افغانستان میں کارروائیاں کب تک جاری رہیں گی، سیکورٹی حکام نے بتا دیا

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ آپریشن غضب للحق اس وقت تک ختم نہیں کیا جائے گا جب تک افغان طالبان حکومت پاکستان کو دہشت گرد گروہوں کی سہولت کاری ترک کرنے کے حوالے سے قابل تصدیق یقین دہانی فراہم نہیں کرتی۔

نجی چینل کی رپورٹ کے مطابق ایک سیکورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستان اس معاملے میں کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور آپریشن کا دورانیہ مکمل طور پر زمینی حقائق اور عملی اقدامات پر منحصر ہوگا۔

گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اہلکار نے کہا کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا اپنی سرزمین کو پاکستان مخالف عناصر کے لیے استعمال ہونے دیں گے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان حکومت خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے والے گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے اور مسخ شدہ مذہبی نظریے کی آڑ میں جنگی معیشت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بنا رہا ہے، جو پاکستانی شہریوں، مساجد اور بچوں پر مسلط دہشت گردی کے تناظر میں دفاعِ خود کے زمرے میں آتے ہیں۔

بتایا گیا کہ اب تک 180 سے زائد چوکیاں تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ 30 سے زائد اہم مقامات کا کنٹرول حاصل کیا گیا ہے، جنہیں دہشت گرد لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی اختلاف نہیں اور کارروائیاں صرف ان عناصر کے خلاف ہیں جو پاکستان کے اندر دہشت گردی میں ملوث یا معاون ہیں۔ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں، یہ افغان عوام کا داخلی معاملہ ہے۔