احتساب یا انتقام؟ پاکستان کی سیاست کا پرانا کھیل

پاکستان میں احتساب ہمیشہ سے سیاسی مباحث کا اہم موضوع رہا ہے۔ ہر دور میں حکومتیں بدعنوانی کے خاتمے کے نام پر نئے قوانین اور ادارے قائم کرتی رہی ہیں، لیکن عملی طور پر یہ سوال آج بھی موجود ہے کہ آیا یہ اقدامات حقیقی احتساب کے لیے تھے یا سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے۔ حالیہ دنوں میں قومی احتساب آرڈیننس 1999میں ایک بار پھر ترامیم منظور کی گئی ہیں، یہ ترامیم ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اس بل پر اختلافات موجود تھے، تاہم بعد ازاں دونوں فریقین کے درمیان معاملات طے پا گئے اور بل کی منظوری کی راہ ہموار ہوگئی۔ دوسری جانب حزب اختلاف، خصوصاً پاکستان تحریک انصاف نے ان ترامیم کی سخت مخالفت کی۔

یاد رہے جب تحریک انصاف کی حکومت اسی قانون میں ترامیم کے لیے پارلیمنٹ سے رجوع کرتی تھی تو مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت حکومتِ وقت کے خلاف تقریباً یہی موقف اختیار کرتی تھی جو آج تحریک انصاف کر رہی ہے۔ اسی طرح اس وقت کی حکومت اپوزیشن کے اعتراضات کا مذاق اڑایا کرتی تھی، جیسا کہ آج کی حکومت کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اصول نہیں بلکہ اقتدار کا زاویہ تبدیل ہوتا ہے۔

اگر پاکستان میں احتسابی قوانین کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ دراصل برطانوی دور سے شروع ہوتا ہے۔ تعزیراتِ پاکستان 1860میں بدعنوانی، جعلسازی، دھوکا دہی اور سرکاری فنڈز میں خیانت جیسے جرائم کیلئے واضح دفعات موجود تھیں۔ اس کے بعد 1947میں کرپشن روک تھام ایکٹ نافذ کیا گیا جس کا مقصد رشوت، ناجائز اثاثوں اور سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کیخلاف کارروائی کرنا تھا۔ بعد ازاں صوبائی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹس بھی اسی قانون کے تحت کام کرتی رہیں۔ ایوب خان کے دور میں احتساب کے نام پر دو اہم قوانین متعارف کرائے گئے۔ پبلک آفسز نااہلی آرڈر (پوڈو) اور الیکٹیو باڈیز نااہلی آرڈر (ای بی ڈی او) کے ذریعے سیاستدانوں اور سرکاری عہدیداروں کو بدعنوانی کے الزامات پر نااہل قرار دینے کا اختیار دیا گیا۔ اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایکٹ 1974کے تحت ایف آئی اے قائم کی گئی جسے مالی جرائم اور سرکاری فراڈ کی تحقیقات کا اختیار دیا گیا۔ ضیاء دور میں بھی احتساب کے نام پر قوانین متعارف کروائے گئے اور خصوصی احتسابی عدالتیں قائم کی گئیں۔ 1990کی دہائی میں نواز شریف دور حکومت میں احتساب بیورو اور احتساب ایکٹ 1997سامنے آئے، جبکہ جنرل مشرف کے دور میں قومی احتساب آرڈیننس 1999کے تحت نیب کا قیام عمل میں آیا۔ اس ادارے کو سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور کاروباری شخصیات کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات چلانے کا اختیار دیا گیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ان تمام ادوار کے باوجود تعزیراتِ پاکستان میں بدعنوانی سے متعلق بنیادی قوانین پہلے ہی سے موجود تھے۔ مثال کے طور پر رشوت ستانی کے خلاف سیکشن 161سے 165تک دفعات، سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف سیکشن 166سے 169تک، سرکاری اعتماد میں خیانت کیلئے سیکشن 409، جبکہ فراڈ اور جعلسازی کیلئے سیکشن 420اور 467سے 471تک واضح قانونی شقیں موجود ہیں۔ اس کے باوجود ہر حکومت نے احتساب کے نام پر نئے ادارے اور قوانین متعارف کروانے کو ترجیح دی۔ آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق جب بنیادی فوجداری قوانین میں بدعنوانی کے خلاف واضح دفعات موجود ہوں تو بار بار نئے احتسابی ادارے قائم کرنے کا مقصد سیاسی ہوتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ حکومتیں احتساب کے نام پر مخالفین کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔ جب یہی جماعتیں اپوزیشن میں جاتی ہیں تو وہی قوانین انہیں آمرانہ اور انتقامی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ احتساب کے نام پر قائم کیے گئے اداروں اور مقدمات پر جتنا مالی و انتظامی خرچ ہوا، شاید اتنی رقم ملزمان سے برآمد بھی نہ ہو سکی ہو۔ اس سے نہ صرف اداروں کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ احتساب کے تصور پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ماضی سے سبق سیکھیں۔ احتساب کو سیاسی انتقام کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی بجائے ایک شفاف اور غیر جانبدار نظام بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ متنازع احتسابی قوانین اور اداروں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور اگر ممکن ہو تو انہیں ختم کر کے تعزیراتِ پاکستان میں موجود قوانین کو موثر انداز میں نافذ کیا جائے۔ اگر واقعی بدعنوانی کا خاتمہ مقصود ہے تو قانون سازی کا مقصد سیاسی مفادات نہیں بلکہ ریاستی انصاف ہونا چاہیے۔ ورنہ احتساب کا یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہمیشہ کی طرح سیاسی انتقام کی شکل اختیار کرتا رہے گا۔