ایران امریکا کشیدگی’ عالم اسلام کا نیا امتحان

تہران کا جوہری پروگرام’ اسرائیل کی سلامتی’ خلیجی ممالک کی بے چینی اور امریکا کی بالادستی’ ان سب عوامل نے مل کر خطے کو ایک نئی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایران کے خلاف کوئی بھی عسکری کارروائی صرف ایک ملک کیخلاف جنگ نہیں ہو گی بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے مفادات کی جنگ بن جائے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ اگر ایران میں براہِ راست یا بالواسطہ فوجی کارروائی کرتی ہے تو یہ جنگ صرف تہران تک محدود نہیں رہے گی۔ آبنائے ہرمز بند ہونے کا خطرہ’ تیل کی عالمی ترسیل میں رکاوٹ اور توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ پوری دنیا کو متاثر کرے گا۔ امریکا نے باقاعدہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ دسمبر 2025ء سے جنوری 2026ء تک ایران میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں اس کا براہِ راست عمل دخل تھا جس کا مقصد ایرانی عوام کو اپنی حکومت کے خلاف کھڑا کر کے رجیم چینج تھا۔

اس حوالے سے امریکا کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ واشنگٹن نے ایران میں ڈالر کی قلت پیدا کر کے ایرانی کرنسی ریال کو شدید گراوٹ کا شکار بنایا اور عوام کو سڑکوں پر احتجاج پر مجبور کیا۔ ان مظاہروں نے نہ صرف ایران کے ریاستی ڈھانچے کو چیلنج کیا بلکہ عالمی طاقتوں بالخصوص امریکا کو بھی یہ موقع فراہم کر دیا کہ وہ ایران کے اندرونی معاملات میں اخلاقی’ سیاسی اور بالواسطہ مداخلت کا جواز پیدا کر سکے’ تاہم تہران میں مظاہروں کی تاریخ کوئی نئی نہیں۔ حالیہ مظاہرے 1979ء کے انقلاب کے بعد سب سے پُرتشدد مظاہرے تھے’ جن کی بنیادی وجہ شدید معاشی بحران تھا۔ واشنگٹن ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنے مفادات کے لیے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی محض بیانات یاسفارتی دباو تک محدود نہیں رہی بلکہ عسکری تصادم کے خدشات بھی روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔

ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کا آغاز 28دسمبر 2025ء کو تہران کے دکانداروں سے ہوا جنہوں نے شدید مہنگائی کے پیشِ نظر اپنی دکانیں بند کر کے مظاہرے شروع کر دیے۔ اس احتجاج سے چند روز قبل ایرانی ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ دسمبر سے قبل ایک امریکی ڈالر کی قدر سات لاکھ ایرانی ریال تھی جبکہ دسمبر میں ایک امریکی ڈالر پندرہ لاکھ ایرانی ریال تک پہنچ گیا۔ مہنگائی کے خلاف تہران سے شروع ہونے والا یہ احتجاج دیکھتے ہی دیکھتے دوسرے شہروں تک پھیل گیا۔ پہلے یہ مظاہرے پرامن تھے لیکن بعد ازاں امریکی اور اسرائیلی آشیرباد سے یہ مظاہرے پر تشدد ہوتے گئے۔ صدر ٹرمپ کھلے عام اپنی سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف اکساتے رہے’ جس کے بعد ایرانی حکومت کی جانب سے نہ صرف ان مظاہروں کو طاقت سے کچلا گیا بلکہ ان مظاہروں کو بھڑکانے والے افراد کی گرفتاری بھی عمل میں آئی۔

اب سوال یہ ہے کہ واشنگٹن نے ایران میں ڈالر کی قلت کیسے پیدا کی جس سے ریال کی قدر تیزی سے گر گئی اور ایرانی عوام اس سے کیسے متاثر ہوئے؟ امریکا نے ایران میں ڈالر کی قلت پیدا کرنے کے لیے غیر ملکی زرِمبادلہ کے دو بڑے ذرائع یعنی تیل کی برآمدات اور بین الاقوامی بینکاری رسائی کو بیک وقت محدود کر دیا۔ امریکا نے یہ قدم ایرانی تیل پر پابندیاں لگا کر اٹھایا، جس کے تحت ایرانی تیل خریدنے یا فروخت کرنے والوں کو سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایران کی معیشت کا بڑی حد تک تیل کی آمدنی پر انحصار ہے’ اس لیے تیل پر پابندیوں نے ایران میں امریکی ڈالر کی شدید کمی پیدا کر دی۔ مزید برآں امریکا نے ثانوی پابندیوں کے ذریعے دنیا بھر کی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ ڈالر میں تجارت سے روک دیا’ جس سے ایران کے بیرونِ ملک موجود مالی ذخائر بھی محدود ہو گئے اور نئے ڈالر ملک میں آنا بند ہو گئے۔

امریکی وزیر خزانہ نے ایک کانگریشنل ہیئرنگ میں ایرانی کرنسی کو گرانے کی امریکی حکمت عملی بیان کی۔ ان کا کہنا تھا امریکا نے ایران میں ڈالر کی قلت پیدا کی’ جس کا عروج دسمبر میں اس وقت سامنے آیا جب ایران کے بڑے بینکوں میں سے ایک بینک دیوالیہ ہو گیا۔ اس کے بعد ایرانی کرنسی تیزی سے گر گئی’ مہنگائی میں اضافہ ہوا اور عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ قبل ازیں ورلڈ اکنامک فورم میں امریکی وزیر خزانہ کہہ چکے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی اختیار کرنے کا حکم دیا تھا’ جس کے نتیجے میں ایرانی معیشت شدید بحران کا شکار ہوگئی۔ ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی شدید گراوٹ کے باعث خوراک کی قیمتیں اوسطاً 72فیصد تک بڑھ گئیں۔ 2018ء میں اپنے پہلے دورِ صدارت میں ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 2015ء کے جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ اس معاہدے کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی حاصل کر رہا تھا۔

گزشتہ سال دوبارہ منتخب ہونے کے بعد ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لئے معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا۔ اس ضمن میں ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنیوالے ممالک پر 25فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی بھی دی۔ ماضی میں کیے گئے ایران مخالف اقدامات کی نسبت اس دفعہ کی امریکی حکمت عملی زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2019ء تک ایران میں متوسط طبقے کے حجم میں تقریباً 28فیصد کمی واقع ہوئی’ اور امریکا کی معاشی پابندیوں کے باعث ایرانی عوام کی قوتِ خرید کم ہونے سے بچت ختم ہو گئی۔ امریکا کی جانب سے یہ برملا اعتراف کہ اس نے جان بوجھ کر ایران میں ڈالر کی قلت پیدا کی’ معاشی جنگ یا معاشی دہشت گردی کی ایک نئی حکمت عملی ہے جبکہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اسے ایسی معاشی سفارت کاری کہہ رہے ہیں جس میں گولی چلائے بغیر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ امریکا کا حتمی مقصد ایران میں رجیم چینج کرنا ہے جو کہ صرف معاشی پابندیوں سے ممکن نہیں۔

ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے واشنگٹن ایران کے قریب اپنی فوجی طاقت بھی بڑھا رہا ہے’ جو ٹرمپ کے حکم پر ایران کے خلاف ممکنہ طور پر حملے کی تیاری ہے۔ امریکی بحریہ کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ بحیرہ روم میں داخل ہو گیا ہے۔ سیٹیلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ یہ جہاز ایرانی ساحل سے تقریباً 700کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ ایران نے اقوام متحدہ کے سربراہ کو آگاہ کر دیا ہے کہ اگر اس پر امریکی یا اسرائیلی حملہ ہوا تو اس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا’ جبکہ امریکا اور ایران کے مابین جنیوا میں عمان کی ثالثی میں مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہو چکا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ وقت دانشمندانہ فیصلوں کا ہے کیونکہ بڑی طاقت کی جارحیت ہمیشہ چھوٹے اور کمزور ممالک کے لیے تباہی کا باعث بنتی ہے۔ ایران ان دنوں ایک نازک صورت حال سے دوچار ہے کیونکہ ایک طرف ریاستی رِٹ اور نظریاتی تشخص کا سوال ہے تو دوسری جانب عوامی توقعات اور بدلتی ہوئی عالمی حقیقتیں ہیں۔ ایران میں عدم استحکام پورے مشرقِ وسطیٰ کو متاثر کر سکتا ہے جس کے اثرات تیل کی قیمتوں’ علاقائی سلامتی اور عالمی سیاست پر بھی پڑیں گے۔ امریکا اگر واقعی انسانی حقوق کا خواہاں ہوتا تو ایران کے خلاف پابندی اور مداخلت کی بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اپناتا۔ ایران امریکا کے دوران بڑھتی ہوئی کشیدگی اگر کھلی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف تہران اور واشنگٹن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس آگ کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔