امریکی حملے میں ایرانی جہاز غرقاب، ٹرمپ انتظامیہ شدید تنقید کی زد میں

واشنگٹن/تہران/کولمبو (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران پر امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت کے چوتھے روز جنگ پورے خطے میں پھیل گئی۔ سری لنکا کے ساحل کے قریب امریکی آبدوز کے ٹارپیڈو حملے میں ایرانی بحری جہاز آئی آر آئی ایس دینا غرق ہو گیا، 87 اہلکار جاں بحق جبکہ مجموعی ہلاکتیں 1,045 سے تجاوز کر گئیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق متعدد اہلکار لاپتہ ہیں۔

امریکی وزیر دفاع نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی پانیوں میں بھی ایران محفوظ نہیں۔ امریکا نے ایران میں 2,000 سے زائد اہداف پر حملوں اور 17 بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور امریکی مفادات پر 500 بیلسٹک میزائل اور 2,000 سے زائد ڈرون داغے۔ تل ابیب، دبئی، ریاض اور خلیجی تنصیبات نشانہ بنیں، سعودی عرب میں امریکی سی آئی اے اسٹیشن کو بھی نقصان پہنچا۔

اسرائیل نے تہران کے اوپر ایرانی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا، جبکہ ایران نے ’’آپریشن وعدہ صادق 4‘‘ کی مزید لہریں شروع کر دیں۔ خطے میں امریکی و مغربی سفارتخانوں سے انخلا جاری ہے اور ہزاروں امریکی شہری واپس بلائے جا چکے ہیں۔

ادھر امریکا کے اندر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ ڈیموکریٹک سینیٹرز نے جنگ کو ’’غیر قانونی اور جھوٹ پر مبنی‘‘ قرار دیا، کئی رپبلکن ارکان بھی مخالفت میں سامنے آ گئے۔ کانگریس میں وار پاورز ریزولوشن کے تحت جنگ روکنے کی قرارداد لانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

عوامی سرویز میں واضح اکثریت جنگ کے خلاف ہے، بڑے شہروں میں احتجاج شروع ہو چکا ہے، جبکہ پینٹاگون نے خبردار کیا ہے کہ طویل جنگ کی صورت میں امریکی میزائل اور دفاعی ذخائر خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔

ایران نے مذاکرات مسترد کرتے ہوئے طویل جنگ کی تیاری کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ خطہ ایک وسیع اور غیر یقینی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔