موجودہ ایرانی نظام قائم رہے گا یا نہیں؟ ٹرمپ نے اشارہ دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں ضرورت پڑنے پر چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رکھی جا سکتی ہیں۔

بی بی سی کے مطابق نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے وینزویلا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سابق صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا گیا، تاہم حکومتی ڈھانچہ مکمل طور پر تبدیل نہیں کیا گیا۔ ان کا اشارہ تھا کہ ایران کے معاملے میں بھی اسی طرز کی حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی قیادت کے لیے ان کی نظر میں تین موزوں امیدوار موجود ہیں، تاہم انہوں نے کسی کا نام ظاہر نہیں کیا۔ ادھر ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کا کہنا ہے کہ نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب تک ایک عبوری کمیٹی ملک کا نظم و نسق سنبھالے گی۔

ایران میں ممکنہ اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی فوجی قیادت، بشمول پاسداران انقلاب، عوام کے سامنے ہتھیار ڈال سکتی ہے۔ ان کے بقول ایرانی عوام کئی برسوں سے تبدیلی کی بات کر رہے ہیں اور اب ان کے پاس موقع موجود ہے کہ وہ موجودہ حکومت کا تختہ الٹ دیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں کو ایران کے خلاف امریکی حملوں میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

امریکی صدر نے عندیہ دیا کہ اگر نئی ایرانی قیادت ایک مثبت اور تعمیری شراکت دار کے طور پر سامنے آتی ہے تو ایران پر عائد معاشی پابندیاں ختم کی جا سکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایرانی عوام حکومت کے خلاف اقدام کریں تو امریکہ ان کی براہِ راست حمایت کرے گا یا نہیں، اس بارے میں وہ فی الحال کوئی یقین دہانی نہیں کرا سکتے۔