استاذ العلماء شیخ الحدیث مولانا محمد میاں لودھراں میں 20مارچ 2026ء کو انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
بہاول پور سے آتے ہوئے جی، ٹی روڈ پر لودھراں شہرکے آغاز پر مغرب کی طرف ایک نہری پانی کا نالہ جارہا ہے۔ اس کے کنارہ پر مغرب کی طرف سفر کریں تو تھوڑے فاصلہ پر نالہ سے چند ایکڑ ہٹ کر ایک آبادی کا نام ”تھلّی والہ” ہے۔ یہاں پر آرائیں برادری کے کئی گھرانوں پر مشتمل آبادی میں جناب ملک محمدشفیع آرائیں متوسط طبقہ کے خوش لباس، خوش سیرت وخوش صورت زمیندار کے ہاں مولانا محمد میاں صاحب کی 1950ء میں پیدائش ہوئی۔
دارالعلوم دیوبند کے فاضل شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد اور شیخ التفسیر حضرت مولانا عبداللہ بہلوی کے خلیفہ مجاز، نامور دینی، ومذہبی شخصیت، عالم ربانی حضرت مولانا سید بشیر احمد شاہ صاحب کاظمی جامعہ سراج العلوم لودھراں کے بانی ومہتمم کے ہاں تعلیم کے لیے نوعمر صاحبزادہ محمد میاں کو داخل کرا دیا گیا۔ مولانا محمد میاں کی سعادت مندی ملاحظہ ہو کہ فارسی سے مشکوٰة شریف تک تمام تعلیم آپ نے مولانا سید بشیر احمد صاحب مرحوم کے ہاں ان کی سرپرستی اور نگرانی میں حاصل کی۔ مشکوٰة شریف کا امتحان پاس کرتے ہی جامعہ سراج العلوم لودھراں کے تین طالب علم مولوی قاری عبدالرب (رب نواز) مولوی سید محمد عبداللہ لودھروی اور مولوی محمد میاں صاحب نے دورہ تفسیر پڑھنے کے لیے جمعیة علماء اسلام کے امیر مرکزیہ حافظ الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کے ہاں جامعہ مخزن العلوم خان پور میں داخلہ لیا۔ یہاں اسی سال بلوچستان سے مولانا شمس الدین شہید، کبیروالا سے مولانا ظفر احمد قاسم (بانی جامعہ خالد بن ولید وہاڑی) جامعہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے استاذ الحدیث اور اس وقت جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث مولانا سیف الرحمن مہند، مولانا غلام رسول دریا خان اور فقیر راقم نے بھی دورۂ تفسیر میں داخلہ لیا۔ یاد ایسے پڑتا کہ مولانا شمس الدین شہید اور مولانا سیف الرحمن مہند کے علاوہ باقی ہم سب ایک ساتھ کمرہ میں رہتے تھے۔
یہ 1967ء شعبان اور رمضان المبارک کی بات ہے۔ اسی سال نئے تعلیمی سال کے آغاز شوال میں مولانا محمد میاں اور دیگر اس کلاس کے بہت سارے رفقاء نے دورۂ حدیث کے لیے جامعہ مخزن العلوم کا انتخاب کیا۔ 1968ء میں دورۂ حدیث شریف مکمل کرنے کے بعد حضرت مولانا محمد میاں صاحب کی آپ کے مربی ومحسن استاذ مولانا سید محمد بشیر احمد کاظمی نے اپنے مدرسہ سراج العلوم میں بطور مدرس کے تقرری کر دی۔ مولانا محمد میاں صاحب نے اپنے استاذ محترم کی زیر نگرانی پڑھانا کیا شروع کیا کہ اپنی خداداد صلاحیتوں اور استاذ محترم کی سرپرستی سے تدریس کے ابتدائی چند سالوں میں رسوخ حاصل کرلیا۔ کچھ عرصہ بعد خدا تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ مولانا سید بشیر احمد شاہ وصال فرما گئے۔ تو مدرسہ سراج العلوم کا تمام انتظام واہتمام حضرت شاہ صاحب کی جگہ پر جامعہ مسجد اڈہ لودھراں کی خطابت سمیت متفقہ طور پر مولانا محمد میاں کے سپرد ہوگئیں۔ اس اعتبار سے مولانا محمد میاں خوش نصیب ہیں کہ اپنے استاذ محترم کے علمی جانشین اور لودھراں کی دینی قیادت کو آپ نے شایان شان طریقہ پر ساٹھ سال تک نبھایا اور بڑی خوبصورتی کے ساتھ مثالی اور امتیازی آن بان کے ساتھ بام عروج پر لے گئے۔
مدرسہ سراج العلوم کی نئی تعمیر کرائی، عیدگاہ کی خوبصورت مسجد تعمیر کرائی، جامعہ کی دکانوں کو ازسرنو دیدہ زیب بنایا۔ پھر وہ بھی وقت آیا کہ آپ مدرسہ کو جامعہ کے درجہ پر لے گئے۔ دورۂ حدیث شریف کا آغاز ہوا۔ دورۂ تفسیر کے سال میں ہم سبق ہونے کے باعث فقیر راقم کا آپ سے نیاز مندانہ احترام کا محبت بھرا تعلق قائم رہا۔ دورۂ حدیث شریف شروع کرنا چاہا فقیر راقم نے تجویز دی کہ باہر کے شیخ الحدیث کو لانے کی بجائے آپ خود ہی جامعہ کے اپنے اساتذہ پر دورہ حدیث کے اسباق تقسیم کریں۔ ابتداء میں کچھ تگ ودو نئے شیخ الحدیث کے لانے کے لیے کی ہوگی لیکن عمل اس تجویز پر ہوا جو پہلے سے چل رہی تھی۔ یوں مولانا محمد میاں درجہ فارسی سے لے کر شیخ الحدیث کے منصب پر فائز المرام ہوتے نظر آتے ہیں۔
آپ نے اپنی ذاتی شرافت، علمی وقار، عملی متانت سے ایسے طور پر مقام حاصل کیا۔ پہلے تحصیل لودھراں پھر ضلع لودھراں میں بلاشرکت غیرے سرکاری اور عوامی حلقہ میں مذہبی رہنما کے منصب پر فائز ہوئے۔ جمعیة علماء اسلام لودھراں کے قائد کے طور پر آپ کی پہچان تھی۔ تمام ضلعی وڈویڑنل افسران اور تمام سیاسی ضلع بھر کی قیادت کے دلوں پر احترام کا سکہ آپ کا چلتا تھا۔ ضلعی، ڈویڑنل امن کمیٹی کے ممبر رہے۔ آپ ایسے دور اندیش، درویش منش، اجلی سیرت کے حامل عالم ربانی تھے کہ غریب سے غریب انسان سے لے کر بڑے سے بڑے زمیندار تک سبھی کی سرکاری دوائر ودفاتر میں آپ نے بے لوث خدمت خلق کا ریکارڈ قائم کیا۔ آپ سرکاری یا سیاسی جس شخصیت کو جو کہتے وہ مان لیا جاتا۔ اس لیے کہ مرحوم نے حق وسچ کا ساتھ دینے کے علاوہ کچھ سیکھا نہ تھا۔ ہر مظلوم کی مدد ونصرت سے خدمت خلق کا اپنے ضلع میں ریکارڈ قائم کر دیا۔ آپ کی وفات کے بعد مدتوں شاید کوئی اس خلا کو پُر نہ کر سکے۔ آپ بیک وقت عالم دین، ماہر استاذ، تمام فنون پر دسترس کے حامل، مہتمم ومنتظم، صاحب وصائب الرائے، مناظر وخطیب، مبلغ وداعی ایسی خوبصورت صفات اعلیٰ کے نقیب تھے کہ رشک آتا تھا۔ کچھ عرصہ سے اعصابی کھچاؤ کے باعث گلہ متاثر ہوا، لیکن پڑھنے پڑھانے کا عمل کبھی متاثر نہ ہوا۔ شوگر، بلڈ پریشر، ہارٹ پرابلم سے بھی پالا پڑا، صحت اتار چڑھاؤکا شکار رہی، لیکن آپ نے اپنی سرگرمیوں کو بڑی عزیمت کے ساتھ جاری رکھا۔1447ھ رمضان المبارک کی 30تاریخ کو عصر کے لگ بھگ وصال فرمایا، اگلے روز لودھراں کی تاریخ کا بڑا جنازہ ہوا۔ آپ کے صاحبزادہ اور جانشین مولانا محمد عثمان میاں نے نماز جنازہ پڑھائی۔ وفاق المدارس، جمعیة علماء اسلام، مجلس تحفظ ختم نبوت دیگر مذہبی وسیاسی جماعتوں کی قیادت ونمائندگان، ضلع بھر کی سیاسی وسرکاری شخصیات اور عوام کا بے پناہ ہجوم غرض بڑی دھوم دھام سج دھج سے عاشق رسولۖ کے جنازہ کا ارض وسماء کے فرشتوں نے نظارہ دیکھا۔ رہے نام خدا تعالیٰ کا۔ حق تعالیٰ انہیں آخرت کی تمام بلند وبالا راحتوں سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!

