معاشرے میں مردو عورت کا مثالی کردار!

ہر مثالی معاشرہ مرد اور عورت کے تعمیری کردار سے تشکیل پاتا ہے۔ اس میں باپ بیٹی، بھائی بہن اور میاں بیوی سب کا اپنا اپنا کردار شامل ہوتا ہے۔ معاشرے کی تباہی بربادی یا اس کا قابل ستائش حسن و جمال ہمیشہ میاں بیوی کے کردار سے مشروط ہوتا ہے۔ جس معاشرے میں برائیاں جنم لے رہی ہوں، وہاں اسے سنوارنے اور خوبصورت بنانے کے لیے دو طرح کی تدبیریں بروئے کار لائی جاتی ہیں ان میں سے ایک تدبیر دینی قوت کی ہوتی ہے، جو وعظ و نصیحت کے ذریعے اصلاح احوال کی ترغیب دیتی ہیں۔ اس میں علما کرام احادیث اور قرآنی احکامات کی روشنی میں نوع انسانی کو ہدائت و اصلاح کی طرف راغب کرتے ہیں۔ مگر ایسے معاشرے میں جہاں محض دنیا داری، ہوس و حرص، جھوٹ و کھوٹ اور بد دیانتی اپنے عروج پر ہو، وہاں بہت کم لوگ پند و نصائح کی باتوں پہ کان دھرتے ہیں۔ بلکہ کچھ منفی رجحانات رکھنے والے لوگ ان کا تمسخر بھی اڑاتے ہیں۔ ان کے دلوں پر نہ تو نرمی اور شفقت اثر کرتی ہے اور نہ قابل تقلید ہستیوں کی مثالیں سوچ کے میل کو دھو کر انہیں اجلا کرتی ہیں۔ دوسری بات جو معاشرے کو حسین و روشن بناتی ہے وہ ماں کی گود اور بچوں کی اچھی پرورش، اور ماں باپ کی تعلیم و تربیت اور اخلاق و تہذیب ہوتی ہے جو نسل نو کو سلیقہ شعار بناتی ہے۔ اس لیے ماں باپ، جو میاں بیوی کے مقدس رشتے میں بھی بندھے ہوتے ہیں، معاشرے کو سنوارنے، سدھارنے کی زیادہ ذمے داری کی ادائی پوری کرتے ہیں۔ کیونکہ دونوں کے باہمی اشتراک سے خاندان کی بنیاد پڑتی ہے۔ خاندانون کے خاندان اگر محبت، حسن سلوک اور رواداری کے پھولوں سے مہکتے ہوں تو معاشرے کی فضا خوشبودار اور معطر بن کر دنیا کے کونے کونے میں پھیل جاتی ہے۔

ہمارے ملک کے جملہ علاقوں میں نہیں تو بعض گاں دیہات اور قصبوں میں بسنے والے خاندانوں کی عورتیں خواہ وہ بہوبیٹیاں ہوں یا بہنیں اور بیویاں اپنی وقعت اور عزت و عفت سے محروم دکھائی دیتی ہیں۔ انہیں نہ صرف زیور تعلیم سے آراستہ نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے ساتھ بدسلوکی بھی کی جاتی ہے۔ ہمارے کچھ شہروں میں بھی خواتین کو بھی گھروں کی دہلیزپار کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان کو وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کی وہ مستحق ہوتی ہیں۔ خاص طور پر شوہر حضرات، اپنی ازواج کو وہ عزت و توقیر دینے سے قاصر ہوتے ہیں جن کا متقاضی ہمارا دین ہوتا ہے۔ کچھ گھرانوں میں تو خود عورتیں ہی گھر کی بہو کو محض اس تصور کے ساتھ ناقدری اور نفرت کا برتا کرتی ہیں اور یہ گمان کرتی ہیں کہ میاں بیوی کا رشتہ پائیدار اور ماں بیٹی کی طرح خونی رشتہ نہیں ہوتا اس لیے گھر کی بہو کو ہرگز کوئی اہمیت نہ دی جائے اور نہ ہی اسے گھر کے معاملات و مشاورت میں شریک رکھا جائے۔ حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ اپنا بیٹا بھی اپنی ماں کا ہمنوا بن کر اپنی بیوی کوپرایا سمجھنے لگتا ہے۔

فی الحقیقت کوئی بھی خاتون رشتوں کے حوالے سے اچھی یا بری نہیں ہوتی، بلکہ خوش مزاجی، نرم عادت و طینت، عمدہ اخلاق ومحاسن اور نیک سلوک جیسے اطوار اسے قدرومنزلت کا مستحق بناتی ہے۔ جہاں تک میاں بیوی کے رشتے کا تعلق ہے تو یہ بات سمجھنے والی ہے کہ کسی کی بیوی چچا زاد، خالہ زاد ماموں زاد یا پھپھی زاد ہو یا پرائے گھر کی بیٹی، وہ میاں بیوی کے مقدس رشتے میں بندھنے کے بعد واجب الاحترام ٹھہرتی ہے۔ وہ شوہر کے گھر کا حصہ بن جاتی ہے۔ شوہر کے گھر میں ساس سسر اور نند بھاوج کے دل میں گھر پیدا کرتی ہے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے ہم راز اور دم ساز ہوتے ہیں۔ ان میں باہمی محبت اور اپنائیت کا قدرتی جذبہ موجود ہوتا ہے جو ان کی کائنات کو خوبصورت بناتا ہے ۔وہ ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹتے ہیں، وہ کبھی معاشی مجبوریوں کی وجہ سے ایک دوسرے سے دور رہ کر جدائی کی جانگسل تکلیف سے گزرتے ہیں لیکن یادوں کے دیپ جلا کر ملن کے کٹھن انتظار میں ہلکان بھی ہوتے ہیں۔ بیوی شرم حیا اور صبر استقلال کا استعارہ ہوتی ہے۔ معاشرہ اس کے ساتھ جو بھی برتا کرے، وہ ثابت قدم رہتی ہے۔ دوسروں کی تنقید کے نشتر اس کے چہرے پر کرب کو نمایاں کرتے ہیں جنہیں وہ اپنے دوپٹے کے پلو میں چھپا کر ضبط کے دریا میں بہا دیتی ہے۔ مگر ف تک نہیں کرتی۔ خود مرد بھی مجبوریوں کی بیڑیاں پہنے، ”تو چھٹی لے کے آجا بالما ”کی تڑپا دینے والی پکار سن کر ڈھیر ہو جاتا ہے۔ اسے بھی اپنے ادھورے پن کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ وہ مہینوں سالوں دھن کماتا ہے لیکن اس دھن میں اسے قربتوں کے کہیں کھو جانے کا نقصان ہوتا ہے۔

مرد کی خوبصورتی کیا ہوتی ہے؟خوبصورت مرد وہ ہوتا ہے جو عورت کی خطاں کو معاف کردیتا ہے…خوبصورت مرد وہ ہوتا ہے جو وحشت کے گھوڑے پر سوار ہوکر عورت کی انا کی دھچیاں نہیں اڑاتا…خوبصورت مرد وہ ہوتا ہے جو عورت کو بن مانگے محبت اور عزت دیتا ہے…عورت کو اپنے مزاج کی تپش سے جلا کر راکھ نہیں کرتا…خوبصورت مرد وہ ہوتا ہے جو عورت کا محافظ بن کر اس کو تحفظ کا احساس بخشتا ہے…اسے ہر برے اور غلط کام سے روکتا ہے…اس کا رہبر بن کر اس کی رہنمائی کرتا ہے…اس کی عزت پر زندگی فنا کردیتا ہے…اس کے ایک آنسو پہ زمانے سے الجھ جاتاہے…اسکی ہنسی کو اپنی زندگی سمجھ کے ہمیشہ اسے ہنستا ہوا رکھتا ہے…یہ ہوتا ہے خوبصورت مرد…!!

لازم ہے ہر جیون ساتھی شوہر نامدار کی اطاعت اور فرمانبرداری میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھے۔ وہ بطور گھر کے سربراہ کے ناظم و کاظم ہوتا ہے۔ وہ جب سر شام تھکے ہارے ماندے قدموں سے گھر لوٹتا ہے تو بیگم کی چاہت بھری مسکراہٹ اسے تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہوتی ہے اور پھر زندگی کی ریل خوشیوں کی پٹڑی پہ دوڑتی چلی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شوہر کا بیگم کے ساتھ نرمی کا برتاو، آپس میں معافی و درگزر کا نبھا، محبت کے دریا کا بہا اور محبت کی راہداری پہ قدر دانی کا چھڑکاؤ ہوتا رہے ہو تو سونے پہ سہاگہ۔ اس طرح ایک گھر کا سکون، طمانیت اور وفائیں دوسرے گھروں میں منتقل ہوجاتی ہیں اور اس طرح چراغ سے چراغ جلنا شروع ہو جاتے ہیں اور معاشرہ روشن ہو جاتا ہے۔