(8مارچ ،عالمی یوم خواتین کے لیے خصوصی تحریر)
دین اسلام نے عورتوں کو جتنے حقوق عطا فرمائے ہیں اس کی مثال کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی۔ اللہ تعالی کا واضح ارشاد ہے:” عورتوں کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک سے زندگی گزارو۔” (سورة النسائ، آیت نمبر: 19) اسلام سے پہلے جتنی تہذیبیں تھیں ان میں خواتین کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا تھا۔ ان کے حقوق نہ ہونے کے برابر تھے، بلکہ دور جاہلیت میں تو انہیں زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔ اسلام نے عورت کو نہ صرف عزت دی بلکہ بے شمار وہ حقوق دیے جو آج بھی پوری دنیا کے لیے مشعل راہ ہیں۔
آئیے! دیکھتے ہیں اسلام نے عورت کو کون کون سے حقوق دیے:قران مجید نے عورتوں کو وراثت میں حصے دار قرار دیا اور واضح طور پر آیات نازل کیں جن میں بتایا گیا کہ عورت کو کب کس صورت میں کتنا حصہ ملے گا؟ سورہ نساء کی آیت نمبر 7 میں اللہ کا ارشاد ہے:” مردوں کے لیے اس میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ کر جائیں اور عورتوں کے لیے بھی اس میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ کر جانا۔”قرآن مجید نے عورتوں سے اچھے سلوک اور گھریلو زندگی میں عورت کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:”یا تو انہیں بھلائی کے ساتھ اپنے پاس رکھو یا انہیں اچھے طریقے سے چھوڑ دو۔” (سورہ بقرہ: آیت نمبر 229) اس سے پتہ چلتا ہے کہ ازدواجی زندگی میں عورتوں کے بھی حقوق ہیں اور شوہر ان پر کوئی بھی ناروا جبر نہیں کر سکتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شوہر کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:” تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ بہتر ہے اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں۔” (ترمذی شریف حدیث نمبر: 3895) اس سے پتہ چلتا ہے کہ شوہر پر لازم ہے کہ بیوی سے اچھا سلوک اور محبت کا تعلق رکھیں۔
مردوں کے ساتھ ساتھ اسلام نے عورتوں کو بھی تعلیم کا حق دیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک ارشاد فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس حکم میں مسلمان مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں خواتین اور صحابیات بھی علم حاصل کیا کرتی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی علمی حیثیت پوری دنیا میں مسلم ہے۔ آپ سے روایت کی گئی احادیث ہر حدیث کی کتاب میں پائی جاتی ہیں۔ عورتوں کو مالی حقوق بھی دیے گئے ہیں اور وراثت، مہر، جائیداد کی ملکیت، کاروبار اور ذاتی ملکیت کا حق بھی عورت کو دیا گیا ہے۔ صحابیات میں ایک بڑی تعداد تجارت پیشہ خواتین کی بھی تھی۔ خود ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ تجارت پیشہ خاتون تھیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی اہلیہ حضرت رائطہ بھی تجارت کیا کرتی تھیں۔شادی میں بھی عورت کو مجبور نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ رضامندی کا اظہار نہ کرے۔ گویا شادی کا حق بھی عورت کو دیا گیا ہے جب تک وہ رضامند نہ ہو اس وقت تک اس کی مرضی کے خلاف شادی نہیں کروائی جا سکتی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:” کنواری لڑکی سے اس کے نکاح کے بارے میں اجازت لینا ضروری ہے۔” (بخاری شریف حدیث نمبر: 5136)
خواتین کو عزت اور وقار دینا بھی ضروری ہے۔ خواتین کا ایک معاشرتی مقام ہے جس کا پاس رکھنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” بہترین مسلمان وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے بہترین ہے۔” (ترمذی شریف، حدیث نمبر: 1162) عورت کو اسلام نے خلع کا حق بھی دیا ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے شوہر سے ناراض ہو یا اس کے ساتھ نہ رہنا چاہتی ہو تو وہ خلع لے سکتی ہے۔ خلع عورت کا ایسا حق ہے جسے وہ ضرورت پڑنے پر مجبوری کے حالات میں استعمال کر سکتی ہے۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل ایمان کی جنت ماں کے قدموں تلے قرار دے کر ماں کو معاشرے کا سب سے زیادہ مکرم و محترم مقام عطا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ حسن سلوک کی مستحق ماں ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:” ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا: یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری والدہ، عرض کی کہ پھر کون ہے فرمایا کہ تمہاری والدہ، عرض کی کہ پھر کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری والدہ ہے، عرض کی کہ پھر کون ہے؟ فرمایا کہ تمہارا والد ہے۔” (صحیح بخاری:حدیث نمبر: 2227)وہ معاشرہ جہاں بیٹی کی پیدائش کو ذلت و رسوائی کا سبب قرار دیا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹی کو احترام و عزت کا مقام عطا کیا۔ اسلام نے نہ صرف معاشرتی و سماجی سطح پر بیٹی کا مقام بلند کیا بلکہ اسے وراثت کا حق دار بھی ٹھہرایا، ارشادِ ربانی ہے:”اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لیے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زائد تو ان کے لیے اس ترکہ کا دو تہائی حصہ ہے اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے۔” (القرآن، النسائ، 4: 11) قرآن حکیم نے بیٹی کی پیدائش پر غم و غصے کو جاہلیت کی رسم اور انسانیت کی تذلیل قرار دیتے ہوئے اُس کی مذمت کی ہے:”اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی (کی پیدائش) کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غصہ سے بھر جاتا ہے وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (بزعم خویش) اس بری خبر کی وجہ سے جو اسے سنائی گئی ہے (اب یہ سوچنے لگتا ہے کہ) آیا اسے ذلت و رسوائی کے ساتھ (زندہ) رکھے یا اسے مٹی میں دبا دے (یعنی زندہ درگور کردے) خبردار کتنا برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں۔” (القرآن، النحل، 16: 58، 59)
اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسلام نے خواتین کو بھی زبردست حقوق دیے ہیں اور خواتین کو معاشرے میں اہم مقام دیا ہے ان کی عزت اور وقار کو دین کا حصہ قرار دیا ہے۔

