جنگ سے مہنگائی بڑھے گی، سٹیٹ بینک کا انتباہ، شرح سود برقرار

اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 10.50 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کردیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے  اجلاس میں آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے شرح سود کا تعین کیا۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور توانائی کے عالمی بحران کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں افراطِ زر پر پڑنے والے دباؤ اور مجموعی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے پالیسی ریٹ کے تعین پر غور کیا گیا۔

کمیٹی کے مطابق حالیہ معاشی اعداد و شمار زیادہ تر پہلے کے اندازوں کے مطابق ہیں، تاہم مشرق وسطی میں جاری جنگ کے باعث معاشی صورتحال میں غیر یقینی بڑھ گئی ہے۔
کمیٹی نے کہا کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی عالمی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں جبکہ باربرداری اور بیمے کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ سرحد پار تجارت اور سفر کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں جس کے اثرات پاکستان کی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری 2026 میں مہنگائی بڑھ کر 5.8 فیصد ہو گئی جبکہ فروری میں یہ مزید بڑھ کر تقریبا 7 فیصد تک پہنچ گئی۔ مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجوہات خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور گھریلو صارفین کے لیے گیس کے نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ ہیں۔ اندازہ ہے کہ مالی سال 2026 کے باقی مہینوں اور مالی سال 2027 کے آغاز میں مہنگائی 7 فیصد سے زائد رہ سکتی ہے۔
مانیٹری پالیسی میں کہا گیا کہ بیرونی شعبے میں کچھ بہتری بھی دیکھی گئی۔ جنوری میں کرنٹ اکائونٹ سرپلس رہا اور 27 فروری تک ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16.3 ارب ڈالر ہو گئے۔معاشی سرگرمیوں میں بھی بتدریج بہتری آ رہی ہے۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا جبکہ اندازہ ہے کہ مالی سال 2026 میں معیشت کی شرح نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا ہے کہ عالمی حالات، تیل کی قیمتوں اور رسدی نظام میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث معیشت کو اب بھی خطرات لاحق ہیں، اس لیے حکومت کو معاشی اصلاحات تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قیمتوں میں استحکام اور پائیدار معاشی ترقی ممکن ہو سکے۔