پاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف جاری کارروائیوں پر بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز، غیر ضروری اور شدید منافقت پر مبنی قرار دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف پاکستان کی قانونی اور ہدفی کارروائیوں پر بھارت کا تبصرہ حیران کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ماضی سے ہی افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔
عالم اسلام اس وقت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ خطے کی سیاست، سلامتی اور معیشت پر ایسے خطرات منڈلا رہے ہیں جن کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا تک پھیل رہے ہیں۔ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ اور تباہ کن حملوں نے نہ صرف پورے خطے کو اضطراب اور بے چینی میں مبتلا کردیا ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ توانائی کی منڈیاں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، عالمی تجارت متاثر ہو رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ دنیا کے سیاسی اور معاشی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے نازک وقت میں جب عالم اسلام کو اتحاد، بصیرت اور مشترکہ حکمت عملی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، یہ حقیقت نہایت افسوسناک ہے کہ ایک اہم اسلامی ملک پاکستان دوسرے اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ شدید کشیدگی اور جنگ جیسی صورت حال میں الجھا ہوا ہے اور وہ قوت، توانائی اور صلاحیت جو مشترکہ دشمن کے مقابلے کیلئے استعمال ہونی چاہیے تھی، بدقسمتی سے باہمی خونریزی کی نذر ہو رہی ہے۔ یہ واضح ہے کہ پاکستان اس صورت حال کا خواہاں نہیں تھا۔ پاکستان طویل عرصے تک صبر، تحمل اور مذاکرات کے ذریعے اس نوبت کو ٹالنے کی کوشش کرتا رہا لیکن حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق پاکستان کو انتہائی ناگزیر حالات میں ناگوار اقدامات کی طرف جانا پڑا۔
پاکستان میں کوئی بھی نہیں چاہتا کہ افغانستان جیسے کمزور اور مشکلات سے دوچار ملک کے ساتھ باقاعدہ جنگ لڑی جائے۔ اس کی ایک وجہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے مذہبی، تاریخی، جغرافیائی اور نسلی و لسانی رشتہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے افغان عوام کے لئے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے۔ سوویت افغان جنگ کے دوران پاکستان نے چالیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو پناہ دی۔ یہ مہاجرین کئی دہائیوں تک پاکستان میں مقیم رہے اور انہیں وہ تمام سہولیات فراہم کی گئیں جو عام پاکستانی شہریوں کو حاصل تھیں۔ ان کی دو تین نسلیں پاکستان میں پروان چڑھیں، تعلیم حاصل کی، کاروبار کیے اور ایک محفوظ زندگی گزاری۔ بعد ازاں نائن الیون کے بعد جب افغانستان ایک بار پھر مشکلات کے بھنور میں پھنس گیا تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی براہ راست پڑے۔ دو دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگ اور عدم استحکام نے پاکستان کو بھی شدید مشکلات سے دوچار کیا۔ اس عرصے میں پاکستان کو بہت سے مشکل اور ناگوار فیصلے کرنا پڑے اور افغان مزاحمت کو بھی کسی نہ کسی شکل میں تقویت پہنچانے کی کوشش کی۔ آخرکار 2021 میں دوحہ معاہدے کے بعد جب غیر ملکی افواج افغانستان سے نکل گئیں اور طالبان ایک بار پھر اقتدار میں آگئے تو پاکستان کو بجا طور پر امید تھی کہ اب خطے میں استحکام آئے گا اور گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری بے امنی کا خاتمہ ہوگا۔ پاکستان کا خیال تھا کہ طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان میں امن قائم ہوگا اور سرحد پار دہشت گردی کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور نئی حکومت تعمیر نو پر توجہ دے گی، مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔ افغانستان میں امریکی افواج کے چھوڑے گئے تقریباً سات ارب ڈالر کے جدید اور خطرناک اسلحے نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اصولی طور پر یہ بات قابلِ اعتراض نہیں تھی کہ طالبان حکومت افغانستان کی حکمران بن گئی تو اس اسلحے کی ملکیت بھی اسی کے پاس ہونی تھی، لیکن مسئلہ اس وقت سنگین صورت اختیار کرگیا جب یہی خطرناک اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث گروہوں کے ہاتھ لگنے لگا۔
رفتہ رفتہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا۔ اس صورت حال نے پاکستان کے لئے شدید تشویش پیدا کر دی۔ پاکستان نے مسئلے کو سنجیدگی سے طالبان حکومت کے سامنے اٹھایا۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان نے اس مسئلے پر سینکڑوں بار طالبان حکومت سے بات چیت کی، وفود بھیجے اور برادر ممالک کو بھی بیچ میں ڈالا۔ چین، روس اور خطے کے دیگر ممالک نے بھی طالبان حکومت کو اس مسئلے کے حل کی اہمیت سے آگاہ کیا لیکن یہ تمام کوششیں رائیگاں چلی گئیں۔جب حالات ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ گئے تو پاکستان نے متعدد انتباہات کے بعد افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں شروع کردیں۔ یہ کارروائیاں یقینا ایک ناگوار لیکن ناگزیر ردعمل ہیں۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ خطے کے تمام ممالک اس مسئلے پر پاکستان کے موقف کے حامی ہیں، تاہم حیرت انگیز طور پر پاکستان کا دیرینہ دشمن بھارت طالبان حکومت کا ہمدرد اور ترجمان بنا ہوا ہے۔ بھارت نہ صرف پاکستان بلکہ اپنی سرزمین پر موجود کروڑوں مسلمانوں کے وجود کا دشمن ہے۔ ایسے ملک کا طالبان حکومت کا ساتھ دینا خود طالبان حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ افغان عوام گزشتہ پانچ دہائیوں سے جنگ، خونریزی اور بے گھری کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہیں اب امن، استحکام اور ترقی کی ضرورت ہے، مگر ان پر مسلط طالبان ٹولہ انہیں ایک بار پھر اپنی عقل سے عاری پالیسیوں کے ذریعے قتل و خون اور بے دردی و بے خانمائی کی اذیتوں میں دھکیلنے کے درپے ہے۔ طالبان ٹولے کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ نری جذباتیت اور ضد کی بجائے حقیقت پسندی اور حکمت سے کام لے۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اب وہ ایک حکومت ہے، محض عربدہ جوئی پر آمادہ ایک گروہ نہیں۔ اب اس کے کندھوں پر افغانستان کے کروڑوں عوام کی ذمے داریاں بھی ہیں، جو ایک اچھی اور پرسکون زندگی کا حق رکھتے ہیں، جس کا تقاضا ہے کہ طالبان حکومت سرحد پار دہشت گردی کو روکے اور ایسے گروہوں کو لگام دے جو اپنی جہالت سے دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کو ہوا دے کر کروڑوں انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔

