کیا فرات سے نیل تک اسرائیل کا حق ہے؟

اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر ہکابی کا کہنا ہے کہ ”دریائے فرات سے دریائے نیل تک زمین پر اسرائیل کا حق ہے، اور اسرائیل کو یہ حق بائبل نے دیا ہے۔” امریکی سفیر کے اس بیان پر پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا نے شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، اور اس بیان کو خطے کے استحکام کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔”

ان بیانات پر تبصرے و تجزئیے سے قبل یہودی ”پروٹوکولز” کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے: مشہور زمانہ ”پروٹوکولز” کے مطابق ”ایک وقت آئے گا جب ہم پوری دنیا پر قابض ہو جائیں گے۔ یہ تھوڑے عرصے میں نہیں ہوگا اس کیلئے شاید ایک دو صدیاں درکار ہوں۔ ہم بے رحمی سے اپنے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں اور ہمارے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو قتل کریں گے۔ کسی بھی شے سے متعلق تمام اداروں بشمول خفیہ تنظیموں کو بھی موت کی نیند سلادیا جائے گا۔ موجودہ خفیہ تنظیمیں جنہوں نے ہماری بڑی خدمت کی ہے اور کررہی ہیں، ہم ان کو بھی ختم کردیں گے اور انہیں یورپ کے دوردراز علاقوں میں جلاوطن کر دیں گے۔ فری میسن کے غیریہودی ممبران کے ساتھ بھی ہمارا یہی رویہ ہوگا کیونکہ یہ لوگ ہمارے بارے میں کافی معلومات رکھتے ہیں لیکن اگر مصلحتاً ہمیں ان سے صرف نظر کرنا پڑا تو بھی انہیں جلاوطنی کے خوف تلے رکھا جائے گا۔”

یہ اقتباس جس کتاب سے لیا گیا ہے اس کا مشہور نام ”پروٹوکولز” ہے۔ ”پروٹوکولز” دیکھنے میں تو وہ محض ایک عام سی کتاب لگتی ہے مگر یہ کئی اعتبار سے انوکھی ہے۔ ایک تو اس وجہ سے عام طورپر کسی کتاب کو ایک یا دو فرد لکھتے ہیں مگر اس کتاب کو یہودی داناؤں کی ایسی جماعت نے لکھا جو دنیا بھر سے منتخب کی گئی تھی۔ اس کتاب کو اس اعتبار سے بھی منفرد قرار دیا جائے گا کہ اس میں دنیا کیلئے خیر کی کوئی بات نہیں۔ اس میں جو کچھ تھا وہ بنی نوع انسان کیلئے شر ہی شر تھا۔ اس کے مصنفین نے اپنے لیے تو سب کچھ سوچ سمجھ کر ترتیب دیا لیکن غیر یہودکیلئے ان کم ظرفوں کے پاس سوائے بدخواہی کے کچھ نہ تھا۔ عام طورپر لکھی جانے والی کتابیں چھپنے کیلئے ہوتی ہیں لیکن صہیونیوں کی پہلی اور آخری کوشش تھی کہ یہ کتاب کسی بھی طرح منظرعام پر نہ آنے پائے۔ پھر سوال ہے یہ کتاب غیر یہود کے ہاتھ کیسے لگی؟ یہ 1897ء کی بات ہے روسی خفیہ ادارے کی Glinkaنامی ایک ایجنٹ فرانس میں کام کررہی تھی۔ اسے پتا چلا پروٹوکولز کی کاپی فرانس کے مزرایم لاج میں موجود ہے۔ اس وقت یہ لاج فرانس میں فری میسن کا ہیڈکوارٹر تھا۔ جلینکا ہاتھ دھو کر ان خفیہ دستاویزات کے پیچھے پڑگئی۔ اس نے لاج کے ایک ملازم کو 5,000فرانک کی بھاری رقم دے کر کتاب کی کاپی حاصل کی۔ جلینکا نے کاپی ہاتھ میں آتے ہی اس وقت کے روسی دارالحکومت سینٹ پیٹرز برگ پہنچا دی۔

یہودیوں کے چوٹی کے دانشور احتیاطی تدبیریں کرتے رہ گئے اور ان کے دشمن یہ دستاویزات لے اْڑے۔ جلینکا نے ایک کاپی اپنے پاس بھی رکھی۔ جب وہ اپنے آبائی ملک روس لوٹی تو اس نے Alexis Sukhotin نامی ایک سرکاری عہدیدار کوان دستاویزات کی ایک کاپی دی۔ اس نے اپنے دوست Sergius A.Nilus کو دے ڈالی۔ نائلس نے 1901ء میںاسے پہلی بار کتابی شکل میں چھاپا جس کا عنوان تھا: The Great Within the Small ۔ اس زمانے میں یہ کتاب خفیہ چیزوں میں مقبول ترین تھی۔ یہودی پروٹوکولز ان تجاویز، منصوبوں، مستقبل کی پیش بندیوں کا اور پیش گوئیوں کا مجموعہ ہے جنہیں ایک مخصوص ہدف کیلئے دنیا کے چوٹی کے دماغوں نے سالہا سال کی عرق ریزی کے بعد ترتیب دیا تھا۔ وہ ہدف کیا تھا؟ 1897ء میں سوئزر لینڈ کے شہر باسل میں پہلی عالمی صہیونی کانفرنس جس میں یہ تجاویز پیش کی گئی تھیں، اس کے اختتام پر جب کانفرنس کے سربراہ اور جدید صہیونیت کے بانی ”ڈاکٹر تھیوڈور ہرتزل” سے مستقبل کے ان منصوبوں کا خلاصہ پوچھا گیا تو اس نے ایک جملے میں اپنے اہداف کو سمیٹتے ہوئے کہا: میں زیادہ تو کچھ نہیں کہتا، بس اتنا کہتا ہوں آج سے پچاس سال کے اندر دنیا روئے زمین پر یہودی ریاست قائم ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھے گی۔

دنیا نے دیکھا ڈاکٹر تھیوڈور ہرتزل کی بات سچ ثابت ہوئی۔ ٹھیک 50سال بعد اسرائیل قائم ہوگیا۔ یہ ان تجاویز کا پہلا ہدف تھا جو پورا ہوا۔ دوسرا ہدف اس یہودی ریاست کی ان حدود تک توسیع ہے جو منی اسرائیل کو گریٹر اسرائیل میں تبدیل کر دے گی۔ سوال یہ ہے اسرائیل کی حدود اربعہ کیا ہوں گی؟ صہیونیوں کے منصوبوں کے مطابق اسرائیل لمبائی میں لبنان اور سعودی عرب تک اور چوڑائی میں دریائے دجلہ سے دریائے نیل تک ہے۔ اگر آپ اسرائیل کا جھنڈا بغور دیکھیں تو معلوم ہوگا جھنڈے پر دو نیلی پٹیاں اسرائیل کی حدود اور ان دو پٹیوں کے درمیان میں ستارہ داودی عظیم تر اسرائیل کی علامت کو ظاہر کرتا ہے۔ 3اپریل 1968ء کو انگلستان کے ایک یہودی ادارے نے بڑی تعداد میں ایک کارڈ چھاپا جس کی بیک سائیڈ پر مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ دیا گیا تھا۔ اس میں مشرقِ وسطیٰ بالخصوص جزیرہ نمائے عرب کو اسرائیل کے زیرنگین دکھایا گیا تھا۔ صہیونی اپنے سازشی ذہن اور بے تحاشا سرمائے کے بل پر اپنے دیرینہ استعماری عزائم کی طرف بتدریج بڑھ رہے ہیں۔

نومبر 1948ء میں اسرائیلی ریاست کا کل رقبہ 7993مربع میل تھا۔ جون 1967ء کی جنگ کے بعد اس میں 27ہزار مربع میل کا فوری اضافہ ہوا تھا۔ مشرقی یروشلم، مغربی کنارہ، غزہ، گولان کی پہاڑیاں یہ سب مقبوضہ علاقہ جات ہیں۔ غربِ اردن اور غزہ میں بنی تمام یہودی بستیاں بین الاقوامی اصولوں کے تحت غیر قانونی ہیں۔ اقوام متحدہ کے قانون کے مطابق اسرائیل مزید بستیاں تعمیر نہیں کر سکتا۔ قیام امن کے بین الاقوامی منصوبے روڈ میپ کے تحت اسرائیل نے یہودی بستیوں پر کام روکنے کا یقین دلایا تھا۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو دنیا کے تین مشہور براعظموں کے سنگم پر گریٹر اسرائیل کے خاکے میں رنگ بھرنے کے منصوبے پر مختلف طریقوں اور متعدد پلیٹ فارموں سے کام جاری ہے۔

اسرائیل کی پشت پر چونکہ اس وقت عالمی طاقتیں ہیں۔ یہ طاغوتی قوتیں عظیم تر اسرائیل کے قیام میں اس کی ہمہ وقت ہر قسم کی مدد اور تعاون کر رہی ہیں۔ عالم اسلام میں نفرت کے بیج بوکر، ان کے حکمرانوں کو خریدکر، اپنے ایجنٹوں کو اقتدار پر بٹھاکر، تقسیم درتقسیم کر کے، اس میں شورشیں اور یورشیں بپا کر کے۔ اس سارے پس منظر میں اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر ہکابی کا یہ بیان کہ ”دریائے فرات سے دریائے نیل تک زمین پر اسرائیل کا حق ہے، اور اسرائیل کو یہ حق بائبل نے دیا ہے۔” اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کی تصدیق وتوثیق نہیں تو پھر کیا ہے؟