پٹرول کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ بلاجواز اور ظالمانہ

وزیراعظم نے معاشی ترقی، سادگی اور بچت پر مبنی لائحہ عمل تشکیل دینے اور عوام پر بوجھ کم سے کم رکھنے کی بھی ہدایت کردی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت حالیہ عالمی تناظر میں ملکی معاشی صورت حال پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں حالیہ کشیدگی اور اس کے خطے پر پڑنے والے معاشی اثرات پر بریفنگ دی گئی۔ شہباز شریف نے کہا کہ جو پیٹرول پمپس یا کمپنی بھی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی گئی ہو، اس کو فوراً بند کیا جائے، ایسے پیٹرول پمپ یا کمپنی کا لائسنس منسوخ کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔

پاکستان اس وقت ایک غیر معمولی معاشی اورسیاسی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ملکی معیشت پہلے ہی طویل عرصے سے مشکلات، عدم استحکام اور مالیاتی دباؤ سے گزرتی رہی ہے۔ مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، توانائی بحران اور قرضوں کے بوجھ نے قومی معیشت کو شدید آزمائش میں مبتلا رکھا۔ اس پس منظر میں یہ ایک خوش آئند امر تھا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے معاشی بحالی کی کچھ ابتدائی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئی تھیں۔ حکومت کی طرف سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے مگر بدقسمتی سے ملکی تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ جیسے ہی معاشی بحالی کا سفر شروع ہوتا ہے، کوئی نہ کوئی غیر متوقع داخلی یا خارجی بحران پیدا ہو جاتا ہے جو اس عمل کو ایک بار پھر پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ موجودہ صورتحال بھی ایک تازہ مثال ہے۔اگرچہ جاری جنگ پاکستان کی سرزمین سے دور ہے، تاہم خطے میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی بدترین جنگ کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور فریقین کے درمیان انتہائی شدید نوعیت کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بدقسمتی سے صرف عسکری اہداف ہی نہیں بلکہ عوامی مقامات بھی نشانہ بن رہے ہیں۔ جنگ کے آغاز میں امریکا نے ایران میں بچوں کے ایک تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا اور اب ایران کے جزیرہ قشم میں واقع ایک اہم واٹر ڈی سلینیشن پلانٹ پر حملہ کیا گیا۔ یہ حملے جنگ کی مسلمہ اخلاقیات، بین الاقوامی قوانینِ جنگ کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ ان واقعات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس جنگ میں کس حد تک سفاکی اور انسانیت سوزی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

سویلین مقامات اور عوامی سہولتوں کو نشانہ بنانے کے اس خطرناک رجحان کے اثرات اب صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے عالمی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں سب سے بڑا اثر توانائی کی عالمی ترسیل پر پڑا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل کی سپلائی شدید متاثر ہے۔ اس سمندری گزرگاہ سے نہ صرف تیل بلکہ گیس کی بڑی مقدار بھی دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ اب اس کی بندش نے توانائی کے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان کی تیل کی ضروریات تقریباً مکمل درآمدات پر منحصر ہیں، جبکہ گیس کی ایک بڑی مقدار بھی بیرون ملک سے حاصل کی جاتی ہے۔ ان درآمدات کا بڑا حصہ خلیجی خطے سے آتا ہے اور ان کی ترسیل کا بنیادی راستہ بھی آبنائے ہرمز ہی ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر یہ بات واضح ہے کہ اس گزرگاہ کی بندش پاکستان کی توانائی کی فراہمی اور مجموعی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ پاکستان میں تیل و گیس کے قومی ذخائر پہلے ہی محدود ہیں۔ اگرچہ حکومتی وضاحتوں کے مطابق فی الحال ملک کو توانائی کی فوری قلت کا سامنا نہیں، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ اسٹاک زیادہ مدت کے لئے کافی نہیں۔ خدانخواستہ جنگ نے مزید طول پکڑ لیا اور آبنائے ہرمز بدستوربند رہی تو آنے والے دنوں میں سنگین توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لئے متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی حکومت نے کفایت شعاری اور بچت پر مبنی ہنگامی منصوبہ بھی تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔کچھ اقدامات کے تحت تعلیمی اداروں کو عارضی تعطیلات دینے یا آن لائن کلاسز کی طرف جانے کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔

حکومت کی یہ کوششیں قابل تحسین ہیں، تاہم ان اقدامات پر عوامی حلقوں میں ملا جلا ردعمل پایا جا رہا ہے۔ بہت سے حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ بچت اور کفایت شعاری کا بوجھ صرف عام شہریوں اور طلبہ پر کیوں ڈالا جا رہا ہے جبکہ مراعات یافتہ طبقات بدستور اپنی سہولتوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ایک اہم تجویز یہ سامنے آئی ہے کہ سرکاری عہدیداروں، وزرائ، ارکانِ اسمبلی، اعلیٰ سرکاری افسران اور دیگر مراعات یافتہ افراد کو فراہم کیے جانے والے مفت پٹرول اور سرکاری ٹرانسپورٹ کی سہولت کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ موجودہ صورتحال میں یہ اقدام بھی نہایت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ حکومتی بیانات کے مطابق ملک میں تقریباً ایک ماہ کا پٹرول اسٹاک موجود ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث نئی سپلائی متاثر ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب نئی سپلائی آئی نہیں ہے، تو موجودہ اسٹاک پر حکومت نے فی لیٹر پچپن روپے کا غیر معمولی اضافہ کس بنیاد پر کر دیا؟

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس عالمی بحران کے باوجود کئی ممالک میں فی الحال پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بھی قیمتیں برقرار رکھی گئی ہیں جبکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی یہی صورتحال ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں اچانک اتنا بڑا اضافہ شدید تشویش اور بے چینی کا باعث ہے۔ قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے نتیجے میں مارکیٹ میں بے یقینی اور افواہوں کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ بہت سے لوگ اس خدشے کے تحت پٹرول ذخیرہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی یا قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر یہی صورت حال جاری رہی تو جو ذخیرہ ایک ماہ کیلئے موجود ہے وہ افراتفری میں اس سے پہلے ہی ختم ہو جائے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر قیمت بڑھانے کے اس ظالمانہ فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے۔ عوام کو اعتماد میں لیا جائے، غیر ضروری اضافہ واپس لیا جائے اور حقیقی بچت اقدامات کا آغاز کیا جائے۔ سب سے پہلے حکمران طبقے کی مراعات میں کمی کی جائے اور مفت پٹرول و سرکاری ٹرانسپورٹ جیسی سہولتوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے حکومت عوام کا اعتماد بحال کر سکتی ہے اور مشکل حالات میں قومی یکجہتی کو مضبوط بنا سکتی ہے۔