ختم نبوت ایک اسلامی اصطلاح ہے جو اس عقیدے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ختم کا معنی ہوتا ہے ”مہر لگانا” یا ”کسی چیز کو مکمل کرنا”۔ نبوت کا معنی ہے: نبی ہونے کی حالت۔ تو ختم نبوت کا مطلب ہے: نبوت کے سلسلے کا خاتمہ۔ قرآن مجید نے واضح طور پر یہ ارشاد فرمایا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اسی وجہ سے امت مسلمہ کے اوّل و آخر تمام علمائے کرام کا اس پر اجماع ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا۔
یہ وہ عقیدہ ہے جو گزشتہ 1400سال سے علمائے کرام بیان کرتے آرہے ہیں۔ حضرت امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد ابن حنبل رحمہم اللہ جیسے تمام فقہائے کرام نے ختم نبوت کے عقیدے کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ احادیث میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی واضح مثالوں سے اس کو ثابت فرمایا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے نبیوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک عمدہ اور خوبصورت محل تعمیر کیا ہو مگر اس میں ایک کونے کی ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی ہو۔ لوگ اس کے گرد گھومتے اور اس کے حسن پر تعجب کرتے ہوں مگر کہتے ہوں کہ کا ش یہ اینٹ بھی رکھ دی جاتی! تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔” (صحیح بخاری)
ختم نبوت کا یہ عقیدہ مسلمانوں کو ایک اجتماعی پلیٹ فارم پر بھی جمع رکھتا ہے۔ مسلمانوں کی وحدت کی اساس ہے۔ اس کا انکار کرنا کفر کا سبب ہے۔ سب سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اس عقیدے کا تحفظ کیا اور نبوت کے جھوٹے دعویداروں کے خلاف جہاد کیا۔ مسیلمہ کذاب کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق نے ”جنگ یمامہ” لڑی اور یہ فرمایا کہ جو شخص نبوت کا دعوی کرے گا اس کے خلاف جنگ کی جائے گی۔ امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی جو شخص نبوت کے جاری ہونے کا قائل ہے وہ کافر ہے۔ امام غزالی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عقیدہ ختم نبوت پر امت کا اجماع ہے اور اس کا انکار کرنے والا اسلام کے دائرے سے خارج ہے۔
بدقسمتی سے برصغیر میں انگریز کے دور میں مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعوی کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے اس دعوے کے خلاف شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے علم بلند کیا اور فرمایا کہ ختم نبوت کا انکار درحقیقت اسلام کا انکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قادیانیوں کے کفر پر برصغیر کے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام متفق ہوئے اور ان سب نے مل کر یہ فتویٰ دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کافر ہے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اس مسئلے پر متحد رہے۔ قربانیاں دیتے رہے مگر تحفظ ختم نبوت کے مشن سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے۔
ہندوستا ن تقسیم ہوا، خداداد مملکت پاکستان معرض وجود میں آئی، بدنصیبی سے اسلامی مملکت پاکستان کا وزیر خارجہ چودھری سر ظفراللہ خان قادیانی کو بنایا گیا۔ اس نے مرزائیت کے جنازہ کو اپنی وزارت کے کندھوں پر لاد کر اندرون و بیرون ملک اسے متعارف کرانے کی کوشش تیز سے تیز تر کر دی۔ ان حالات میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ، امیر کاروان احرار کی رگ حمیت اور حسینی خون نے جوش مارا، پوری امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری رحمة اللہ علیہ، مجاہد اسلام مولانا غلام غوث ہزاروی رحمة اللہ علیہ آپ کا پیغام لے کر ملک عزیز کی نامور دینی شخصیت اور ممتاز عالم دین اسلام مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادری رحمة اللہ علیہ کے دروازے پر گئے اور اس تحریک کی قیادت کا فریضہ انہوں نے ادا کیا۔ مولانا احمد علی لاہوری رحمة اللہ علیہ، مولانا مفتی محمد شفیع رحمة اللہ علیہ، مولانا خواجہ قمر الدین سیالوی رحمة اللہ علیہ، مولانا پیر غلام محی الدین گولڑوی رحمة اللہ علیہ، مولانا عبدالحامد بدایونی رحمة اللہ علیہ، علامہ احمد سعید کاظمی رحمة اللہ علیہ، مولانا پیر سر سینہ شریف رحمة اللہ علیہ، آغا شورش کاشمیری رحمة اللہ علیہ، ماسٹر تاجدین انصاری رحمة اللہ علیہ، شیخ حسام الدین رحمة اللہ علیہ، مولانا صاحبزادہ سید فیض الحسن رحمة اللہ علیہ، مولانا اختر علی خاں رحمة اللہ علیہ، کراچی سے لے کر ڈھاکہ تک کے تمام مسلمانوں نے اپنی مشترکہ آئینی جدوجہد کا آغاز کیا۔
بلاشبہ برصغیر کی یہ عظیم ترین تحریک تھی جس میں دس ہزار مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ایک لاکھ مسلمانوں نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ دس لاکھ مسلمان اس تحریک سے متاثر ہوئے۔ ہر چند کہ اس تحریک کو مرزائی اور مرزائی نواز اوباشوں نے سنگینوں کی سختی سے دبانے کی کوشش کی مگر مسلمانوں نے اپنی ایمانی جذبہ سے ختم نبوت کے اس معرکہ کو اس طرح سر کیا کہ مرزائیت کا کفر کھل کر پوری دنیا کے سامنے آگیا۔ علمائے کرام کی قربانیوں کی یہ داستان 1974 میں مکمل ہوئی۔ الحمدللہ 1974ء میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا اور یوں اس فتنے کا قلع قمع کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل، مصر کی جامعہ الازہر اور ہندوستان کا مرکزی دینی تعلیمی ادارہ دارالعلوم دیوبند بھی اس پر فتویٰ جاری کر چکے ہیں کہ ختم نبوت کا انکار کفر ہے۔
لوگو! مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار آج بھی موجود ہیں اور اپنی دعوت کہیں خفیہ اور کبھی اعلانیہ طور پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے فتنے کا مقابلہ کرنا اور اسلام کے غلبے کو ممکن بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اسلام کے اِس اساسی عقیدے پر ہر مسلمان کا مضبوط ایمان ہونا ضروری ہے۔ اُمت کا اس با ت پر بھی اجماع ہے کہ ختم نبوت کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت کے حفاظت کے لیے ہمیں بھی کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

