جب سے ایران امریکا/اسرائیل جنگ کے حوالے سے پاکستان کی ثالثی کرانے کی خبریں آنے لگی ہیں، فنانشل ٹائمز، ڈپلومیٹ اور دیگر اہم عالمی اخبارات، جرائد میں یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی سطح پر اہم ہوگیا ہے، پاکستان نے بہت اچھے طریقے سے اپنے سفارتی کارڈز کھیلے ہیں اور اب یہ امکان بھی پیدا ہوا ہے کہ پاکستان کی وجہ سے کوئی بڑا بریک تھرو مل جائے، تب سے پاکستان میں بعض حلقے خوش ہونے کی بجائے ناخوش اور مایوس نظر آنے لگے۔ سوشل میڈیا پر یہ ناراضی، خفگی، برہمی اور فرسٹریشن واضح محسوس ہو رہی ہے۔ ایک سیاسی حلقے نے تو باقاعدہ اس پر طنز وتضحیک کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ یہ غلط اور نامناسب ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ موجودہ حکومت سے کسی کو بھی اختلاف ہوسکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور لیڈروں سے اختلاف ہونا نارمل اور روٹین کی بات ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی لیڈر کی اچھی پالیسی پر بھی مخالف تعریف کی بجائے سیاسی وجوہ سے تنقید کا نشانہ بنا دیں، تاہم ریاست کا معاملہ مختلف ہے۔ ریاست افراد، گروہوں، تنظیموں، سیاسی جماعتوں سے بالاتر اور ماورا ہوتی ہے۔
اگر پاکستان کا پرچم بلند ہوگا، نام مثبت انداز سے لیا جائے گا، عالمی سطح پر ہمارا کردار بڑھے گا، اہم ہوگا اور تعریف کی جائے گی تو یہ ہر اعتبار سے مثبت اور دل خوش کن بات ہے۔ مایوسی تو اس پر ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بہرحال حقیقت ہے کہ دنیا بھر کے اہم اخبار، جرائد اس پوری جنگ میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہ رہے ہیں۔ پاکستان نے ایک بہت مشکل، اعصاب شکن مرحلے میں اپنی غیر جانبداری برقرار رکھی ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست ملک جس کے ساتھ ہم دفاعی معاہدے میں ہیں، اس کا ہم پر اعتماد برقرار ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ، صدر اور اب نئے رہبر انقلاب بھی پاکستان کی کھل کر تعریف کر چکے ہیں۔ چین پاکستان کا اسٹریٹجک پارٹنر اور قابل اعتماد دوست ہے، تاہم پاکستان نے امریکا کے ساتھ بھی اچھا تعلق برقرار رکھا ہے، غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے امریکی صدر اور حکومت کے ساتھ مثبت انگیجمنٹ چل رہی ہے۔
مڈل ایسٹ کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی پاکستان کا تعلق خوشگوار ہے۔ یہ ایک طرح سے تنے ہوئے رسے پر چلنے کے برابر ہے۔ بعض عالمی جرائد نے اسے پاکستان کا نکسن لمحہ قرار دیا۔ یہ اشارہ جنرل یحییٰ خان کے دور میں صدر نکسن اور چین کے مابین تعلقات کی بحالی کی پاکستانی کوشش کی طرف ہے۔ پاکستان نے وہ امریکا چین مذاکرات یقینی بنائے اور پھر صدر نکسن نے چین کا تاریخی دورہ کیا تھا۔
معروف ویب سائٹ ایشیا نکئے نے وہ چھ نکات گنوائے ہیں جن سے پاکستان دنیا بھر میں اہم ہوا ہے۔ ظاہر ہے یہ سب آسان نہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ مذاکرات ناکام ہوجائیں، جنگ بندی ختم ہوجائے اور ایک بار پھر تباہی کے بادل خطے پر منڈلانے لگیں۔ یہ سب خطرات اپنی جگہ ہیں، مگر بہرحال ماننا پڑے گا کہ پاکستان نے اب تک بہت اچھا اور غیر معمولی کام کیا ہے۔ اس صورتحال کا ایک بڑا پہلو بھارت کی پسپائی، ناکامی اور اس کا سفارتی محاذ پر پیچھے رہ جانا ہے۔ کرکٹ کی اصطلاح میں پاکستان نے اس حوالے سے انڈیا کو آوٹ کلاس کر دیا ہے، خاصے فاصلے سے پیچھے چھوڑ دیا۔ انڈیا جو گلوبل ساوتھ کا نمائندہ بننے کی کوشش کر رہا تھا، بزعم خود ”وشو گرو” بن رہا تھا، وہ اس پورے منظرنامے میں کہیں بھی نظر نہیں آ رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود انڈین تجزیہ کار، سابق بھارتی سفیر، ریٹائر جنرل اور بیشتر سیاسی لیڈر جماعتوں کے سیاستدان وزیراعظم مودی کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ دراصل بھارتی وزارت خارجہ اور حکومت بھی کنفیوز ہے کہ وہ پاکستان کو کس طرح سائیڈ پر کرے۔ اسی وجہ سے نئی دہلی میں فرسٹریشن بڑھ رہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی پوری کوشش کی تھی۔ انڈیا نے اسرائیل کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ بنائی، اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کے سودے کیے اور ان کا خیال تھا کہ اسرائیلی لابی کی مددسے وہ امریکی حکومت کو پاکستان کے مخالف کر دیں گے۔
مودی جی پورے خطے پر چھا جانے کے سپنے دیکھ رہے تھے۔ ہوا اس کے برعکس۔ جب مشکل وقت آیا تو امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت کی بجائے پاکستان کی طرف دیکھا، پاکستانی قیادت خاص کر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے رابطہ کیا۔ یہ بھارت کیلئے شدید فرسٹریشن کا باعث بنا ہوا ہے۔ مودی جی خود کو اس خطے کا نجات دہندہ اور مسیحا سمجھتے تھے ، ان کا خیال تھا کہ وہ ہر مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔اب اتنے بڑے کرائسس میں کوئی بھارت کو پوچھ تک نہیں رہا۔ یہ بات ان سب کو تنگ کر رہی ہے جو بھارت کے مہان ہونے کے دعوے دار تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت نے خود کو پارٹی بنایا۔ وہ اسرائیل کی طرف بہت زیادہ جھک گیا۔
بھارت نے سید علی خامنہ ای پر حملے کی مذمت تک نہیں کی۔ بھارت نے ایران پر حملے کی بھی مذمت نہیں کی۔ وہ سوائے اکا دکا رسمی بیان کے کچھ نہیں کر رہا۔ پاکستان نے البتہ اس حوالے سے مضبوط موقف اختیار کیا۔ ایران پر حملوں کی مذمت کی، خامنائی صاحب کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ پاکستان اس جنگ کو ختم کرانے کیلئے سنجیدہ اور ٹھوس کوششیں کر رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ امریکا بھارت تعلق بھی کمزور ہوا ہے۔ بھارت چاہتا تھا کہ وہ اس خطے میں پہلا امریکا رابطہ بنے، مگر امریکیوں نے انڈیا کو نظرانداز کیا۔ حتی کہ ٹیرف اور پھر ایرانی، روسی تیل کی خریداری کے مسئلے پر امریکا نے بھارت اور مودی جی کو جتایا کہ وہ ایک کمزور فریق ہے، ان کا اسٹریٹجک پارٹنر نہیں۔ پاکستان نے دانشمندی سے سولو فلائٹ کی بجائے مصر اور ترکیہ کو ساتھ ملا اور یوں اجتماعی کوشش کا آغاز کیا۔ یہ اچھی حکمت عملی ہے۔ اس پورے عمل میں پاکستانی کردار بڑھا ہے۔ پاکستان نے جنگ کے دونوں فریقین کے مابین پل بننے کی کوشش کی ہے۔ یہ کوشش کامیاب ہو یا ناکام ہو، اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ پاکستان کے خلوص، غیر جانبداری اور اس کی امن کیلئے جینوئن نیس ثابت ہوچکی ہے۔ عالمی تجزیہ کار اسے موجودہ پاکستانی سول ملٹری قیادت کی بڑی کامیابی اور مودی ڈاکٹرائن کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ بھارت کو بڑا سفارتی دھچکا لگا ہے اور اس کی ذمہ دار بہرحال بی جے پی کی حکومت ہے جس نے پچھلے بارہ برسوں میں انڈیا کو اس نہج پر لا کھڑا کیا۔
ہم پاکستانیوں کو پاکستان کی اس کامیابی پر خوش ہونا چاہیے۔ ریاست پاکستان کی سربلندی ہر پاکستانی کی کامیابی اور فتح ہے۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ بعد میں کبھی ہوتی رہے گی ، سردست تو اس پر خوش ہونے، اسے سراہنے کا لمحہ ہے۔

