50 لاکھ ڈالر سے زیادہ مالیت کا دنیا کا مہنگا ترین خط

سنگاپور کے ایک گمنام کلیکٹر کی ملکیت میں موجود تاریخی ’بورڈو لیٹر‘ کو دنیا کا مہنگا ترین خط قرار دیا جاتا ہے، جس کی متوقع قیمت 50 لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔

یہ خط اپنے متن کی وجہ سے نہیں بلکہ اس پر لگے نایاب ڈاک ٹکٹوں کے باعث غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ 4 اکتوبر 1847 کو برطانوی نوآبادی ماریشس کے دارالحکومت پورٹ لوئس میں مقیم شراب کے تاجر ایڈورڈ فرانسس نے فرانس کے شہر بورڈو میں اپنے کاروباری شراکت داروں کو خط بھیجا تھا، جس میں انہوں نے 48 بیرل شراب موصول ہونے اور ان میں سے تقریباً ایک تہائی فروخت کیے جانے کی اطلاع دی تھی۔

اس خط پر اس زمانے میں معمولی قیمت کے دو ڈاک ٹکٹ استعمال کیے گئے تھے جو آج دنیا کے نایاب ترین اور قیمتی ڈاک ٹکٹوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان میں ’ماریشس بلیو‘ اور ’ماریشس پنک‘ شامل ہیں اور یہی امتزاج اس خط کو دنیا کا مہنگا ترین خط بناتا ہے۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1847 میں ان ڈاک ٹکٹوں کی تیاری کے دوران ایک کندہ کار نے ملکہ وکٹوریہ کی تصویر کے ساتھ ’پوسٹ آفس‘ تحریر کر دیا جبکہ وہاں ’پوسٹ پیڈ‘ لکھا جانا تھا۔ اس غلطی کے ساتھ صرف 500 ٹکٹ شائع ہوئے، جنہیں فروخت کرنے کے بعد خامی کی اصلاح کر دی گئی۔

آج ان میں سے صرف 27 اصل ٹکٹ باقی بچے ہیں، جن میں 12 نیلے اور 15 گلابی رنگ کے ہیں۔ ڈاک ٹکٹ جمع کرنے والے ماہرین انہیں دنیا کے نایاب ترین نوادرات میں شمار کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر ماریشس بلیو ڈاک ٹکٹ اپنی اصل حالت میں موجود ہو تو اس کی مالیت تقریباً 1 کروڑ 14 لاکھ سے 1 کروڑ 70لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

تاہم، ایسے ٹکٹ انتہائی کم فروخت ہوتے ہیں جبکہ بورڈو لیٹر کو آخری بار 1993 میں نیلام کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے یہ ایک گمنام سنگاپوری کلیکٹر کی تحویل میں ہے۔ا