ایران کے خلاف شروع کی گئی بلاجواز اور بلااشتعال جنگ امریکا کے گلے پڑتی دکھائی دے رہی ہے اور امریکا کے بڑ بولے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب جنگ کے بارے میں مضحکہ خیز حد تک متضاد بیانات دے کر اپنی اور امریکا کی جگ ہنسائی کا سامان کر رہے ہیں۔ ایک جانب ان کی جانب سے ایران کو شکست دینے، اس کی بحریہ اور فوج کو ختم کر دینے کادعویٰ دہرایا جا رہا ہے تو دوسری جانب وہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے یورپی و ایشیائی طاقتوں سے مدد مانگتے اور ان کی جانب سے صاف جواب ملنے پر ان کو کوسنے اور دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق ایران کے خلاف جنگ نے واحد عالمی سپر پاور ہونے کے رہے سہے امریکی بھرم کو چکناچور کرکے رکھ دیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے لیے گورباچوف ثابت ہونے جارہے ہیں۔ ان کی ذہنی کیفیت کا یہ عالم ہے کہ عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز وہائٹ ہاؤس میں ایران جنگ سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے 5منٹ کے اندر 5متضاد موقف پیش کیے۔ وہائٹ ہاؤس میں موجود صحافیوں کے مطابق امریکی صدر کی گفتگو میں ربط کا شدید فقدان نظر آیا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ صدر ٹرمپ کو اب کچھ سجھائی ہی نہیں دے رہا کہ ایران کی جنگ کو کب اور کیسے سمیٹنا ہے۔
ایران کے خلاف چھیڑی گئی اس جنگ نے عالمی سفارتی محاذ پر امریکا کی تنہائی اور رسوائی میں اضافہ کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے ساتھ اپنی گفتگو میں اگر چہ پر اعتماد نظر آنے کی بہتیری کوشش کی اور کامیابی کے بلند آہنگ دعوے کرنے سے باز نہ آئے تاہم ساتھ ہی وہ دیگر عالمی قوتوں کی جانب آبنائے ہر مز کھلوانے میں تعاون کرنے کی ان کی اپیل مسترد کرنے پر اپنی مایوسی اور بوکھلاہٹ کوبھی چھپا نہ سکے۔ چنانچہ انہوں نے جہاں نام لے کر برطانوی وزیر اعظم کئیر اسٹارمر سمیت متعدد یورپی لیڈروں کو برا بھلا کہا ۔ وہیں نیٹو کو برے انجام کی سیدھی سیدھی دھمکی بھی دے ڈالی۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اتحادی ممالک اس اہم آبی گزرگاہ کو کھولنے میں امریکا کا ساتھ نہیں دیتے تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ تاہم امریکی صدر کی ان دھمکیوں کو یورپی ممالک نے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا اور واضح کیا ہے کہ نیٹو کا ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم اور جرمنی کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اس جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے جبکہ نیٹونے بھی آبنائے ہرمز میں کوئی نیا فوجی کردارسنبھالنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ یونان کے حکومتی ترجمان اور اٹلی کے وزیر خارجہ نے بھی واضح کیا کہ ان کے ممالک اس علاقے میں فوجی کارروائی میں شامل نہیں ہوں گے۔ چند یورپی جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں وہ کیا کر سکتے ہیں جو طاقتور امریکی بحریہ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے بہت صاف الفاظ میں کہا ہے کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے، ہم نے اسے شروع نہیں کیا۔
امریکی صدر کی برہمی اور بوکھلاہٹ کی سب سے بڑی وجہ ایران کی مزاحمت ہے۔ جنگ شروع کرنے کے دوتین روز بعد صدر ٹرمپ نے دعوی کیا تھا کہ ایران ہم سے بات کرنا چاہتا ہے مگر اب وقت گزرچکا ہے، اب ہم ایرانی قیادت سے کوئی بات نہیں کریں گے اور اسے ختم کرکے دم لیں گے جبکہ تازہ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم تو بات کرنا چاہتے ہیں مگر ایران مان کر نہیں دے رہا۔ ایران شروع دن سے اس بات کی تردید کر رہا ہے کہ اس نے امریکا سے کوئی رابطہ کیا ہے۔ تازہ بیان میں بھی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا سے نہ جنگ بندی کی درخواست کی ہے اور نہ ہی وہ اس وقت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک امریکا ایران کے خلاف جنگ کو غیر قانونی تسلیم نہیں کرتا ایران اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی ٹرمپ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا سمجھتا ہے کہ ایرانی بحریہ ختم ہو چکی ہے تو وہ خلیج فارس میں اپنی بحریہ بھیج کر دیکھ لے۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان نے ٹرمپ کے تازہ بیان کے ردعمل میں بھی کہا ہے کہ جنگیں سوشل میڈیا پر نہیں میدان میں جیتی جاتی ہیں۔
صدر ٹرمپ کی پریشانی کی تیسری بڑی وجہ جنگ کے معاشی و اقتصادی نتائج ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق خام تیل کی قیمت بڑھ کر 102 ڈالر فی بیرل جبکہ برینٹ آئل 106 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی اور آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ میں امریکا اب تک 12 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے جبکہ صرف پہلے ہفتے میں ہتھیاروں پر 5 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہوئے تھے۔ بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی جنگی اقدامات نے دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم عالمی نظام اور بین الاقوامی قوانین پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق صدرٹرمپ کی پالیسیوں میں طاقت کے کھلے استعمال کا رجحان بڑھ گیا ہے جبکہ عالمی ادارے اس صورتحال کو روکنے میں کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ امریکا جنگ، آبنائے ہرمز بحران، خلیجی ممالک میں حملوں اور لبنان میں نئی محاذ آرائی نے پورے مشرق وسطی کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے جبکہ عالمی سطح پر اس بحران کے اثرات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
صدرٹرمپ کو اس بات کا بھی شدید قلق ہے جس کو وہ بوجوہ کھل کر بیان نہیں کرپارہے کہ عرب اور اسلامی ممالک ان کی خواہش پر ایران کے ساتھ جنگ میں نہیں کودے، ورنہ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اصل منصوبہ یہی تھا کہ مشرق وسطی میں قائم امریکی اڈوں سے ایران پر حملے کرکے ایران کو جوابی حملے پر مجبور کردیا جائے تاکہ عرب ریاستیں اسے اپنی سرزمین پر حملہ سمجھ کر ایران کے ساتھ مصروف پیکار ہوجائیں اور امریکا واسرائیل بیچ سے نکل کر مسلم ممالک کے درمیان جنگ کا تماشا دیکھیں۔ مقام شکر ہے کہ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب نے اس سازش کا بالکل درست ادراک کرلیا اور ایران کے غیر ضروری حملوں کے باوجود صبرو تحمل کا مظاہرہ کیاجس سے جنگ کو پورے مشرق وسطی اور خلیج میں پھیلانے کا امریکی و اسرائیلی منصوبہ دھرا کہ دھرا رہ گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسلامی وعرب ممالک کو آگے بھی اسی سمجھداری اور بیدار مغزی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اغیار کی جنگ کا حصہ بننے سے بچنا چاہیے۔

