کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں ڈیجیٹل طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے اقدامات کو وسعت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات شفاف، موثر اور عوام مرکز حکومت کے قیام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے یہ بات ای اسٹیمپنگ نظام کی دستخطی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔تقریب کے دوران بورڈ آف ریونیو سندھ اور سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کے درمیان ماسٹر سروس لیول ایگریمنٹ اور سروس آرڈر پر دستخط کیے گئے جس کا مقصد ای اسٹیمپنگ پلیٹ فارم کے تسلسل اور توسیع کو یقینی بنانا ہے۔
یہ اقدام سرکاری دستاویزات کی ڈیجیٹلائزیشن، جعلی اسٹامپ پیپرز کے خاتمے اور شہریوں کے لیے خدمات کو آسان بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ اصلاحات سندھ میں طرز حکمرانی کو جدید بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں جن کے ذریعے شفافیت، کارکردگی اور عوام کی رسائی میں بہتری لائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس آئی ٹی سی کے نظام سنبھالنے کے صرف پانچ ماہ کے دوران سات لاکھ تیس ہزار سے زائد چالان پراسیس کیے گئے ہیں اور ای اسٹیمپنگ پلیٹ فارم کے ذریعے 12.8 ارب روپے شفاف اور موثر انداز میں وصول کیے گئے ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ اس اصلاح کا دائرہ کار صرف ریونیو تک محدود نہیں بلکہ دستاویزی نظام میں طویل عرصے سے موجود بے ضابطگیوں کے خاتمے سے بھی متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای اسٹیمپنگ نظام جعلی اسٹامپ پیپرز کے مافیا کے خاتمے، بیک ڈیٹ دستاویزات کے رجحان کے خاتمے اور شہریوں کو سرکاری دفاتر کے باہر طویل قطاروں سے نجات دلانے میں مدد دے رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس اقدام کے اگلے مرحلے میں مکمل طور پر پیپر لیس نظام متعارف کرایا جائے گا جس کے تحت شہری اپنے لیپ ٹاپ یا موبائل ڈیوائس کے ذریعے آن لائن اسٹامپ دستاویزات تیار کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اصلاح صرف ایک تکنیکی اپ گریڈ نہیں بلکہ سندھ کے عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کی بحالی ہے۔تقریب کے دوران وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے آئی ٹی علی راشد نے بھی اس اقدام پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی مستقبل کی حکمرانی ہے اور اس کے ذریعے تیز، شفاف اور آسان عوامی خدمات کی فراہمی ممکن ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ای اسٹیمپنگ نظام بدعنوانی میں نمایاں کمی لائے گا، سرکاری عمل کو موثر بنائے گا اور شہریوں کے لیے سہولت میں اضافہ کرے گا۔

