جیٹ فیول،لائٹ ڈیزل،مٹی کا تیل ریکارڈ مہنگا

اسلام آباد:حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا۔جہازوں میں استعمال ہونے والے فیول کی قیمت میں13فیصد اضافہ کرتے ہوئے 45روپے 73پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا، جیٹ فیول کی قیمت388روپے ایک پیسے فی لیٹرمقرر کردی گئی۔

ملک بھر میں جہازوں کے کرایوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں بھی 22 فیصد اضافہ کردیا گیا، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں فی لیٹر67روپے42پیسے اضافے کے بعد نئی قیمت302روپے52پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔

دوسری جانب مٹی کا تیل 39 روپے 20پیسے فی لیٹرمہنگا ہوگیا، مٹی کے تیل کی نئی قیمت 3 سو 58روپے 1پیسے فی لیٹر مقررکی گئی ہے،اس سے قبل مٹی کے تیل کی قیمت 318روپے 81 پیسے فی لیٹر مقرر تھی۔ قبل ازیں وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیٹرول پر فی لیٹر 105 روپے 37پیسے اور ڈیزل پر لیوی 55روپے 24پیسے فی لیٹر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزارت توانائی کے مطابق وفاقی حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھ کر 23 ارب روپے کی سبسڈی ادا کریگی،یہ رقم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پرائس ڈیفرنشیل کلیمزکی مدمیں ادا کی جائے گی، 23 ارب روپے کی سبسڈی 14مارچ سے 20 مارچ تک کیلئے ادا کی جائے گی۔

پیٹرول پرفی لیٹر49روپے 63 پیسے سبسڈی ادا کی جائیگی،ڈیزل پرفی لیٹر 75روپے 5 پیسے سبسڈی ادا کی جائیگی،وزارت توانائی کیمطابق 23 ارب روپے کے پرائس ڈیفرینشل کلیمز اوگرا کی طرف سے ادا کیے جائیں گے،کابینہ سے ”وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ قائم کرنے کی منظوری حاصل کر لی گئی ہے۔

ای سی سی نے 27 ارب 10 کروڑ روپے اس فنڈمیں منتقل کرنے کی منظوری دی ہے اس میں سے 23 ارب روپے اوگرا کو مذکورہ مقصد کے لیے منتقل کیے جائیں گے۔

دریں اثناء حکومت کی جانب سے جیٹ فیول کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد مشرقِ وسطیٰ سمیت مختلف بین الاقوامی روٹس پر فضائی سفر مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ایئرلائنز اپنے آپریشنل اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہیں جس سے مشرقِ وسطی سمیت مختلف بیرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں کو زیادہ کرایہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ادھروفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری کارپوریشنز، خودمختار اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز اور سرکاری ملکیتی اداروں کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں دو ماہ کے لئے کٹوتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیاگیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق یہ رقم وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 ء میں جمع کرائی جائے گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق تین لاکھ سے دس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے افسران کی تنخواہ سے 5 فیصد، دس لاکھ سے بیس لاکھ روپے تنخواہ والوں سے 15 فیصد، بیس لاکھ سے تیس لاکھ روپے تنخواہ والوں سے 25 فیصد جبکہ تیس لاکھ روپے سے زائد تنخواہ لینے والوں سے 30 فیصد کٹوتی دو ماہ تک کی جائے گی۔

اسی طرح سرکاری نامزد افراد کو سرکاری و نجی کمپنیوں کے بورڈ اجلاسوں میں ملنے والی 100 فیصد فیس بھی آئندہ دو ماہ کیلئے وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں جمع کرائی جائے گی۔وزارت خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ 23 مارچ کو بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں تقریبات کے بجائے سادہ پرچم کشائی کی جائے گی۔

علاوہ ازیں بیرون ملک مشنز کے بجٹ میں بھی چوتھی سہ ماہی کے لیے 20 فیصد کمی اور افسران کی دو روزہ تنخواہ کی کٹوتی لاگو ہوگی۔نوٹیفکیشن کے مطابق کرایوں، تعلیمی اخراجات اور طبی سہولیات سے متعلق ادائیگیاں جاری رہیں گی۔