متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرا سے 2جہاز 10 سے 12 کروڑ لیٹر تیل کے ساتھ کراچی پہنچ گئے۔پی این ایس سی کے حکام نے تصدیق کی کہ دونوں جہازوں نے مقررہ مقدار میں تیل لے کر کراچی کی بندرگاہ پر کامیابی کے ساتھ پہنچایا، فجیرا میں حالیہ دنوں میں جہازوں پر حملوں کے بعد یہ محفوظ منتقلی انتہائی ضروری تھی۔
وزیر میری ٹائم جنید انور نے کہا کہ جہازوں کی محفوظ منتقلی کے لیے پاک بحریہ کے کردار کو سراہتے ہیں اور ان کے شکر گزار ہیں، وزارت خارجہ کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ خلیج فارس میں پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالنے کے لیے ایران سے رابطے کیے جائیں۔پی این ایس سی حکام کے مطابق یہ تیل ملکی ضروریات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی بروقت دستیابی توانائی کے شعبے میں استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
ادھرعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں نے ایک بار پھر تیزی سے اوپر کا رخ کر لیا ہے، جہاں ایک ہی دن میں تقریبا 10 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔اس غیر معمولی اضافے کے بعد برینٹ کروڈ آئل 101 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا ہے۔بین الاقوامی مارکیٹ میں برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت 9.29 ڈالر اضافے کے بعد 101.3 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی 9.02 ڈالر مہنگا ہو کر 96.27 ڈالر فی بیرل پر جا پہنچا۔
ادھرپورٹ قاسم پر پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی بردار بحری جہازوں کی آمد اور ترسیل کا عمل معمول کے مطابق جاری ہے اور مختلف ٹرمینلز پر کارگو کی ہینڈلنگ موثر انداز میں کی جا رہی ہے۔پورٹ قاسم اتھارٹی حکام کے مطابق آئل ٹرمینلز پر پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کے لیے آپریشنز بلا تعطل جاری ہیں، اس وقت ایم ٹی نیو ایٹروپوس فوٹکو آئل ٹرمینل کے ساتھ لنگر انداز ہے جو 53 ہزار 139 میٹرک ٹن پیٹرول (موگاس)لے کر آیا ہے، جہاز سے پیٹرول کی ان لوڈنگ کا عمل جاری ہے۔
بیان میں کہا گیاہے کہ پورٹ قاسم کی بیرونی لنگرگاہ پر مزید دو بحری جہاز برتھنگ کے منتظر ہیں، ایم ٹی سپروس ٹو 55 ہزار 101 میٹرک ٹن گیس آئل جبکہ ایم ٹی سی کلپر 40 ہزار 229 میٹرک ٹن موگاس لے کر پہنچا ہے۔

