکے سے تباہ

لندن:انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور طاقتور ترین راکٹ زمین کے مدار کے گرد کامیاب آزمائشی پرواز کے بعد واپس اترتے ہوئے بہت بڑے آگ کے گولے میں تبدیل ہوگیا۔

22مئی کی شب ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے اسٹار شپ کی12ویں آزمائشی پرواز کا تجربہ کیا اور راکٹ کو کامیابی سے لانچ کیامگر جب یہ راکٹ واپس لینڈ کر رہا تھا تو بحر ہند میں اترنے سے قبل دھماکے سے وہ آگ کے گولے میں تبدیل ہوگیا۔

اس راکٹ کو22مئی کی شب امریکی ریاست ٹیکساس میں واقع اسٹار بیس سے لانچ کیا گیا تھا۔کمپنی کی جانب سے راکٹ اور اس میں موجود اسپیس کیپسول کی آزمائش کی جا رہی تھی کیونکہ اسٹار شپ کے تیسرے ورژن کو ناسا کی جانب سے خلا بازوں کو چاند پر پہنچانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

خلائی پرواز کا تجربہ تو کامیاب رہا مگر مکمل طور پر کامیاب نہیں تھا کیونکہ6میں سے ایک انجن نے کام کرنا چھوڑدیا، جس کے باعث باقی5انجنوں کو زیادہ ایندھن جلانا پڑا۔اس کے باوجود راکٹ نے اپنا مشن مکمل کیا اور زمین کے مدار میں کامیابی سے دوبارہ داخل ہوا اور لینڈنگ کے عمل کو بھی مکمل کیامگر سمندر میں اترنے سے قبل دھماکے سے تباہ ہوگیا۔

کمپنی کی جانب سے اسٹار شپ کے تیسرے ورژن کی آزمائش کی گئی تھی جس میں ماضی کی آزمائشی پروازوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کافی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔اسپیس ایکس اسٹار شپ کے اس نئے ورژن کو انسانوں اور سامان کو مریخ پر بھیجنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور اسے مدار میں ری فیول کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ وہ مریخ کا طویل سفر طے کرسکے۔

اسٹار شپ کی مسلسل ناکامیاں ایلون مسک کی کمپنی کے لیے بڑا دھچکا ہے جو خلائی پروگرام کو تیز کرنا چاہتی ہے۔واضح رہے کہ اسٹار شپ کو دنیا کا سب سے طاقتور راکٹ لانچ قرار دیا جاتا ہے جو2حصوں پر مشتمل ہے جس میں سے ایک سپر ہیوی بوسٹر ہے جو ایسا بڑا راکٹ ہے جس میں33انجن موجود ہیں جبکہ دوسرا اسٹار شپ اسپیس کرافٹ ہے جو بوسٹر کے اوپر موجود ہے جو اس سے الگ ہو جاتا ہے۔

یہ راکٹ 120 میٹر لمبا ہے جس کا وزن 50 لاکھ کلوگرام ہے اور اسے بار بار استعمال کرنا ممکن ہوگا۔اسپیس ایکس پہلے ہی امریکی خلائی ادارے ناسا سے معاہدہ کر چکی ہے جس کے تحت اسٹار شپ کے ذریعے دہائیوں بعد پہلی بار انسانوں کو چاند پر پہنچایا جائے گا۔ناسا کی جانب سے آرٹیمس3مشن کے تحت انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارا جائے گا اور یہ کام اسٹار شپ کی مدد سے ہوگا۔