ایک پاکستانی کی حیثیت سے یہ احساس ہمیشہ میرے ساتھ رہا ہے کہ اپنے ملک پاکستان اور اس کی افواج کی پیشہ ورانہ مہارت پر ہمیں فخر بھی ہے اور اعتماد بھی۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کے سپاہیوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے وطن کا دفاع کیا اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ لیکن گزشتہ دنوں پیش آنے والے واقعات نے ایک اور حقیقت کو دل میں اور زیادہ واضح کر دیا اور وہ یہ کہ متحدہ عرب امارات بھی اپنی طاقت، نظم اور دفاعی صلاحیت کے اعتبار سے کسی طور کمزور ملک نہیں۔ یہاں کا مضبوط نظام، تیز رفتار فیصلہ سازی اور اداروں کی ہم آہنگی یہ احساس دلاتی ہے کہ اس سرزمین کا امن محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم قوت کا نتیجہ ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں جب کچھ کشیدہ خبریں سننے کو ملیں تو دل میں بے چینی کے بجائے ایک عجیب سا اطمینان بھی موجود تھا۔ یہ اطمینان اس اعتماد سے پیدا ہوتا ہے جو کسی ملک کے اداروں، اس کی قیادت اور اس کے محافظوں پر ہوتا ہے۔کبھی کبھی انسان کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کتنی بڑی نعمتوں کے درمیان زندگی گزار رہا ہے۔کم از کم امارات میں تو ہم اسی احساس کے ساتھ زندگی گزارتے رہے ہیں۔ امن، سکون اور استحکام ایسی چیزیں ہیں جن کے ساتھ اگر آدمی طویل عرصہ گزار لے تو وہ انہیں معمول سمجھنے لگتا ہے۔ مگر پھر اچانک کوئی واقعہ ہوتا ہے جو ہمیں چونکا دیتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ یہ سب کچھ کتنا قیمتی ہے۔
گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات میں پیش آنے والے واقعات کے بعد گزرنے والا ہفتہ کچھ ایسا ہی محسوس ہوا جس نے دل کے اندر ایک ایسا نیا احساس جگا دیا جس میں اس سرزمین کے لیے محبت بھی تھی، تشکر بھی اور ایک عجیب سی وابستگی بھی۔ہم میں سے بہت سے لوگ یہاں برسوں سے رہ رہے ہیں۔ زندگی اپنے ایک خوبصورت تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہی۔ یہاں امن گویا ایک فطری حالت تھی۔ بازار آباد، سڑکیں روشن، ادارے منظم اور زندگی کا پہیہ بغیر کسی رکاوٹ کے چلتا ہوا۔ ہم نے شاید کبھی سنجیدگی سے یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ دنیا کے بہت سے خطوں میں لوگ کس طرح ہر روز خوف اور بے یقینی کے ساتھ صبح کرتے ہیں۔امارات میں رہتے ہوئے ہمیں عالمی بحرانوں کی خبریں تو ملتی رہیں، مگر ان کا بوجھ ہم نے کبھی اس طرح محسوس نہیں کیا۔ 2008کا عالمی مالیاتی بحران ہو یا چند سال پہلے آنے والی کورونا وبا، دنیا کے کئی ممالک طویل عرصے تک ان کے اثرات سے نکل نہ سکے۔ مگر یہاں زندگی نے جیسے جلدی سے خود کو سنبھال لیا۔ شاید اسی لیے ہمیں یہ گمان ہونے لگا تھا کہ استحکام ہمیشہ اسی طرح قائم رہے گا۔
پھر اچانک یہ واقعات پیش آئے۔ پہلی دفعہ متحدہ عرب امارات میں بھی لوگوں کو خوف کا احساس ہوا۔ جب انسان دیار غیر میں خوف محسوس کرتا ہے تو سب سے پہلے اسے وطن کا خیال آجاتا ہے۔ مگر یہاں رہنے والے پردیسیوں کے دل کو وطن سے زیادہ اسی سرزمین کا خیال دامن گیر ہے۔ ان لمحوں میں پہلی بار دل نے یہ سوچا کہ وطن دراصل کیا ہوتا ہے۔ کیا یہ صرف ایک پاسپورٹ ہے؟ یا صرف ایک جغرافیہ؟ یا اس سے کہیں زیادہ کوئی گہرا تعلق؟ یہاں رہتے ہوئے ایک بات ہمیشہ دل کو چھوتی رہی ہے کہ اس سرزمین نے کبھی کسی سے یہ نہیں پوچھا کہ تم کہاں سے آئے ہو۔ تمہاری زبان کیا ہے، تمہارا مذہب کیا ہے، تمہارا رنگ کیا ہے۔ یہاں بس انسان کو انسان سمجھا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے جب ایسے دن آتے ہیں تو یہاں رہنے والے ہر شخص کو ایک عجیب سی مشترکہ فکر محسوس ہوتی ہے، جیسے سب ایک ہی گھر کے مکین ہوں۔ یہاں رہنے والے پردیسی خود کو پردیسی نہیں بلکہ اسی سرزمین کے باشندے خیال کرتے ہیں۔
اس دوران ایک اور حقیقت بھی سامنے آئی کہ افواہیں کس تیزی سے پھیلتی ہیں اور لوگ کس طرح غیر مصدقہ معلومات کے پیچھے دوڑنے لگتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا کہ جب ریاست کی جانب سے باضابطہ معلومات سامنے آئیں تو لوگوں نے ان پر اعتماد کیا۔ یہ اعتماد کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا۔ یہ برسوں کی ساکھ اور شفافیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ان سب احساسات کے درمیان ایک خیال بار بار ذہن میں آتا رہا کہ وہ لوگ کتنے عظیم ہیں جو اس ملک کی حفاظت کے لیے خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ مسلح افواج کے جوان، پولیس کے اہلکار، سرحدوں کے محافظ اور وہ تمام افراد جو شاید ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں مگر ہماری سلامتی کے لیے مسلسل جاگتے ہیں۔
ہم ان میں سے اکثر کو نہیں جانتے۔ ان کے چہرے ہمیں نظر نہیں آتے۔ ان کے نام اخبارات کی سرخیوں میں نہیں ہوتے مگر ان کی موجودگی کا احساس ہمیں اس سکون میں ملتا ہے جس کے ساتھ ہم رات کو سوتے اور صبح کو اٹھتے ہیں۔
یہی احساس ہمیں خود سے یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ کسی معاشرے کی اصل طاقت کیا ہوتی ہے۔ کیا وہ صرف اس کی معیشت ہے؟ اس کی عمارتیں ہیں؟ یا اس کے منصوبے اور سڑکیں؟شاید ان میں سے کوئی بھی نہیں، بلکہ کسی معاشرے کی اصل طاقت وہ اعتماد ہوتا ہے جو لوگوں کو اپنے اداروں اور اپنے محافظوں پر ہوتا ہے۔ جب ایک شہری کو یقین ہو کہ اس کے پیچھے ایک مضبوط نظام کھڑا ہے تو وہ خوف کے بجائے اطمینان کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔
امارات میں شاید یہی سب سے نمایاں چیز ہے۔ یہاں قیادت اور عوام کے درمیان ایک ایسا تعلق محسوس ہوتا ہے جس میں رسمی فاصلے کم اور باہمی اعتماد زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشکل وقت میں بھی معاشرہ بکھرتا نہیں بلکہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔یقینا یہ دن بھی گزر جائیں گے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ آزمائشیں مستقل نہیں ہوتیں، وہ مگر ہمیں اپنے بارے میں بہت کچھ سکھا جاتی ہیں۔ممکن ہے کچھ عرصے بعد زندگی پھر اسی معمول پر آ جائے جس کے ہم عادی ہیں، مگر شاید اس بار ہم امن کو پہلے کی طرح معمولی نہیں سمجھیں گے۔ شاید اس بار ہمیں اندازہ ہوگا کہ سکون اور استحکام کتنی بڑی نعمت ہیں۔
اور شاید اس بار ہمیں یہ بھی زیادہ شدت سے محسوس ہوگا کہ وطن صرف وہ جگہ نہیں ہوتا جہاں ہم رہتے ہیں، بلکہ ہر وہ جگہ بن جاتا ہے جس کی سلامتی کے لیے دل بے اختیار دعا کرنے لگتا ہے۔

