چوتھی و آخری قسط:
ہمارے ہاں اس وقت ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ غزہ پیس بورڈ کیا ہے؟ سادہ سی بات یہ ہے کہ غزہ کو اسرائیلیوں نے فتح کرنے کی کوشش کی ہے، دو سال لڑائی لڑی ہے، غزہ والوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، اللہ پاک شہدا کے درجات بلند فرمائے، قربانیاں بارآور کرے۔ کیا اسرائیل حماس کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا ہے؟ اب وہ ہمیں آگے کر کے ہم سے شکست دلوانا چاہتا ہے۔ سادہ لفظوں میں غزہ پیس بورڈ کا مطلب یہ ہے کہ غزہ کو فلسطینیوں سے خالی کروانے کا جو کام امریکی سرپرستی میں اسرائیل دو سال میں نہیں کر سکا، اب غزہ کو حماس سے خالی کروانے کا کام ہم سے لینا چاہتا ہے۔ اور ہم نے yes کر دیا ہے کہ حاضر سائیں۔
ہمارا ریاستی موقف کیا ہے؟ ہمارا موقف شروع سے وہی چلا آ رہا ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح کا تھا کہ اسرائیل ناجائز ریاست ہے، فلسطین فلسطینیوں کا ہے، دنیا سے لا کر بسائے جانے والے یہودیوں کا نہیں۔ وہ وہاں پر صدیوں سے چلے آنے والے باشندوں کا ملک ہے، باہر سے لا کر بسائے جانے والوں کا نہیں۔ فلسطین یہودیوں کا ہے یا فلسطینیوں کا ہے؟ لیکن فلسطینیوں کو نکال کر کون آئے گا وہاں پر؟ مصری آئیں گے؟ اردن والے آئیں گے؟ نکالے کون جائیں گے؟ فلسطینی۔ اور بسائے کون جائیں گے؟ یہودی۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ نسل در نسل چلے آنے والے ملک سے نکالے جائیں گے اور کوئی جرمنی سے لا کر بسایا جائے گا، کوئی فرانس سے لا کر بسایا جائے گا، یہ انصاف کا کونسا معیار ہے؟ اب کیا ہو گا؟ ہم لڑیں گے۔ اللہ ہمیں اس آزمائش سے بچا لے لیکن غزہ پیس بورڈ کا بنیادی مطلب کیا ہے کہ غزہ کو خالی کروایا جائے اور حماس کو وہ شکست دی جائے جو اسرائیل نہیں دے سکا اور یہ ہم سے دلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فلسطین فلسطینیوں کا ہے، اب تک ہمارا ریاستی اور قومی موقف یہی ہے، ہم یہ گزارش کرتے ہیں کہ اپنے موقف کو تبدیل نہ کریں۔ ایک ساتھی نے پوچھا کہ کیا وقت بدلنے سے موقف نہیں بدلتا؟ میں نے کہا ٹھیک ہے، بدلتا ہو گا، لیکن قائد اعظم نے کیا الفاظ کہے تھے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے۔ فلسطین کس کا ہے؟ فلسطینیوں کا۔ تو کیا ناجائز بچہ ساٹھ سال گزرنے کے بعد جائز ہو جاتا ہے؟ اس لیے ہماری درخواست یہ ہے کہ اس دلدل سے بچا جائے، یہ دلدل پاکستانی قوم کے لیے اور عالم اسلام کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو گی اور فلسطینیوں پر ظلم ہوگا۔
یہ دو ریاستی حل کا سوال ہمیں بھی درپیش ہے۔ اب تو دو ریاستی نہیں بلکہ یہودی ریاست کہا جا رہا ہے۔ جس زمانے میں یہ مسئلہ اٹھا تھا کہ ہمیں اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے، دو ریاستی حل کے طور پر، تو میں نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا آپ یہ فارمولا کشمیر پر قبول کر لیں گے؟ کشمیر میں تو آپ کو تین ریاستی حل کرنا پڑے گا۔ گلگت بلتستان الگ، آزاد کشمیر الگ، مقبوضہ کشمیر الگ۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ وہاں دو ریاستی حل آپ سے قبول کروا کے یہاں تین ریاستی حل قبول کروانا ہو؟ ہم وہاں الگ معیار رکھیں گے اور یہاں الگ معیار رکھیں گے؟ اس لیے عرض ہے کہ جو موقف چلا آ رہا ہے وہی انصاف کا موقف ہے، اسی پر قائم رہنا چاہیے۔
اس پر ایک لطیفہ یاد آیا۔ پرانے لوگوں کو یاد ہوگا کہ کشمیر کے شیخ عبد اللہ مرحوم و مغفور ایک مرتبہ یہاں دورے پر آئے تھے، ایوب خان کا زمانہ تھا۔ ہماری شادیوں میں جو بھانڈ ہوتے ہیں وہ بڑے ٹاپ کے ڈرامے کیا کرتے ہیں۔ اس زمانے میں ایک بڑی شادی تھی، وہاں بھانڈ آ گئے۔
ایک نے دوسرے سے پوچھا، میں انتظار کر رہا ہوں کافی دیر سے، تم لیٹ کیوں آئے ہو؟
اس نے کہا جی وہ شیرِ کشمیر آئے ہوئے تھے، میں استقبال کے لیے گیا تھا۔
اچھا! شیر کشمیر کیوں آئے ہیں؟
وہ کشمیر کی صلح ہو رہی ہے، کشمیر کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔
اچھا! حل ہو گیا ہے؟
بالکل ہو گیا ہے، کشمیر تقسیم ہو گیا ہے۔
کشمیر کی تقسیم کیا ہوئی ہے؟
کشمیر ہندوستان کا، کشمیری ہمارے۔
میرا خیال ہے اب بھی یہی فیصلہ ہونے جا رہا ہے: فلسطین یہودیوں کا، فلسطینی ہمارے۔ کچھ مصر کے، کچھ اردن کے، کچھ سعودیہ کے، کچھ ہمارے پاس بھی شاید آجائیں۔ میں ہاتھ جوڑ کے اسلام آباد میں آپ حضرات کے سامنے یہ گزارش کروں گا کہ اس مسئلے کو سمجھیں، ہم ٹرمپ کی فرنٹ لائن کیوں بنے ہوئے ہیں؟ ٹرمپ اپنی لڑائی خود لڑے۔ امریکا اپنی جنگ خود لڑے۔ ہم کیوں اس کے سپاہی بن رہے ہیں؟ ہم اس کے فارمولے پر کیوں چل رہے ہیں؟ اس لیے ہمارا موقف وہی ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا، جو اب تک ہمارا قومی موقف ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے، ہمیں کوئی دو ریاستی حل قبول نہیں، اسرائیل ناجائز ریاست ہے اور ناجائز ہی رہے گی اور ہمیں اس سے ناجائز ریاست کے طور پر ہی ڈیل کرنا چاہیے۔
یہ میں نے چند باتیں آپ سے عرض کر دی ہیں، گزارش یہ ہے کہ مہربانی فرمائیں، امت کی قیادت کریں، آپ اسلام آباد میں آ گئے ہیں تو پھر اسلام آباد والا کام کریں۔ اسلام آباد کے علماء کی ذمہ داری صرف خود تڑپنا ہی نہیں، اوروں کو تڑپانا بھی ہے
حق نے کر ڈالی ہیں دہری خدمتیں تیرے سپرد
خود تڑپنا ہی نہیں، اوروں کو تڑپانا بھی ہے
آگے بڑھیں، قیادت کریں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، کارکن ہیں آپ کے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام آباد کے تحفظ کی، اسلام آباد کی مساجد کے تحفظ کی، اسلام آباد کے مدارس کے تحفظ کی اور اس فورم کے حوالے سے ملک بھر میں ملک کی شناخت، ملک کی تہذیب، اور اپنے خاندانی نظام کے تحفظ کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین!

