ملک کے میدانی علاقوں میں گندم کی فصل کٹائی کے مرحلے میں پہنچنے والی ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب کسان اور کاشت کار کو اپنی مہینوں کی محنت کا صلہ ملنے کا انتظار ہوتا ہے اور یہ تبھی ممکن ہوتا ہے جب کسان کو فصل کی اچھی قیمت مل جائے۔ ہر سال سوشل میڈیا پر گندم کی کٹائی کے موسم میں اچانک ہمارے ہاں غریب پروری کا ایک نیا جوش ابھرتا دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گندم سستی کروانے کی مہمیں چلتی ہیں اور مختلف قسم کے جذباتی نعرے لگتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ یہی درد اس وقت کہاں چلا جاتا ہے جب کسان کھاد کے لیے دربدر پھرتا ہے؟ جب چار ہزار کی بوری سات ہزار میں بلیک پر خریدنے کے باوجود اسے جعلی کھاد تھما دی جاتی ہے؟ جب ناقص بیج، مہنگی بجلی اور تیل اس کی کمر توڑ دیتے ہیں؟ اس وقت نہ کوئی مہم چلتی ہے اور نہ ہی کوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کسان کے معاشی قتل پر خاموشی اختیار کر کے ہم خود اپنے ہاتھوں اپنی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ آج جب گندم مہنگی ہوتی ہے تو شور مچایا جاتا ہے مگر اس مہنگائی کے پیچھے کارفرما عوامل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک ایسی قوم بنتے جا رہے ہیں جو مسائل کے حل کے بجائے وقتی ریلیف کی عادی ہو چکی ہے۔ حکومت بھی ہمارے اس قومی مزاج کو اچھی طرح سمجھتی ہے چنانچہ بے نظیر انکم سپورٹ کے ساتھ ساتھ آئے روز نت نئے ریلیف کارڈز متعارف کروا کر بھیک مانگنے کی حوصلہ افزائی اور بھکاریوں کی فوج میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ہمارا سرمایہ دار طبقہ اور مخیر حضرات بھی لوگوں کو باعزت روزگار دینے کے لیے ٹھوس منصوبے بنانے کی بجائے مفت خوری کے دسترخوان بچھاکر خود کو مطمئن کرتے ہیں۔ اس وقت ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ انہی ریلیف کارڈز اور دستر خوانوں پر قناعت کررہا ہے۔ گویا ہم لوگوں کو مچھلی پکڑنے کا طریقہ سکھانے کی بجائے مچھلی کھلانے کے فلسفے پر چل رہے ہیں اور لوگوں کو محنت کی بجائے مفت خوری کا عادی بنارہے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے محنت کو عار اور بھیک کو سہارا سمجھ لیا ہے۔ مفت آٹے کی قطاروں میں گھنٹوں کھڑے ہو کر ذلت اٹھانا گوارا ہے مگر چند دن کی محنت کر کے خودداری کے ساتھ رزق کمانا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ یہ رویہ صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی زوال کی علامت ہے۔ زیادہ پرانی بات نہیں، ایک دہائی پہلے تک گندم کی کٹائی کے موسم میں شہروں کے کم آمدنی والے خاندان دیہات کا رخ کرتے تھے۔ زمینداروں سے معاوضہ یا عوضانہ طے کر کے کھیتوں میں کام کرتے، پورا خاندان اس محنت میں شریک ہوتا۔ دن بھر گندم کاٹنا، شام کو پولیاں باندھنا اور پھر اپنی مزدوری کے طور پر گندم حاصل کرنا ایک باعزت اور خوددار طرزِ زندگی تھا۔ مزدوری کے بھی باقاعدہ اصول تھے۔ کہیں ایک پنڈ بطور اُجرت ملتی تو کہیں بیسواں حصہ۔ تھوڑی سی محنت اور منصوبہ بندی سے ایک خاندان چند دنوں میں سال بھر کے لیے گندم حاصل کر لیتا تھا۔ یوں نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت پڑتی، نہ قطاروں میں ذلیل ہونا پڑتا۔
آج بھی یہ راستہ بند نہیں ہوا۔ گندم کی فصل کی کٹائی کا موسم قریب ہے۔ اگر کم آمدنی والے لوگ جھوٹی اَنا اور مصنوعی اسٹیٹس کو ایک طرف رکھ کر دوبارہ اس روایت کو زندہ کریں تو نہ صرف ان کی معاشی حالت بہتر ہو سکتی ہے بلکہ آٹے کی قلت اور قطاروں کا کلچر بھی ختم ہو سکتا ہے۔ چند دن کی محنت سے حاصل ہونے والی گندم مہینوں کی محتاجی سے کہیں بہتر ہے۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کاشتکار جدید مشینری کا استعمال شوق سے نہیں بلکہ مجبوری سے کر رہا ہے۔ جب اسے مزدور نہیں ملتے تو وہ ہارویسٹر کا سہارا لیتا ہے حالانکہ اس میں فصل اور بھوسے کا خاصا ضیاع ہوتا ہے۔ اگر افرادی قوت دستیاب ہو تو کاشتکار آج بھی انسانی محنت کو ترجیح دے گا کیونکہ اس میں برکت بھی ہے اور بچت بھی۔ ہمارا اصل مسئلہ غربت نہیں بلکہ بدانتظامی اور ذہنی پسماندگی ہے۔ ہم نے آسان راستہ چن لیا ہے اور وہ ہے مانگنے کا راستہ۔ مگر یاد رکھیے! بھیک کبھی حق نہیں بنتی اور نہ ہی بھیک خوشحالی لا سکتی ہے۔ یہ وقتی سہارا ضرور ہو سکتی ہے لیکن مستقل حل نہیں۔ اس کے ساتھ ذلت، طعنے اور محرومی بھی جڑی ہوتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں۔ محنت کو عزت دیں، خودداری کو زندہ کریں اور اپنے بچوں کو یہ سبق دیں کہ رزق ہاتھ پھیلانے سے نہیں، ہاتھ چلانے سے آتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غیرت مند قومیں قطاروں میں نہیں، کھیتوں میں، فیکٹریوں میں اور دیگر مقامات پر محنت و مزدوری کرتی نظر آتی ہیں۔

