غزہ/بیروت:غزہ کی پٹی میں قابض افواج کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ہفتے کی علی الصبح اسرائیلی ڈرون حملے میں دو شہری شہید اور دو زخمی ہو گئے۔طبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ خان یونس کے مغرب میں ایک پولیس چوکی کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں 35 سالہ احمد محمد المغربی اور 43 سالہ مصعب غازی الرقب جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ سات اکتوبر 2023ء سے غزہ کی پٹی پر جاری قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں کی مجموعی تعداد 72,234 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 171,852 تک جا پہنچی ہے۔
ادھر ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے بعد سے غزہ کی پٹی میں امدادی اور غذائی اشیاء کی فراہمی میں شدید کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ قابض اسرائیل نے گزرگاہوں پر پابندیوں کی پالیسی کو مزید سخت کر دیا ہے۔
حکومتی میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل اسماعیل الثوابتہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ عرصے کے دوران گزرگاہیں انتہائی محدود پیمانے پر کھولی گئیں جس کے نتیجے میں طے شدہ معاہدوں کے تحت متوقع 6000 ٹرکوں کے بجائے صرف 640 ٹرک ہی غزہ کی پٹی میں داخل ہو سکے جو کہ اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق اصل ضرورت کا محض 10 فیصد بنتا ہے۔
دریں اثناء غزہ کی پٹی میں سول ڈیفنس کی جنرل ڈائریکٹوریٹ نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی فضاؤں کو اپنی لپیٹ میں لینے والی گرد آلود ہواؤں کے اثرات سے بچنے کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔
مٹی اور ریت سے لدا یہ ریگستانی طوفان ان بے گھر فلسطینیوں کی تکالیف کو کئی گنا بڑھا رہا ہے جو ایسی خیمہ بستیوں میں مقیم ہیں جہاں تحفظ کی کم از کم سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔
علاوہ ازیںمقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم کے مشرق میں واقع گاؤں کیسان پر یہودی آبادکاروں کے ایک وحشیانہ حملے کے نتیجے میں چار شہری گولیوں کی زد میں آنے اور تشدد کی وجہ سے زخمی ہو گئے، جبکہ مسلح آبادکاروں نے ایک شہری کی درجنوں بھیڑیں بھی لوٹ لیں۔
ادھرلبنان کی سرزمین پر دو مارچ سے جاری مسلسل جارحیت کے تسلسل میں ہفتے کی علی الصبح سے ہونے والی اسرائیلی فضائی غارت گری کے نتیجے میں 12 طبی اہلکاروں سمیت 25افراد جاں بحق ہو گئے۔لبنانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی لبنان میں واقع حارہ صیدا کے مقام پر ایک اپارٹمنٹ کو نشانہ بنانے والی اسرائیلی بمباری میں 4 افرادجاں بحق ہو گئے۔
اسی طرح اسرائیلی جنگی طیاروں نے الطیبہ نامی قصبے میں ایک گھر پر حملہ کیا، تاہم صبح 06:50 (جی ایم ٹی) تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔محافظہ نبطیہ (جنوب) میں بنت جبیل کے علاقے برج قلاویہ میں واقع پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹر پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں طبی عملے کے 12 ارکان جاں بحق ہو گئے، جس کی تصدیق لبنانی وزارت صحت کے ایک بیان میں کی گئی ہے۔
برطانوی کرائے کے فوجی ڈیوڈ میکنٹوش کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو کلپ نے غزہ کی پٹی میں غذائی امداد کے منتظر نہتے فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی فوجیوں کی براہ راست فائرنگ کے ہولناک مناظر ایک بار پھر تازہ کر دیے ہیں۔
یہ مناظر بھوک کے ستائے فلسطینیوں کے خلاف قابض اسرائیل کی وحشیانہ سفاکیت اور جنگی جرائم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔میکنٹوش نے اپنے انسٹاگرام پیج پر جو ویڈیوز شیئر کی ہیں وہ اس وقت کی ہیں جب وہ “غزہ ہیومینیٹرین” نامی ادارے کے امدادی مراکز کی سیکورٹی پر مامور مشترکہ فورس کا حصہ تھا۔
ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فوجی ٹینکوں پر سوار ہو کر ان شہریوں پر گولیاں برسا رہے ہیں جو امداد کے حصول کے لیے جمع ہوئے تھے۔
حماس نے ایران پر امریکی و صہیونی جارحیت کی ایک بار پھر شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کو اس کا جواب دینے کا مکمل حق حاصل ہے، تاہم تحریک نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کرے۔
حماس نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ ایران پر جارحیت بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی انسانی قانون کے قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے جو خطے اور دنیا کے امن و سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے۔

