عالمی سیاست میں پاکستان کی اچانک ابھرتی اہمیت

یہ بارہ چودہ سال پہلے کی بات ہے، لاہور کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں چائے کی میز پر بیٹھے ایک امریکی گورے صحافی نے وہ سبق سکھایا جو آج تک نہیں بھول پایا۔ ایک سینئر صحافی نے مجھے اس جرنلسٹ سے ملنے کا کہا تھا، تب میں عسکریت پسندی پر بہت زیادہ لکھ رہا تھا۔ اس گورے صحافی کو عسکریت پسندی پر معلومات درکار تھیں۔ گپ شپ ہوتی رہی، پھر میں نے اس سے سوال کیا کہ آخر امریکی بلکہ یورپین میڈیا بھی پاکستان کے حوالے سے اتنا متعصب کیوں ہے؟اس پرامریکی صحافی نے میز پر رکھا رائٹنگ پیڈ اٹھایا اور پینسل سے اس پر دس لکیریں کھینچیں۔ اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور بولا: میں آج کل امریکی ریاست نیوہمپشائر کا رہائشی ہوں۔ میرا ڈرائیونگ لائسنس بھی وہاں کا ہے۔ فرض کریںمیں کسی دن اپنے آس پاس کے کسی پڑوسی کو چائے پر بلائوں اورگپ شپ کرتے ہوئے پوچھوں کہ مجھے روس کے بارے میں وہ دس فیکٹ بتائو جو تم جانتے ہو۔ جواب میں وہ یقینا سٹالن کے مظالم اور کے جی بی کی سازشوں کا نام ضرور لے گا، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ٹالسٹائی، دوستئوفسکی، چیخوف اور پشکن جیسے عظیم روسی ادیبوں کا ذکر ضرور کرے گا۔ مارکسزم اور لینن ازم کے حوالے سے تنقیدی یا توصیفی تاثر لازمی بیان ہوگا۔ روسی ثقافتی طائفے اور ڈرامے کا بھی ذکر آئے گا۔ ممکن ہے وہ شطرنج کے نامور کھلاڑی گیری کیسپاروف اور دلکش روسی ٹینس کھلاڑی ماریا شراپواکا نام گنا دے۔ ماسکو اور سینٹ پیٹر برگ کی تاریخی عمارات کا حوالہ بھی شامل ہو جائے گا۔

اسی طرح نیوہمپشائر یا کسی دوسری امریکی ریاست کے کسی عام شہری سے چین کے بارے میں یہی سوال پوچھا جائے تووہ مائو، بدنام ثقافتی انقلاب اور بیجنگ میں طلبہ پر ٹینک چڑھانے کے واقعات کا حوالہ تو ضرور دے گا، مگر ان کے ساتھ چینی کھانوں، کلچرل طائفے، دیوار چین، سحرانگیز شہر ممنوعہ، ٹیبل ٹینس، بیڈمنٹن، جمناسٹک اور اتھیلٹیکس میں چینی کھلاڑیوں کی شاندار کامیابی کا تاثر بھی اس کے حافظے میں محفوظ ہوگا۔ سب سے بڑھ کر وہ چین کی عظیم الشان معیشت اور سستی مصنوعات کا قائل ہوگا۔ بھارت کا تاثر بھی کم وبیش ایسا ہی ہے۔ امریکی عوام کے لیے گاندھی، بھارتی سیکولر جمہوریت، ہندوازم، انڈین کھانے، بالی وڈ کی فلمیں، روی شنکر کا ستار، وکرم سیٹھ، اروندتی رائے اور ان جیسے بہت سے لکھاریوں کے ساتھ امریکا کا اہم ترین ادبی ایوارڈ مین بکرز پرائز فاتحین اروند اڈیگا اور کرن ڈیسائی کے نام جانے پہچانے ہیں۔ شاید ہی کوئی امریکی ہوجس نے تاج محل کی تصویر نہیں دیکھی یا وہ بھارت کا دورہ کئے بغیر ہی مغل حکمرانوں، ان کی عمارات اوران پر بنی منی ایچر پینٹنگ سے واقف نہ ہو۔

بوڑھے امریکی صحافی نے ایک لمحے کا توقف کیا، ناک پر ٹکی عینک کے اوپر سے دیکھا اور بولا: تم جانتے ہو کہ پاکستان کا نام آنے پر ایک عام امریکی کیا جواب دے گا؟ میں نے سر کے اشارے سے نفی میں جواب دیا تو اس نے اپنا سلسلہ کلام دوبارہ سے جوڑا: بدقسمتی سے اس کے ذہن میں سب سے پہلے دہشت گردی، القاعدہ اور طالبان کا نام آئے گا۔ خیر اس میں تو نائن الیون کے بعد کا تاثر بھی شامل ہے مگر اس سے پہلے بھی امریکیوں کے ذہنوں میں پاکستان کے حوالے سے کوئی خوشگوار تاثر (سافٹ امیج) نہیں بنتا۔ ہر آدمی یہ ضرور کہے گا کہ وہاں بہت سے جنرل (Many Many generals) ہوتے ہیں۔ یہ تاثر جنرل ضیاء الحق کے زمانے سے مستحکم ہوا۔ آپ لوگوں کو ممکن ہے یہ جان کر حیرت ہو کہ امریکی جنرل ضیا کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ اگرچہ وہ اس خطے میںامریکا کا سب سے بڑا اتحادی اور حامی تھا۔ وائٹ ہائوس، اسٹیٹ آفس (وزارت خارجہ) اور پنٹاگون (وزارت دفاع) کے ساتھ ساتھ سی آئی اے میں اس کے لیے نرم گوشہ ضرور ہوگا، مگر امریکی انٹیلی جنشیا، میڈیا، کانگریس اورعام امریکیوں میں اس کے لیے شدید ناپسندیدگی کے جذبات موجود تھے۔ امریکی انٹیلی جنشیا میں یہ تاثر بھی ہے کہ جنرل ضیاء نے سی آئی اے کو دھوکا دے کر ایٹم بم بنا لیا۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکا میں کسی پاکستانی اداکار کو کوئی نہیں جانتا۔ ہمیں آپ کی فلموں یا ڈراموں کا علم نہیں۔ کسی ایک بھی کھلاڑی سے واقفیت نہیں۔ عمران خان کے انگلینڈ اور آسٹریلیا میں مداح ہوں گے مگر امریکا میں چونکہ کرکٹ نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے امریکا میں عمران خان کے زیادہ فین نہیں۔ پاکستانی گلوکاروں اور موسیقاروں کی حالت اس سے بھی پتلی ہے۔ آپ کے پاس اچھے شاعر اور ادیب ہوں گے مگر ان کا کام انگریزی میں عمدہ طریقے سے منتقل نہیں ہو سکا۔ انگریزی میں لکھنے والے پاکستانی ادیب نہ ہونے کے برابر ہیں۔ رہے پاکستانی کھانے تو ان کی بھی جداگانہ شناخت موجود نہیں۔ انہیں انڈین کھانوں کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ کسی پڑھے لکھے امریکی سے مغلوں کے بارے میں سوال کیاجائے تو وہ کہے گا کہ مغل انڈیا میں تھے۔ اسے نہیں معلوم کہ مغل لاہور پر بھی حکومت کرتے رہے اور یہاں پر مغلیہ آرٹ کی کئی شاندار عمارات ملتی ہیں۔ شالیمار باغ جیسا سحرانگیز نظارہ لاہور میں ہی ملے گا۔ امریکیوں کو پاکستان میں صوفی ازم کے بارے میں نہیں معلوم۔ آپ کی فوک موسیقی، مقامی مصنوعات اور قوالی جیسے فن سے بھی اہل مغرب بے خبر ہیں۔ انہیں معلوم نہیں کہ یہاں پنڈی میں بری امام کا عرس اور سندھ میں قلندر کا عرس بھی آتا ہے، جس میں ہر مذہب اور عقیدے کے لوگ والہانہ عقیدت سے شامل ہوتے ہیں۔

میں خاموشی سے اس غیرملکی صحافی کی بات سنتا رہاجو بڑی سفاکی سے مجھے آئینہ دکھا رہا تھا۔ جیمز روپرٹ نامی وہ صحافی واشنگٹن پوسٹ جیسے مؤقر اخبار سے پندرہ سال تک وابستہ رہا۔ سات سال تک پولیٹیکل رپورٹر کے طور پر اور باقی عرصہ بطور نائب ایڈیٹر۔ ان دنوں وہ ایک معروف امریکی نیوز چینل سے منسلک تھا اور جنوبی ایشیا کو کور کر رہا تھا۔ عسکریت پسندی کے بارے میں اسے جاننا تھا۔ جیمز روپرٹ کو کسی نے اس خاکسار کے بارے میں بتایا کہ یہ عسکریت پسندی پر لکھتا رہتا ہے۔ پنجابی طالبان اوران کے (تب کے) اہم ترین کمانڈر الیاس کشمیری کے بارے میں بھی کالم لکھ چکا ہے۔ جیمز روپرٹ کے ساتھ خاصی دیر تک عسکریت پسندی پر بات ہوئی۔

میری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ اکثر غیرملکی صحافیوں کوعسکریت پسندی کے حوالے سے بعض بنیادی باتوں کا بھی علم نہیں۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ ان کا زیادہ تر رابطہ انگریزی میں لکھنے والے پاکستانی صحافیوں سے پڑتا ہے، جن میں سے اکثر ایک خاص قسم کے تعصب کا شکا رہیں۔ یہ پاکستانی صحافی اور تجزیہ کارجن میں کئی بڑے بڑے نام بھی شامل ہیں، غیرملکی صحافیوں کو گمراہ کن اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔ عسکریت پسندی پر گفتگو مکمل ہونے کے بعد میں نے وہ سوال کیا تھا جس کا جواب ابھی اوپر نقل کیا۔ الفاظ ظاہر ہے کچھ مختلف ہو سکتے ہیں مگر مفہوم یہی تھا۔ ایک آدھ بار میں نے پہلے بھی اس موضوع پر بات کی تھی۔ اس گفتگو کے بعد مجھے حقیقی معنوں میں یہ سمجھ آئی کہ امریکا اور یورپ میں پاکستان کے حوالے سے ثقافتی تعصبات عام ہیں۔ امریکی صحافی بھی کلچرل تعصبات رکھتے ہیں۔ سیمور ہرش جیسے سینئر صحافی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رپورٹوں میں ایک خاص قسم کا معاندانہ رویہ ملتا ہے۔

اسی گپ شپ میں ایک سوال یہ بھی پوچھا کہ کلچر کی قوت اپنی جگہ اہم ہے مگر پاکستان جیسے ملک کے وسائل محدود ہیں اور ہم فنون لطیفہ میں اتنی انویسٹمنٹ نہیں کر سکتے، کھیلوں میں بھی عالمی معیار پر پہنچنا آسان نہیں۔ متبادل طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟ گورے صحافی نے مسکرا کر جواب دیا: اپنے آپ کو عالمی سیاست میں اہم اور متعلق بنائیں۔ ریجنل پالیٹیکس میں اہم بنیں۔ مؤثر اتحاد بنائیں، اپنی افادیت مغرب پر ثابت کریں تو آپ کی بلے بلے ہوجائے گی (بلے بلے والا لفظ ظاہر ہے میرا ہے)۔ ویسے اس نے یہ اعتراف کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ بڑی ہوشیاری کے ساتھ چین سے قریبی تعلقات رکھتے ہوئے بھی امریکا کے ساتھ توازن برقرار رکھا ہے۔

آج کل جو حالات چل رہے ہیں اور پاکستان اچانک عالمی سیاست میں جس قدر اہم ہوگیا ہے، اس سے مجھے وہی امریکی صحافی یاد آ رہا ہے۔ اہم امریکی اور یورپی اخبارات میں مسلسل پاکستان کے حوالے سے آرٹیکلز چھپ رہے ہیں۔ پاکستانی وزیراعظم کا ٹوئٹ امریکی صدر خود ری ٹوئٹ کر رہا ہے۔ پاکستانی فیلڈ مارشل کی دنیا تعریف کر رہی ہے۔ یہ پاکستان کے موجودہ سافٹ امیج کی وجہ سے ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب، ایران دونوں کے ساتھ اچھا خوشگوار تعلق قائم کر رکھا ہے۔ چین اور امریکا کے ساتھ توازن ہے جبکہ روس کے ساتھ بھی تعلق اچھا ہے۔ یہ تنے ہوئے رسے پر چلنے کے برابر ہے مگر پاکستانی ریاست اور اس کے فیصلہ ساز ایسا کررہے ہیں۔ مغربی میڈیا میں پاکستان کے حوالے سے مثبت تحریریں اور تاثر دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔ اللہ کرے پاکستان ایران جنگ رکوانے میں کامیاب ہوجائے تو بہت ہی اچھا ہوجائے گا۔ اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوسکا تب بھی پاکستان نے اپنی سفارتی صلاحیتوں کو دنیا پر منوا لیا ہے، اپنی اہمیت راسخ کرلی ہے۔ ایک کمزور معیشت والا ملک جو آئی ایم ایف کے پیکیج پر چل رہا ہے، اس کی جانب سے ایسی غیرمعمولی کارکردگی کسی کرشمے سے کم نہیں۔ میری ذاتی رائے میں سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر پاکستانی ریاست، پاکستانی حکومت کی یہ کارکردگی تو سراہنا بنتا ہے۔ جو اچھا ہے، وہ اچھا ہے، اسے تسلیم بھی کیا جائے۔ تنقید کرنے کو تو بعد میں بھی بہت کچھ مل جائے، آج جو ٹھیک ہو رہا ہے اس کی کھلے دل سے تعریف کریں۔