اِس وقت ایران اورامریکا واسرائیل کے درمیان خون ریز جنگ جاری ہے، یہ پوری طرح امریکا اور اسرائیل کے ظلم وسفاکیت ،جھوٹ اور دھوکا دہی پر مبنی ہے، دنیا میں نیوکلیئر حملہ کے دوسنگین واقعات جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی میں ہوئے ہیں، جس میں لاکھوں لوگوں کی جان چلی گئی، بے شمار لوگ زخمی ہوئے، کئی شہر خاک وخون میں مل گئے،یہ امریکا کا کارنامہ تھا، اس وقت بھی امریکا کے پاس دنیا کے سب سے زیادہ یا دوسرے نمبر پر نیوکلیئر ہتھیار ہیں، جنگ ہی اس کے لیے سب سے بڑا ذریعہ معاش ہے،اس شرپسند ملک نے اب تک چارسو جنگیں لڑی ہیں، اس کی دو سواڑتالیس سالہ تاریخ میں بمشکل بیس سال ایسے گزرے ہیں، جس میں وہ کسی جنگ کا حصہ نہیں تھا(کانگریشنل ریسرچ سروس کی تحقیق)امریکا جنگ کرنے کے ساتھ دوسروں کو آپس میں لڑانے اور ان کو ہتھیار بیچنے کاکام بھی بہت مستعدی سے کرتاہے، موجودہ دور میں اس کی خاص توجہ خلیجی ملکوں کی طرف ہے، کیونکہ ان ملکوں کی زمین میںبھی اورسمندر میں بھی دولت کا بے پناہ خزانہ موجود ہے اوراس کے لیے اس نے اپنی ناجائز اولاد اسرائیل کو استعمال کرنے کا بھرپور انتظام کیاہے،اس کے پیچھے ایک خفیہ جذبہ اسلام دشمنی کا بھی ہے، اگرچہ عام طورپر بہت ہی خفیہ سازش کے ساتھ مسلمانوں کیخلاف عمل کیاجاتاہے لیکن کبھی کبھی یہ سچائی ان کی زبان پر بھی آجاتی ہے۔
اس وقت امریکا اوراسرائیل نے خود ایران پر حملہ کیاہے، انہوں نے سراسر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرکے یہ ظالمانہ قدم اٹھایاہے،یہ کھلاہوا راز ہے کہ اسرائیل نیوکلیئر عزائم رکھتاہے، غیرعلانیہ جوہری ترقی کے راستہ پر گامزن ہے، اس نے کبھی واضح طورپر یہ اعلان نہیں کیاکہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنارہاہے، اورنہ اس نے اس سے دور رہنے کا وعدہ کیا لیکن اس پر امریکا کی طرف سے کوئی دبائو نہیںبلکہ ہرطرح اس کی مدد کی جاتی ہے، لیکن ایران جس نے نہ جوہریتجربہ کیا، وہ صاف طورپر وعدہ کرتاہے کہ وہ جنگی مقاصد کے لیے جوہری ہتھیار کا استعمال نہیں کرے گابلکہ پرامن مقاصد کے لیے ان کا استعمال کرے گا، اس کو حملہ کا نشانہ بنایاجارہاہے، دنیا کے انصاف پسند لوگ ایران پر ہونے والی زیادتی کو محسوس کررہے ہیںمگر خوف اور لالچ نے ان کی زبانوں کو بند کررکھاہے۔
اس وقت ضرورت ہے کہ پوری امت مسلمہ اور عالم اسلام ایک زبان اور ایک دل ہوکر ایران کے ساتھ کھڑے ہوں اور امریکا واسرائیل کی مخالفت کریںمگر اسلام دشمن طاقتوں نے مسلمانوں میں اورعالم اسلام میں اختلاف بھڑکانے کیلئے شیعہ سنی لڑائی پیداکرنے اور اس کو بڑھانے کی کوشش کی ہے اورافسوس کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور دینی علوم سے آراستہ لوگ بھی اس سازش کا شکار ہورہے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ اہل سنت اوراہل تشیع صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں، بیشتر مسلم ممالک میں جہاں اہل سنت کی اکثریت ہے، وہیں ایک قابل لحاظ تعداد شیعہ حضرات کی بھی ہے،کہاجاتاہے کہ خود سعودی عرب میں بیس فیصد شیعہ آبادی ہے، مدینہ منورہ میں بھی شیعہ حضرات کی اچھی خاصی آبادی ہے، بعض ممالک جہاں شیعوں کی اکثریت ہے، وہاں بڑی تعداد میں اہل سنت بھی آباد ہیں، خود ایران کے صوبہ زاہدان میں غالب آبادی اہل سنت کی ہے، کہاجاتاہے کہ تہران میں بیس فیصد اہل سنت ہیں، عراق میں دونوں طبقوں کی آبادی قریب قریب برابر ہے۔یمن میں اہل تشیع کے فرقہ زیدیہ بڑی تعداد میں ہیں، پاکستان میں غالبا دس فیصد شیعہ ہیں، روس سے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں میں اہل سنت کے ساتھ ساتھ اہل تشیع کی بڑی آبادی ہے، بلکہ آذربائیجان میں تو شیعہ اکثریت ہے،ہمارے ملک ہندوستان میں بھی یہ دونوں گروہ ہمیشہ سے ساتھ ساتھ رہتے آئے ہیں، لکھنو اورحیدرآباد میں شیعہ کی آبادی اچھی خاصی ہے لیکن اکثرشہروں میں اہل سنت اکثریت کے ساتھ شیعہ اقلیت میں ہیں۔حلقہ دیوبند کے سرخیل حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کے وطن نانوتہ میں بھی شیعہ حضرات قابل لحاظ تعداد میں موجود ہیں، غرض کہ عالمی اور ملکی سطح پر بھی مغرب سے مشرق تک ہر جگہ اہل سنت اوراہل تشیع دونوں آباد ہیں، سیاسی ،تجارتی، اورسماجی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کررہتے ہیں ، ایک دوسرے کے قائم کیے ہوئے تعلیمی اداروں اور خدمت خلق کے مراکزسے استفادہ کرتے ہیں، افغانستان میں بھی جو علاقہ ایران سے متصل ہے، وہاں شیعہ حضرات کی اکثریت ہے، اور وہ شدت پسند سمجھے جانے والے طالبان کی حکومت میں اپنی پوری مسلکی پہچان کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔
اوریہ کوئی سودوسوسال کی بات نہیں ہے بلکہ زمانہ قدیم سے ہی دونوں طبقے فکرو نظرکے اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں، اب یہی دیکھیے کہ بخاری شریف جو ہم اہل سنت کے نزدیک حدیث کا سب سے معتبر مجموعہ ہے، اس میں ستر کے قریب ایسے راوی ہیں، جن کے بارے میں شیعہ ہونے کی بات کہی گئی ہے، ان میں بعض تو وہ ہیںکہ جن کو پکا شیعہ یاغالی شیعہ قراردیاگیاہے۔دوسری طرف اہل سنت کے بہت سے علماء کی روایتیں شیعہ کتب میں لی گئی ہیں، جیسے قاضی حفص بن غیاث ،یہ ہارون الرشید کے زمانہ میں کوفہ اور بغداد کے قاضی رہے، شیعہ اہل علم سے منقول ہے کہ ان سے ایک سو ستر سے زیادہ روایتیں کتب شیعہ میں نقل کی گئی ہیں(کتاب الفہرست )طلحہ بن زید سنی عالم ہیںمگر ان کا شمار شیعہ کتب کے بڑے راویوں میں ہوتاہے، علامہ طوسی نے نقل کیاہے کہ ان کی کتاب معتبر ہے، اسی طرح بصرہ کے ایک بڑے عالم غیاث بن ابراہیم ہیں، ان کی روایت عام طورپر شیعہ مصنفین نے نقل کی ہے،شیعہ مسلک کے ایک بڑے عالم علامہ طوسی ہیں، انہوں نے بطور اصول یہ بات لکھی ہے کہ اگرکوئی راوی سنی ہے لیکن سچاہے تو اس کی حدیث قبول کی جائے گی۔(عد الاصول)
اس باہمی تعلق کا مظہر یہ ہے کہ کئی سنی علما ومحدثین سے شیعہ علما نے کسب فیض کیاہے، اورکئی شیعہ علما سے اہل سنت کے علما نے ، اسی طرح بعض اکابر اہل سنت ان بزرگوں کے شاگرد رہے ہیں، جن کو اہل تشیع اپناامام مانتے ہیں اور اہل سنت کے نزدیک وہ شیعہ نہیں تھے اوران کو بڑا اہم مقام حاصل تھا، جیسے امام جعفر صادق امام ابوحنیفہ اور امام سفیان ثوری ان کے شاگردوں میں ہیں، مشہور شیعہ کتاب الکافی میں ان سے روایات لی گئی ہیں، شعبہ بن حجاج جو اہل سنت کے امیرالمومنین فی الحدیث کہلاتے ہیں، شیعہ کتب میں ان سے بھی روایتیں لی گئی ہیں، اس سے ظاہر ہوتاہے کہ مسلکی اختلاف اور فکر ونظر میں دوریوں کے باوجود دونوں ایک دوسرے سے ربط وتعلق رکھتے تھے، مذہبی معاملات میں اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی مذہبی شخصیتوں سے علمی ودینی مسائل میں استفادہ اور افادہ بہت ہی قلبی کشادگی اور وسعت ذہن کی بات ہے۔
اگر اختلاف کو بڑھایاجائے اوراسے ہوادی جائے تو یہ امت کے لیے بے حد نقصان کا سبب ہوگا اورپوری امت کو کمزور کردے گا، ہمارے ملک میں اس وقت فرقہ پرست طاقتیں اورنفرت پھیلانے والی تنظیمیں بام اقتدار پر پہنچ چکی ہیں،ان کے کارندے ملک کے چپہ چپہ پر شرپھیلانے کاکام کررہے ہیں، وہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے میں شیعہ سنی کا کوئی فرق روانہیں رکھتے، اسی طرح غاصب اسرائیل شیعہ سنی کا فرق کیے بغیر تمام مسلم ممالک کو اپنے ظلم کا نشانہ بنارہاہے، ایسے مواقع پر اپنے مشترکہ دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلمانوں کو متحد ہوناچاہیے، ایک زمانہ میں کان پور میں شیعہ حضرات کے تعزیہ کے خلاف برادران وطن نے شورش برپاکرنی چاہی اورسوال یہ تھاکہ اس سلسلے میں اہل سنت کا کیا موقف ہو؟اس موقع پر حلقہ دیوبند کی نمایاں ترین شخصیت حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانوی نے تعزیہ کی تائید میں بیان دیا اور فرقہ پرست ہندوئوں کے مقابلہ میں شیعہ حضرات کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی، ان کے متوسلین نے دریافت کیاکہ آپ تو ہمیشہ تعزیت کی مخالفت کرتے تھے اور اسے بدعت کہتے تھے، اب آپ اس کی موافقت کررہے ہیں، حضرت تھانوی نے فرمایا: یہاں اہل سنت واہل تشیع کا مقابلہ نہیں ہے بلکہ ایمان اور کفر کا مقابلہ ہے، فرقہ پرست لوگ تعزیہ کو اسلام کی علامت سمجھ کر اس کی مخالفت کررہے ہیں، تواب ضروری ہے کہ ہم فرقہ پرستوں کی مخالفت کریں ۔
مشترکہ دشمن کے مقابلہ میں اپنی صفوں کو متحد رکھیں، عقل مندی کا تقاضایہی ہے اورعہدصحابہ سے مسلمانوں کا یہی طریقہ رہاہے ،جب خلیفہ برحق سیدناحضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ تعالی وجھہ اورحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف اپنے شباب پر تھا ،یہاں تک کہ ان کے درمیان صفین کے مقام پر جنگ بھی ہوچکی تھی، تورومی حکمرانوں نے اس سے فائدہ اٹھاناچاہا اور حضرت علی کے مقابلے میں حضرت معاویہ سے تعاون کرنے کی پیشکش کی،حضرت معاویہ نے اس کے جواب میں لکھا: روم کے کتے! اگرتونے ذرا بھی شرارت کی ،یاسرحد کی طرف قدم بڑھایا تویاد رکھ میرے اورمیرے بھائی علی کے درمیان صلح ہوجائے گی اور پہلا لشکر جو تیری طرف بڑھے گا، اس کا سپہ سالار علی ہوگا اورمیں اس کے جھنڈے تلے سپاہی بن کر زمین کو باوجود وسعت کے تجھ پر تنگ کردوں گا۔ (تاریخ ابن کثیر) (جاری ہے)

