عشرہ رحمت و مغفرت کے بعد اب جہنم سے خلاصی کا عشرہ شروع ہونے کو ہے۔ یوں تو رمضان المبارک کا ہر لمحہ اور ہر ساعت اپنے اندر ڈھیروں رحمتیں سمیٹے ہوئے ہے۔ ہر دن دوسرے دن سے فضیلت و مرتبت میں بڑھا ہوا اور ہر شب کی عبادت کا اپنا جداگانہ ثواب ہے، مگر ان سب میں مجموعی طور پر آخری عشرہ سب سے زیادہ فضیلت کا حامل ہے۔
پہلا اور دوسرا عشرہ اگر رحمت و مغفرت کا پیامبر ہے تو آخری عشرہ بندگانِ خدا کے لیے جہنم سے خلاصی کی نوید بن کر آتا ہے۔ آخری عشرہ دراصل اللہ تعالیٰ کی اُن عنایات کا تسلسل ہے جو پہلے روزے سے مسلمانوں کے لیے مخصوص کر دی گئی تھیں۔ اس عشرے میں باری تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں تھی، پھر انسانوں کو مغفرت کے پروانے عطا کیے جارہے تھے اور اب آخری عشرے میں بندوں کو دوزخ کی آگ سے نجات دلانے کے لیے خصوصی مواقع عطا کیے جارہے ہیں۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’رمضان کا پہلا عشرہ رحمت ہے، دوسرا عشرہ مغفرت ہے اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے۔‘ (صحیح ابن خزیمہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے رمضان المبارک میں عبادات کا اہتمام فرماتے تھے، مگر بالخصوص آخری عشرے میں حد درجہ انہماک کے ساتھ رب تعالیٰ کی بندگی میں مشغول ہوجاتے تھے اور شب بیداری، ذکر و عبادت میں مزید مگن رہتے تھے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے میں جتنا مجاہدہ کیا کرتے تھے اتنا دیگر دنوں میں نہیں کیا کرتے تھے۔ اسی طرح ایک اور روایت میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آخری عشرہ داخل ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر بیدار رہتے، اپنی کمر کس لیتے اور اپنے گھر والوں کو بھی عبادت کے لیے جگایا کرتے تھے۔(صحیح مسلم و بخاری)
آخری عشرے کی خصوصی عبادات
آخری عشرہ عبادت و ریاضت کا سنہرا موقع ہے۔ اس میں کی جانے والی ہر عبادت باعثِ اجر ہے تاہم چند اعمال ایسے ہیں جو اس عشرہ کے ساتھ خاص اہمیت رکھتے ہیں، جن میں اعتکاف اور طاق راتوں کی عبادت نمایاں ہیں۔
اعتکاف کی فضیلت
اعتکاف کے معنی ہیں دنیاوی مصروفیات سے کنارہ کش ہو کر چند دنوں کے لیے مسجد میں قیام کرنا اور خود کو مکمل طور پر عبادتِ الٰہی کے لیے وقف کر دینا۔ یہ ایک نہایت بابرکت عمل ہے جس کی پابندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ فرمائی۔ ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ایک دن کا اعتکاف کرے، اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان ایسی خندقیں حائل فرما دیتے ہیں جن کی مسافت آسمان و زمین کے فاصلے سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ (کنزالعمال) اسی طرح رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔ اعتکاف درحقیقت ایک عاشقانہ عبادت ہے جس میں بندہ دنیا کی ہنگامہ خیزی سے الگ ہو کر اپنے رب کے حضور جھک جاتا ہے اور اس کی رضا کا طلبگار بن جاتا ہے۔
طاق راتیں اور شبِ قدر
رمضان المبارک کی آخری راتوں میں ایک عظیم رات ’لیلة القدر‘ ہے جس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قرار دی گئی ہے۔ اس رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خصوصی رحمتیں نازل فرماتا ہے اور گناہوں کی بخشش عطا کرتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’جو شخص لیلة القدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے عبادت کرے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں‘۔ (بخاری) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ قدر میں یہ دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی: ’ اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی ‘ ترجمہ:اے اللہ! تو معاف فرمانے والا ہے اور معاف کرنا تجھے پسند ہے، پس مجھے بھی معاف فرما دے‘۔
آخری عشرہ اور ہماری ذمہ داری
آخری عشرہ دراصل عبادت، دعا اور مغفرت طلب کرنے کا بہترین موقع ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس عشرے کے قیمتی لمحات بعض اوقات گھروں کی صفائی، آرائش اور عید کی خریداری میں ضائع ہوجاتے ہیں، حالانکہ یہ وہ مبارک ساعتیں ہیں جو بار بار نصیب نہیں ہوتیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان لمحات کو غنیمت جانا جائے۔ تلاوتِ قرآن، نوافل، ذکر و دعا اور دیگر عبادات کا اہتمام کیا جائے۔ کیا معلوم یہ رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو اور ہم آئندہ اس سعادت سے محروم رہ جائیں۔ لہٰذا ہم رمضان کے آخری عشرے کو اپنی زندگی کے آخری عشرے کی طرح سمجھ کر عبادت میں گزاریں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور نجات کی دعا کرتے رہیں، تاکہ وہ ہماری عبادات کو قبول فرما کر ہمیں جہنم کی آگ سے محفوظ فرما دے۔ (اقصیٰ مریم۔ اسلام آباد)

