افغانستان اسٹرائیکس۔ پاکستان کے پاس یہی چارہ تھا

پاکستان کا افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو سرجیکل اسٹرائیکس کے ذریعے نشانہ بنانا بہت اہم ہے کہ اس سے پورے خطے کا منظرنامہ ہی بدل سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ننگرہار کے علاقہ کامی اور پکتیکا کے ضلع برمل میں دہشت گردوں کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں بعض ٹی ٹی پی کمانڈروں اور دہشت گردوں کے مرنے کی اطلاعات ہیں۔ افغان طالبان البتہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ سویلین ہلاکتیں بھی ہوئیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ جن علاقوں میں یہ دعوی کر رہے ہیں، وہاں ائیر اسٹرائیکس کی اطلاعات ہی نہیں۔

قابل اعتماد ذرائع کے مطابق پاکستان نے ننگر ہار صوبے میں جلال آباد کے قریب ضلع کامی اور بشمول دیگر علاقوں میں دو سے تین کیمپس (ٹی ٹی پی اور آئی ایس کے پی کے ٹریننگ سینٹرز) تباہ کیے، جبکہ پکتیکا صوبہ میں ضلع برمل کے پہاڑی علاقوں میں کم از کم چار ٹھکانے، جن میں عمر میڈیا سینٹر، خودکش ٹریننگ کیمپس اور ٹی ٹی پی کمانڈروں کے ٹھکانے شامل تھے۔ ٹی ٹی پی نے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ ان حملوں میں اس کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے اور متعدد کمانڈر مارے گئے ہیں۔ افغان طالبان نے ان واقعات میں کچھ عام شہریوں کے نشانہ بننے کا دعوی کیا ہے تاہم ٹی ٹی پی کے مراکزکی موجودگی اور ہدف بننے کی تردید نہیں کی۔

برمل ضلع دراصل پاکستانی سرحد کے ساتھ ملتا ہے۔ برمل کے علاقہ لمان میں دہشت گرد حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانے بھی موجود ہیں۔ یہی گروپ ہے جس نے شمالی وزیرستان میں سب سے زیادہ دہشت گرد حملے کیے ہیں۔ پاکستانی حملے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تھے جو سرحد کے ساتھ سلیکٹو ٹارگٹنگ پر مبنی تھے، مگر افغان دعووں میں اضافی مقامات (جیسے خوست یا کنڑ )کا دعوی کیا گیا ہے، تاہم انٹرنیشنل میڈیا بھی انہیں کنفرم نہیں کر پایا۔ پکتیکا کے ضلع برمل میں دو سال پہلے بھی ائیر اسٹرائیکس کئے گئے تھے، دراصل ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر وغیرہ کے مختلف گروپس یہیں پر موجود ہیں، ان کے ٹریننگ سینٹر، رہائشی کمپاونڈو وغیرہ ادھر ہی ہیں جبکہ یہیں پر ٹی ٹی پی کا عمر میڈیا سینٹر بھی موجود ہے۔

حافظ گل بہادر گروپ شمالی وزیرستان سے بے دخل ہونے کے بعد افغان سرحد کے قریب منتقل ہوا۔ حافظ گل بہادر گروپ بنیادی طور وزیر قبائلیوں پر مشتمل ہے جو روایتی طور پر محسود قبیلے کے ساتھ مخاصمت کا رویہ رکھتے ہیں، اسی وجہ سے یہ خاصے عرصے تک ٹی ٹی پی کا حصہ نہیں بنا جس کے مسلسل محسود سربراہ چلے آ رہے ہیں۔ آج کل بھی نورولی محسود سربراہ ہے، تاہم پاکستانی فورسز کے آپریشنز کے بعد کمزور ہونے کی وجہ سے گل بہادر گروپ دو ہزار اکیس کے بعد نور ولی محسود کے تحت ٹی ٹی پی میں ضم ہو گیا۔ اب یہ گروپ افغان طالبان کی مدد سے مالی اور لاجسٹک سپورٹ لیتا ہے، جبکہ پاکستانی فورسز پر حملے کرتا ہے۔

اصولی بات یہ ہے کہ افغانستان پر ان حملوں کی نوبت نہیں آنی چاہیے تھی، پاکستان بھی ہرگز ایسا نہیں چاہتا تھا۔ دوبرادر اسلامی ممالک کے درمیان جنگ اور قتل و قتال کو کوئی بھی ذی شعور مسلمان پسند نہیں کرسکتا۔ اگر غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات ماننا ہوگی کہ پاکستان نے بڑے صبر وتحمل سے کام لیا اور بار بار افغان طالبان کو سمجھانے کی کوشش کی، انہیں کئی بار ٹھوس شواہد دیے گئے کہ افغان سرزمین پاکستان پر حملوں کیلئے استعمال ہو رہی ہے، اسے روکا جائے۔ کئی بار پاکستان نے دوست ممالک کے ذریعے بھی دباؤ ڈالا کہ افغان طالبان پیچھے ہٹ جائیں، دوحہ معاہدے کے مطابق افغان سرزمین کو دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دیں، دہشت گرد گروپوں کو سہولت کاری، فنڈنگ فراہم نہ کریں۔ ان کے حملوں سے پاکستان میں بہت نقصان ہو رہا ہے۔ یہ تمام کوششیں ناکام رہیں۔ بعض غیر رسمی مذاکرات کے دور بھی چلے۔ کئی لوگ اپنے طور پر بھی افغانستان گئے یا بیک ڈور ڈپلومیسی کے طور پر بھی۔

چند دن پہلے سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے بھی افغانستان جانے اور اہم طالبان لیڈروں ملا حسن اخوند، امیر خان متقی اور سراج حقانی (خلیفہ) سے ملاقاتوں کی خبر آئی تھی۔ جماعت کے ذرائع اس کی تردید کرتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی خاص ایجنڈا تھا، مگر ظاہر ہے ایسی ایکٹویٹیز محض شوقیہ نہیں ہوتیں اور نہ ہی صرف کرٹسی کال مقصد ہوتا ہے۔ بہرحال ان تمام کوششوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ افغان طالبان کی ٹی ٹی پی گروپس کو سرپرستی جاری رہی اور پچھلے دو تین ہفتوں میں کم از کم تین ایسے حملے ہوئے جن کے بعد پاکستان مجبور ہوگیا کہ ویسا ہی شدید جواب دیا جائے۔ پہلے اسلام آباد میں ایک مسلک کی عبادت گاہ پر خوفناک خود کش حملہ ہوا، پھر باجوڑ میں چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں درجن کے لگ بھگ شہادتیں ہوئیں اورگزشتہ روز بنوں میں حملے سے دو مزید قیمتی جانیں چلی گئیں۔ باجوڑ اور بنوں کے حملوں سے نئے اور خوفناک ٹرینڈ کا اندازہ بھی ہو رہا تھا، اس لئے شدید جواب دینا ضروری ہوگیا تھا۔

سچی بات یہ ہے کہ ہم لوگوں نے ماضی میں افغان طالبان کی بہت حمایت کی، میرے جیسے لوگوں نے بیس سال میں سینکڑوں تحریریں ان کے حق میں لکھیں، بے شمار گھنٹے ان کے دفاع میں بحثیں اور لڑائیاں لڑتے گزارے۔ ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ افغان طالبان ایسے طوطا چشم، احسان فراموش، جھوٹے اور عہد شکنی کرنے والے ہوں گے۔ افغان طالبان قیادت نے ہر ایک کو شدید مایوس کیا ہے۔ یہ ملا عمر کی طالبان حکومت جیسی ہرگز نہیں۔ یہ لوگ عالم دین ہوتے ہوئے بھی سفید جھوٹ بولتے ہیں، کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں۔ جھوٹے بیانات دیتے ہیں اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا کام بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔

میرا خیال ہے کہ اب کوئی اور راستہ بچا ہی نہیں۔ پاکستان کو اب ہر حال میں زیرو ٹالرنس دکھانی چاہیے۔ جب تک افغان طالبان اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم ہیں، دہشت گردوں کے خلاف ایئر اسٹرائیکس کرتے رہیں۔ افغان طالبان اگر جوابی کارروائی دکھائیں تو ان سے بھی نمٹا جائے۔ یہ اپنی بے وقوفی میں سمجھتے ہیں کہ شاید پاکستان روس، امریکا جیسی حماقت کرے گا۔ پاکستان کو ان پر بڑا زمینی حملے کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ ائیر اسٹرائیکس ہی کافی ہیں۔ افغان طالبان کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ خواہ مخوا کی نرگسیت پسندی کا شکار ہیں۔ پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان میں طالبان کچھ بھی نہ کر سکتے۔ ان کی مزاحمت کبھی کامیاب نہ ہو پاتی۔ افسوس یہ سب باتیں افغان طالبان قیادت اور ان کے کمانڈر اب بھلا بیٹھے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اپنے دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ چارٹر کا آرٹیکل اکاون کسی بھی ریاست کو حق دیتا ہے کہ وہ مسلح حملے کی صورت میں اپنا دفاع یعنی سیلف ڈیفنس کرے۔ اگر سرحد پار سے حملے ہو رہے ہوں اور میزبان حکومت انہیں روکنے میں ناکام ہو تو متاثرہ ریاست محدود دفاعی کارروائی کر سکتی ہے۔ پاکستان کے افغانستان پر سرجیکل اسٹرائیکس کو بھی اسے جارحانہ پیش قدمی نہیں بلکہ اپنے دفاع کے لیے محدود اور کنٹرول شدہ اقدام سمجھا جانا چاہیے۔ پاکستان مجبور ہوگیا تھا، اس کے پاس اور کوئی آپشن بچا ہی نہیں تھا۔