افغانستان میں طالبان حکومت کیلئے داخلی مشکلات بڑھنا شروع ہوگئیں۔ یوں لگتا ہے آنے والے مہینوں میں انہیں شمالی افغانستان اور دیگر نان پشتون علاقوں میں باقاعدہ سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
افغان طالبان نے چار سال قبل اقتدار میں آنے کے بعد سے سولو فلائٹ کا راستہ اختیار کیا تھا اور کسی مخالف سیاسی/ عسکری گروپ کو معمولی سا بھی اکاموڈیٹ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ تاجک، ازبک، ہزارہ، ترکمان گروپوں اور ان کی طاقتور قبائلی شخصیات کو بھی نظرانداز کیا۔ گلبدین حکمت یار اور ان کے گروپ کو بھی دیوار سے لگائے رکھا، حتی کہ جس عمارت میں حکمت یار مقیم تھے، وہ بھی چھین لی گئی ۔ حکمت یار خاصے بیمار ہوئے تو بڑی مشکل سے انہیں علاج کے لیے ملائیشیا جانے کی اجازت ملی۔ حامد کرزئی جنہوں نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے باوجود ملکی استحکام کا تاثر دینے کے لیے کابل میں رہنے کو ترجیح دی تھی، ان کے لیے بھی لوگوں سے ملنا جلنا مشکل کر دیا، ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی تھی، تاہم ان سختیوں کے باوجود طالبان کو ملک کے اندر کسی بڑے چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔
اب پاکستان کے ساتھ کھلے ٹکراؤ کی صورتحال نے البتہ منظرنامہ تبدیل کر دیا ہے اور طالبان مخالف افغان گروپس میں نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ افغانستان کے معروف تاجک کمانڈر/ رہنما احمد مسعود نے جو طالبان مخالف عسکری، سیاسی اتحاد نیشنل رزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے سربراہ ہیں، اس نے پاکستانی سرجیکل سٹرائیکس کا خیر مقدم کیا ہے۔احمد مسعود نامور تاجک گوریلا کمانڈر احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے ہیں جنہوں نے اپنی آخری سانسوں تک طالبان کے آگے مزاحمت جاری رکھی تھی۔اب ان کے جانشین احمد مسعود نے پاکستان کو دعوت دی ہے کہ وہ افغانستان کے واخان کاریڈور پر قبضہ کر کے نیشنل فرنٹ کی حکومت قائم کرنے میں مدد دیں۔ نیشنل فرنٹ نے ایک دلچسپ تجویز یہ بھی دی ہے کہ ان کی حکومت کا دارالحکومت واخان کاریڈور بنے گا۔
نیشنل فرنٹ کا اعلامیہ جو درحقیقت ایک دلچسپ اور اہم پیشرفت ہے، وہ کچھ یوں ہے: ”نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، جو افغان عوام کا جائز نمائندہ اور افغانستان کے آئینی نظم کا محافظ ہے، باضابطہ طور پر حکومتِ پاکستان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ واخان کاریڈور کا عارضی انتظامی کنٹرول سنبھالے اور اسے ایک بفر زون (محفوظ حائل علاقہ) بنائے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں استحکام پیدا کرنا ہے۔ این آر ایف پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسے افغانستان کی جائز حکومت کے طور پر تسلیم کرے اور وا خان کاریڈور کو عارضی قومی دارالحکومت قرار دینے کی حمایت کرے۔ اس محفوظ علاقے سے این آر ایف افغان ریاستی اداروں کو منظم کر کے طالبان حکام کے غیر قانونی اقتدار کے خلاف ایک مضبوط حصار بنائے گا۔”
ہمارے قارئین جانتے ہی ہوں گے کہ افغانستان ایک کثیر النسلی ملک ہے جہاں پشتون آبادی اکثریت میں ہے، پنتالیس پچاس فیصد کے قریب جبکہ باقی نان پشتون آبادی میں تاجک، ازبک، ہزارہ (شیعہ) ترکمان، بلوچ وغیرہ شامل ہیں۔ افغان طالبان میں نوے فیصد سے زیادہ پشتون لیڈر اور کمانڈر ہیں۔ افغان فوج کا سربراہ ایک نان پشتون طالبان کمانڈر ضرور ہے، مگر حکومت پر پشتونوں کا غیر معمولی غلبہ ہے۔ طالبان حکومت پر عالمی دباو رہا ہے کہ وہ دیگر تاجک، ازبک، ہزارہ آبادیوں کے نمائندگان کو بھی عبوری حکومت میں جگہ دیں، مگر وہ ایسا کرنے سے انکاری رہے ہیں۔
طالبان حکومت کے پہلے دور میں جب ملا عمر حکمران تھے، تب شمالی اتحاد کے نام سے مخالف گروپ طالبان حکومت کے خلاف مزاحمت کرتا رہا، اس میں تاجک، ازبک، ہزارہ لیڈر اور کمانڈر شامل تھے، ایک چھوٹا حصہ طالبان مخالف پشتون لیڈروں (استاد سیاف وغیرہ) کا بھی تھا۔ اس بار امریکی انخلا کے ساتھ ہی طالبان کا افغانستان پر کنٹرول فوری ہوگیا اور تاجک آبادی کے دو اہم کلسٹر وادی پنجشیر اور بدخشان میں بھی طالبان نے گرفت مضبوط کر لی۔ شمالی اتحاد کے اکثر لیڈر عمررسیدہ ہوجانے یا کہیں سے غیر ملکی مدد نہ ملنے کے باعث مایوس ہو کر سائیڈ لائن ہو چکے ہیں، بعض نے (جیسے سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ) عسکری جدوجہد کی بجائے سیاسی جدوجہد کی بات کی، مگر عملی طور پر مگر وہ بھی کارنر ہوگئے۔
اب اچانک سے افغانستان کے نان پشتون عناصر ایکٹو ہوگئے ۔ احمد مسعود کے نیشنل فرنٹ نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ایک نئے اینٹی طالبان اتحاد کا اعلان کیا ہے جس میں تاجک، ازبک، ہزارہ، ترکمان، بلوچ شامل ہوں گے، سب کی مساوی تعداد ہوگی اور کسی کو دوسرے پر برتری نہیں ہوگی۔ اس اتحاد کا مقصد نان پشتون علاقوں کو طالبان سے آزاد کرانا ہے۔ نیشنل فرنٹ نے اپنے ٹوئٹر سے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ہم افغان نہیں (ماہمہ افغان نیستیم) اور افغان اصطلاح تاریخی اعتبار سے غلط ہے ۔ وہ افغان کو پشتون کے مترادف کہہ رہے ہیں، خود کو تاجک، ازبک، ہزارہ، بلوچ وغیرہ کہلانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نیشنل فرنٹ کے ڈپٹی سربراہ عبدالحفیظ منصور کا ایک ویڈیو انٹرویو وائرل ہوا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا این آر ایف سے رابطہ ہوا ہے، اگرچہ یہ کچھ تاخیر سے ہوا مگر ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں اور پاکستان جو (اسٹرائیکس) کر رہا ہے وہ افغانستان اور افغانوں کی بہتری میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ان کی مدد کرے، جواب میں یہ پاکستان کی سرحد کا احترام کریں گے اور پاکستان میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کریں گے اور نہ کسی گروپ کو کرنے دیں گے۔ یاد رہے کہ عبدالحفیظ منصور پنجشیری تاجک ہیں، افغان پارلیمنٹ کے سابق رکن اور سرکاری ٹی وی/ ریڈیو کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ یہ نیشنل فرنٹ کی سیاسی اور سفارتی پالیسی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پچھلے سال جنوری میں انہی عبدالحفیظ منصور نے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے اور پاکستان کے ساتھ تعاون کی بات کی تھی۔ واضح رہے کہ ڈیورنڈ لائن پاک افغان بارڈر ہے جسے بیشتر افغان حکومتیں بشمول افغان طالبان آفیشل طور پر تسلیم نہیں کرتیں۔ طالبان سے پہلے کرزئی اور اشرف غنی حکومتیں بھی ڈیورنڈ لائن کو متنازع کہتی رہی ہیں۔ نیشنل فرنٹ البتہ پاکستان کے دیرینہ مطالبے کو مانتے ہوئے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے کی بات کر رہا۔ نیشنل فرنٹ کی جانب سے واخان کوریڈورپر پاکستانی قبضہ کی بات کرنا بھی بہت اہم ہے کیونکہ افغان طالبان اس حوالے سے بہت حساس ہیں۔
نیشنل فرنٹ کی عسکری کارروائیوں میں بھی تیزی آ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) کی موجودہ فوجی طاقت قدرے محدود اور گوریلا نوعیت کی ہے، کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس فعال جنگجووں کی تعداد دو سے پانچ ہزار ہے، اگرچہ فرنٹ کا دعویٰ اس سے کہیں زیادہ کا ہے۔ یہ زیادہ تر سابق افغان فوج اور پولیس کے ارکان ہیں اور مقامی سطح پر مختلف علاقائی کمانڈرز کے ذریعے کام کرتے ہیں۔نیشنل فرنٹ کا زیادہ فوکس بغلان، تخار، پروان اور بدخشاں میں گوریلا حملے کرنا ہے، کسی بڑے شہر یا علاقے پر مستقل کنٹرول نہیں۔ دو دن پہلے قندوز میں بھی ایک گوریلا کارروائی میں چند طالبان فوجی ہلاک کرنے کا دعوی کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ نیشنل فرنٹ ہتھیار کرپٹ طالبان افسران سے خریدتی ہے، کیونکہ براہ راست بیرونی امداد نہیں ملتی۔ یہ کم شدت والے حملے کرتے ہیں اور بڑے پیمانے پر قومی توازن تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ فرنٹ کی مستقبل کی حکمت عملی گوریلا جنگ، سفارتی اتحاد اور علاقائی توسیع پر مبنی ہے، جو طالبان کو شمالی اور شمال مشرقی افغانستان میں کمزور کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ نیشنل فرنٹ کا دعوی ہے کہ دو ہزار ستائیس تک وہ کئی شمالی شہر اور بڑا علاقہ آزاد کر لے گی، مگر محدود وسائل کی وجہ سے یہ مشکل ہدف ہے، اس لئے ان کی ترجیح پاکستان جیسے کسی ملک کی سپورٹ حاصل کرنا ہے۔
بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ افغانستان میں طالبان مخالف تمام گروپ متحد ہو کر ایک عسکری اتحاد بنارہے ہیں، جو پاکستان کی مدد کی توقع کر رہا ہے۔ یہ اینٹی طالبان اتحاد پاکستان کو ڈیورنڈ لائن اور وا خان کاریڈور کی صورت میں دو پرکشش ترغیبات دے رہا ہے، جبکہ پاکستان میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہ ہونے کی یقین دہانی بھی۔ پاکستان زیادہ آگے نہ جائے، تب بھی صرف اس خبر ہی سے افغان طالبان دباو کا شکار ہو سکتے ہیں۔ افغانستان کی نسلی بنیاد پر تقسیم افغان طالبان کے خلاف جاتی ہے۔ پاکستان بھی شاید یہ نسلی تقسیم نہ چاہتا ہو، مگر افغان طالبان کی ہٹ دھرمی اور دہشت گرد فتنة الخوارج ٹی ٹی پی کی سرپرستی اس آپشن کی طرف ہی معاملات لے کر جا رہی ہے۔ اللہ اس خطے پر رحم کرے اور کسی خانہ جنگی سے محفوظ رکھے، آمین۔ افغانوں کا بہت خون بہہ چکا، مگر افسوس یہ بات افغان طالبان نہیں سمجھ پا رہے۔ اپنے ملک کو کسی نئی جنگ یا خانہ جنگی سے بچانا ان کی ہی ذمہ داری ہے۔ بظاہر تو وہ سب کچھ تلپٹ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اپنی جڑیں خود کاٹنے کا ”مشن” وہ کامیابی سے انجام دے رہے ہیں۔

