مشکل ملکی حالات۔ صبر و حوصلے کی ضرورت

ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ یقینا ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے عام آدمی کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے زندگی دشوار ہو چکی تھی، ایسے میں پٹرول کی قیمتوں میں یک مشت پچپن روپے فی لیٹر اضافہ مرے پر سو درے مارنے اور ایک جاں بہ لب شخص کو لات رسید کرنے کے مترادف ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اس طرح کے اضافے براہِ راست عام آدمی کے روزمرہ اخراجات پر اثر انداز ہوتے ہیں اور لمحوں میں یہ اس کے انتہائی منفی اور سنگین اثرات جنگل میں آگ کی طرح پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ اس کا اثر صرف سفر تک محدود نہیں رہتا بلکہ نقل و حمل، خوراک، اشیائے ضروریہ اور دیگر بنیادی ضروریات تک پھیل جاتا ہے اور ہر شے کو مہنگائی کی لہر جکڑ لیتی ہے۔

حکومت ہر ایسے موقع پر عالمی منڈی میں مہنگائی کا جواز پیش کرتی اور یہ کہہ کر عذر کرتی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا کنٹرول اس کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ حکومت کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے، وہ جو بھی کہے عام آدمی کو اسے مانے بغیر چارہ نہیں۔ حکومت کوئی جواز نہ بھی پیش کرے تو ایک عام آدمی بھلا کیا کرلے گا، چلیں یہ پھر بھی حکومت کی مہربانی ہے کہ وہ یک طرفہ بیان کے ذریعے کسی حد تک تو عوام کو ”اعتماد” میں لینے کا کشٹ اٹھالیتی ہے۔بہرحال اس فیصلے کو بھی ہم ”آمنا” کہتے ہوئے تسلیم کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی یہ گزارش بہرحال رہتی ہے کہ اس قسم کے فیصلوں کے ساتھ ایسے مؤثر اقدامات بھی کیے جائیں جن کے نتیجے میں مہنگائی کے اژدھا غریب اور متوسط طبقے کو کم سے کم نقصان پہنچاسکے۔ کوشش کی جائے کہ ہر ممکن حد تک قیمتیں بڑھانے کے منفی اثرات سے کمزور طبقہ محفوظ رہ سکے، کیونکہ مہنگائی کا طوفان اگر بے قابو ہو جائے تو اسے سنبھالنا پھر کسی ادارے اور حکومت کے بس میں نہیں رہتا۔

اس تناظر میں ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے یہ مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے کہ اس نے اس صورتحال کا احساس کرتے ہوئے بعض ایسے اقدامات کا اعلان کیا ہے جن کا مقصد حکومتی سطح پر اخراجات کو کم کرنا اور وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنانا ہے، تاکہ اضافے کے آفٹر شاکس محدود رہیں اور قومی خزانے پر کم سے کم بار آئے۔ نیز کمزور طبقات کو بھی کسی حد تک ریلیف ملے۔ اگر ان اعلانات پر سنجیدگی کے ساتھ عمل درآمد ہو جائے تو یقینا اس سے نہ صرف مالی نظم و ضبط بہتر ہوگا بلکہ عوام میں بھی اعتماد پیدا ہوگا کہ مشکل حالات میں قیادت خود بھی کفایت شعاری کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔

البتہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید ٹھوس اور دیرپا اقدامات کی ضرورت بھی موجود ہے۔ خصوصاً ایسے طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے جن سے عام آدمی پر بوجھ کم سے کم پڑے اور قومی وسائل کا استعمال زیادہ ذمہ داری اور اعتدال کے ساتھ ہو۔ اگر حکومتی اخراجات میں کفایت شعاری اور نظم و ضبط کو مزید مضبوط کیا جائے تو اس کے مثبت اثرات یقینا پورے معاشرے تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس موقع پر قوم کی بھی ذمہ داری ہے۔ مشکل حالات میں قوموں کی اصل قوت ان کے باہمی اتحاد، صبر اور احساس ذمہ داری میں ہوتی ہے۔ اگر ہم سب اپنی اپنی سطح پر دیانت، محنت اور کفایت شعاری کو اختیار کریں، وسائل کا ضیاع روکیں، قناعت اختیار کریں اور اجتماعی مفاد کو مقدم رکھیں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے اور ہم سب کی زندگی بہت حد تک آسان ہوجائے گی۔ ویسے بھی ہمارے دین نے ہمیں قناعت، سادگی، صبر، حوصلہ مندی اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی صراحت اور تاکید کے ساتھ تعلیم دی ہے۔ ضرورت ان تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں لانے کی ہے۔ ان شاء اللہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی خود سہل ہوجائے گی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت ملک کو داخلی اور عالمی سطح پر مختلف نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں۔ ایسے حالات میں قومی ادارے اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور ملک کے امن و استحکام کے لیے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اس کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا دراصل ہمارے ایمان اور ذمہ داری کا تقاضا ہے۔ اگر قیادت، ادارے اور عوام سب مل کر اخلاص اور سنجیدگی کے ساتھ ایک واضح لائحہ عمل اختیار کریں تو ان شاء اللہ موجودہ مشکلات بھی مستقل نہیں رہیں گی۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ قومی بچت پلان پر سنجیدگی سے عمل ہوگا اور آئندہ بھی ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے معاشی استحکام، عوامی ریلیف اور قومی یکجہتی کو فروغ ملے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے وطن عزیز کو امن، استحکام اور ترقی نصیب فرمائے اور ہمیں اتحاد و اتفاق کے ساتھ آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔