ایران۔ امریکا جنگ اور امتِ مسلمہ کی بیداری

مشرقِ وسطی ایک بار پھر ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری فوجی کارروائیوں نے پورے خطے کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ فروری 2026کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی کارروائیوں نے ایران کے متعدد فوجی اور جوہری مراکز کو نشانہ بنایا جس کے بعد صورتحال تیزی سے ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ ایران نے بھی اس کے جواب میں میزائلوں اور ڈرون حملوں کے ذریعے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس جنگ نے چند ہی دنوں میں پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس کے اثرات اب عالمی سیاست اور معیشت پر بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

خطے سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ جنگ صرف ایران تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات لبنان، خلیجی ممالک اور بحیرہ عرب کے علاقوں تک پھیل چکے ہیںجس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور سفارتی مراکز کو نشانہ بنایا جس سے پورے خطے میں خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق یہ جنگ ایک درجن سے زائد ممالک کو بالواسطہ طور پر متاثر کر رہی ہے۔

اس جنگ کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ یہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہیں۔ دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے اور حالیہ کشیدگی کے باعث اس راستے پر جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ کئی تیل بردار جہازوں پر حملے ہوئے ہیں جبکہ سینکڑوں جہاز خطرات کے باعث اس راستے سے گزرنے سے رک گئے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور عالمی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ ایران امریکا جنگ دراصل اس بڑی حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ مسلم دنیا آج شدید سیاسی تقسیم اور کمزوری کا شکار ہے۔ مسلم دنیا کی آبادی تقریباً دو ارب کے قریب ہے، وسائل بے شمار ہیں اور جغرافیائی اعتبار سے بھی اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ دنیا کے بڑے تیل اور گیس کے ذخائر مسلم ممالک میں ہیں اور عالمی تجارت کے اہم سمندری راستے بھی اسی خطے سے گزرتے ہیں۔ اس کے باوجود عالمی سیاست میں مسلم دنیا کی آواز کمزور نظر آتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ باہمی اختلافات، سیاسی تقسیم اور مشترکہ حکمتِ عملی کا فقدان ہے۔

اسلامی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب مسلمان متحد تھے تو وہ دنیا کی بڑی طاقتوں کے مقابلے میں ایک مضبوط قوت کے طور پر ابھرے تھے۔ خلافتِ راشدہ اور اس کے بعد کے ادوار میں مسلمانوں کی قوت کا راز صرف عسکری طاقت نہیں بلکہ فکری وحدت، اجتماعی شعور اور مضبوط قیادت تھی۔ قرآن مجید مسلمانوں کو واضح پیغام دیتا ہے کہ وہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور تفرقے سے بچیں مگر بدقسمتی سے موجودہ دور میں مسلم دنیا مختلف سیاسی اور مسلکی تقسیم کا شکار ہو کر اپنی اجتماعی قوت کو کمزور کر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی مسلم ملک پر بحران آتا ہے تو پوری امت ایک مضبوط اور متحد موقف اختیار کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ بھی اسی تقسیم کا ایک مظہر ہے۔ کچھ مسلم ممالک مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے مفادات وابستہ کیے ہوئے ہیں جبکہ بعض ممالک علاقائی سیاست کے تقاضوں کے تحت مختلف بلاکس کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس صورتحال نے مسلم دنیا کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں وہ اپنی اجتماعی طاقت کے باوجود عالمی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کھو بیٹھی ہے۔ اس بحران کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اگر یہ جنگ مزید پھیلتی ہے تو پورا مشرقِ وسطیٰ ایک طویل اور تباہ کن جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ لبنان، شام اور خلیجی ممالک پہلے ہی اس کشیدگی کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔ اگر علاقائی طاقتیں براہِ راست اس جنگ میں شامل ہو گئیں تو یہ تنازع ایک عالمی جنگ کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے جس کے نتائج نہ صرف مسلم دنیا بلکہ پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ہوں گے۔

ایسی صورتحال میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ پاکستان نہ صرف ایک بڑی مسلم ریاست ہے بلکہ ایک ایٹمی طاقت بھی ہے جسے عالمِ اسلام میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی تاریخی طور پر مسلم دنیا کے اتحاد، عالمی امن اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتی رہی ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے اسلامی ممالک کے درمیان تعاون اور اتحاد و اتفاق کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے اور فلسطین و کشمیر جیسے مسائل پر ہمیشہ مضبوط اور دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے۔

موجودہ ایران امریکا جنگ کے تناظر میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک متوازن اور دانشمندانہ سفارتی حکمتِ عملی اختیار کرے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی تعلقات ہیں جبکہ امریکا کے ساتھ بھی اس کے سفارتی اور اقتصادی روابط موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس بحران میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان اگر اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر مسلم ممالک کو متحد کرنے کی کوشش کرے اور جنگ بندی کے لیے سفارتی اقدامات کو فروغ دے تو یہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایران، امریکا جنگ محض دو ریاستوں کے درمیان طاقت کا مقابلہ نہیں بلکہ یہ اس عالمی نظام کی عکاسی بھی کرتی ہے جس میں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے کمزور خطوں کو میدانِ جنگ بنا دیتی ہیں۔ اس صورتحال کا واحد حل یہی ہے کہ مسلم دنیا اپنے اختلافات کو کم کر کے اتحاد، اقتصادی تعاون اور مشترکہ حکمتِ عملی کو فروغ دے۔ آج کا یہ بحران امتِ مسلمہ کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر مسلم دنیا اس صورتحال سے سبق سیکھ کر اتحاد، شعور اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھے تو وہ نہ صرف اپنے مسائل حل کر سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک باوقار اور مؤثر قوت کے طور پر بھی ابھر سکتی ہے۔

اگر مسلم ممالک محض وقتی ردِعمل اور جذباتی بیانات تک محدود رہیں گے تو یہ بحران بھی ماضی کی کئی آزمائشوں کی طرح گزر جائے گا اور امت کے بنیادی مسائل جوں کے توں باقی رہیں گے۔ اس کے برعکس اگر سیاسی قیادت دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاقائی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے کم کرنے، تجارت اور توانائی کے شعبوں میں باہمی انحصار بڑھانے اور علمی و سائنسی ترقی کو ترجیح دینے کا راستہ اختیار کرے تو ایک نئی سمت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشترکہ سفارتی مؤقف اور عالمی اداروں میں مربوط آواز بھی نہایت ضروری ہے تاکہ مسلم دنیا کے مفادات موثر انداز میں پیش کیے جا سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو موجودہ بحران کو محض خطرہ نہیں بلکہ ایک تعمیری موڑ میں بدل سکتا ہے۔