حکیم احمدحسین اتحادی
رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ جاری وساری ہے۔ روزے کا مقصد انسان میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ روزے کے بے شمار طبی فوائد بھی ہیں۔ روزے سے جسمانی صحت بہترین ہوجاتی ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق معدے کو کافی دیر کے لئے خالی رکھنا اور کھانا پینا بند کردینا کئی بیماریوںسے نجات دلاتا ہے۔ روزہ جسمانی نظام پر کئی اچھے اثرات مرتب کرتا ہے۔ مثلاً؛ ہڈیوں کے گودے میں خون کے ذرات بنتے ہیں، خون کی جسمانی ضرورت کے مطابق ہڈیوں کے گودے سے خون کے نئے خلیے بنتے رہتے ہیں۔ روزے کے دوران خون کے گردش کرنے والے خلیے کم تر سطح پر آ جاتے ہیں جس سے گودے کے اندر خون کے خلیوں کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے اور نئے خلیے (RBCs) زیادہ مقدار میں بنتے ہیں۔روزے کے دوران خون کی گردش آہستہ ہوجاتی ہے۔دینی عبادت کی وجہ سے مریض پُرسکون رہتا ہے جس سے ذہنی تناو اور ٹینشن ختم ہوجاتی ہے اور بلڈ پریشر نہیں بڑھتا۔نظام ہضم میں بہتری آتی ہے، جسم تندرست وتوانا ہوجاتا ہے۔
رمضان کے دوران کھانے پینے کے اوقات بدل جاتے ہیں۔ اگر شروع رمضان سے ہی سحری اور افطاری میں معتدل کھانا پینا رکھا جائے تو جسمانی صحت کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ سحر و افطارمیں کھانے پینے کا خیال رکھنا ازحد ضروری ہے۔ سحری کے وقت بہت زیادہ کھانے سے مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ عموماً پیٹ بہت زیادہ بھر لینے سے درد کی شکایت ہو سکتی ہے۔ سحری کے وقت کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذائیں جیسے گندم کی روٹی، چنے کے آٹے کی روٹی، دلیہ، چاول، پھلی دانے، اسبغول کا چھلکا، دودھ اور دودھ سے بنی تمام اشیاءاور گھر کا تیار شدہ حلیم اور آلو وغیرہ فائدہ مند ہوتی ہیں، جو کہ ہضم ہونے میں زیادہ وقت لیتی ہیں جبکہ جسمانی توانائی کو دیر تک برقرار رکھتی ہیں۔
فائبر سے بھرپور پھل اور اجناس جیسے کیلے، سیب، امرود، آڑو، آلوبخارہ ،پالک اور جو وغیرہ بھی دیر تک پیٹ کو بھرے رکھتے ہیں جبکہ قبض سے بچانے میں بھی مدد دیتے ہیں، تاہم انہیںکم مقدار میں کھایا جائے، کیونکہ ان کے استعمال سے پیاس زیادہ لگتی ہے۔ پروٹین سے بھرپور غذا کو بھی سحری کا حصہ بنانا چاہیے جن میں انڈے کی سفیدی، چکن، دہی اور دالیں وغیرہ قابل ذکر ہیں، پروٹینز روزے دار کو جسمانی طور پر متحرک رہنے کے ساتھ ساتھ جسمانی توانائی کو بھی برقرار رکھتے ہیں۔ کھیرے، ٹماٹر اور پانی وغیرہ دن بھر میں جسمانی طور پر سست نہیں ہونے دیتے۔ بہت زیادہ مرچوں یا مصالحے دار غذاﺅں سے پرہیزکریں، ان کے استعمال سے سینے میں جلن اور بدہضمی کا خطرہ بڑھتا ہے۔ سحری میں زیادہ چائے پینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ کیفین سے جسم میں پانی کی سطح کم ہونے سے پیاس بڑھتی ہے۔ اسی طرح نمکین غذاﺅں سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جسم میں پانی کی کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ الائچی یا سونف کا قہوہ یا چند دانے الائچی یا سونف کا استعمال پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے۔ زیادہ پانی والی غذائیں اور مشروبات وغیرہ بھی سحری میں پی سکتے ہیں۔ زیادہ میٹھی اشیاءکھانے سے بھی گریز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ بہت تیزی سے ہضم ہوتی ہیں جس سے کچھ گھنٹے بعد ہی بھوک لگنے لگتی ہے۔
گوشت اور مرغن غذاوں کا استعمال ہر ممکن حد تک کم کیا جائے۔ دودھ، دہی اور لسی کو دستر خوان کا لازمی حصہ بنائیں، یہ کمزوری پیاس اوربدہضمی سے بچاتی ہے۔ صبح کے وقت سخت ورزش سے اجتناب کریں، ہلکی ورزش اور واک کومعمول کے مطابق جاری رکھیں۔ افطار میں میٹھے مشروبات اور کاربونیٹڈ کولا ڈرنکس کی بجائے لیموں پانی استعمال کیا جائے۔ تازہ پھلوں کا جوس اور کھجور کا استعمال ضرور کریں۔ نیم گرم دودھ 1 سے 2 گلاس ساتھ 3 سے 5 عدد کھجوریں بہترین افطاری ہیں۔ افطاری کے لیے دودھ میسر نہ ہو تو لیموں کی شکنجبین نمک والی ہلکا سا میٹھا ملا کر لیں۔ افطاری کے فوراً بعد زیادہ پانی پینے سے اجتناب کیا جائے۔ اسی طرح افطار کے وقت بہت زیادہ تلی ہوئی اشیاءکھانے سے یا ایک دم پیٹ بھر کر کھانے سے پیٹ زیادہ دیر تک بھرا تو رہے گا، مگر طبیعت بوجھل رہے گی اور بھوک کا احساس کم ہو جائے گا۔اس لئے ان کااستعمال معمول کے مطابق کریں۔
گھروں میں پکوڑے سموسے کی تیاری میں استعمال شدہ تیل، گھی کو دوبارہ استعمال مت کریں۔ روٹی کے ساتھ دال یا کم روغن والے سالن کو ترجیح دیں، سحر و افطار میں ترش چیزیں کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے، اس سے پانی کی طلب بڑھے گی۔ افطار کے وقت پھل اور پانی زیادہ لیں، لیکن پانی تھوڑا تھوڑا کرکے پیئیں۔ نماز مغرب ادا کرنے کے بعد کھانا کھالیں تو بہتر ہے۔ نماز تراویح میں پانی کی بوتل ساتھ رکھیں اور وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں۔
ایک اُصول ہمیشہ یادرکھیں! سحری کے وقت دیر ہضم غذا کھانی چاہیے جبکہ افطارمیں جلد ہضم ہونی والی چیزیں کھائیں، تاکہ سحری تک معدہ خالی ہوجائے اور بھرپور سحری کی جاسکے۔ حاملہ خواتین اور مریض روزے دار حضرات اپنے معالج کے مشورہ کے ساتھ اپنی غذا کا تعین کروائیں۔ یادرکھیں کہ رمضان میں غذائی لاپروائی اور بسیار خوری صحت کی خرابی کا باعث بنتی ہے، اس لیے رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں کو اللہ کی خوشنودی کے لیے ذکر الٰہی و عبادات میں گزارنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہماری عبادات کو شرف قبولیت سے نوازے اور اس بابرکت مہینے کی بدولت دنیا بھر سے مصائب و مسائل کا خاتمہ کردے۔ آمین!

