رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
رمضان المبارک دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے رحمت، مغفرت اور روحانی تازگی کا پیغام لے کر آتا ہے مگر اس برس سرزمین شہدا‘ غزہ میں رمضان کا آغاز ملبے، خیموں اور ادھورے گھروں کے درمیان ہوا۔
دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ اور تباہی کے بعد یہ پہلا رمضان ہے جو نسبتاً خاموش فضاو¿ں میں داخل ہوا، اگرچہ جنگ بندی کے باوجود وقفے وقفے سے خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں۔ مفتی عام القدس و دیارِ فلسطین، شیخ محمد حسین کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ بدھ کا دن پہلا روزہ ہوگا اور یوں غزہ میں پہلی تراویح ادا کی گئی۔ اسی شام مسجد اقصیٰ مبارک میں بھی ہزاروں فلسطینیوں نے تراویح ادا کی، گویا ایک طرف قبلہ اوّل کی روشنی اور دوسری طرف ملبے میں ڈوبی بستیاں، دونوں ایک ہی روحانی دھاگے میں بندھے نظر آئے۔
غزہ کی فضا میں اس رات ایک عجیب امتزاج تھا؛ خاموشی، نگرانی کرنے والے دجالی ڈرون طیاروں کی گونج اور قرآن کی پُرسوز آوازیں۔ اسرائیلی حملوں میں ایک ہزار سے زائد مساجد کو نشانہ بنایا گیا جن میں سے سینکڑوں مکمل طور پر شہید ہوچکی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 835 سے زیادہ مساجد مکمل منہدم ہوئیں جبکہ 180 سے زائد کو جزوی نقصان پہنچا۔ ان حالات میں فلسطینیوں نے ہمت نہ ہاری، انہوں نے تباہ شدہ مساجد کے ملبے پر نایلون اور لکڑی کے سہارے عارضی مصلیٰ قائم کیے۔ کہیں اینٹوں کے ڈھیر کے برابر صفیں بچھیں، کہیں خیموں کے اندر محدود جگہ میں نمازی کھڑے ہوئے۔ ان کے سجدے زمین کی خاک پر تھے مگر نگاہیں آسمان کی طرف۔ دعاو¿ں میں ایک ہی صدا تھی: اے کریم رب! کرب دور فرما، حالات بہتر کر اور ہمیں امن عطا کر۔ یوں غزہ کی سرزمین ایک بار پھر رمضان کی برکتوں سے منور ہوئی ہے۔ یہ مناظر ایک طرف صبر و استقامت کی داستان سناتے ہیں تو دوسری طرف انسانی المیے کی شدت کو بھی آشکار کرتے ہیں۔
ٹوٹی ہوئی دیواروں، جلی ہوئی چھتوں اور شہید ہونے والوں کی یادوں کے درمیان جب تکبیر کی آواز بلند ہوئی تو ایسا محسوس ہوا جیسے ملبے کے نیچے سے بھی اُمید کی کونپل پھوٹ رہی ہو۔ خا ن یونس میں ایک تباہ شدہ مسجد کے ملبے پر جب پہلی صفیں بنیں تو نمازیوں نے پلاسٹک کی چادروں اور لکڑی کے تختوں سے عارضی چھت تیار کی۔ فضاو¿ں میں اب بھی ڈرون طیاروں کی بھنبھناہٹ سنائی دے رہی تھی مگر اس کے باوجود لوگوں نے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کی۔ ان مناظر کو اناطولیہ خبر ایجنسی کے نمائندوں نے بھی ریکارڈ کیا جنہوں نے لکھا کہ نمازی آنسووں کے ساتھ دعا کر رہے تھے کہ خدایا! اس سرزمین پر امن و سکون واپس لوٹا دے۔
٭العمری الکبیر: تاریخ کے سائے میں عبادت: غزہ شہر کی تاریخی المسجد العمری الکبیر اس رمضان کا علامتی منظر بن کر ابھری۔ یہ مسجد فلسطین بلکہ دنیا کی قدیم ترین اور بڑی مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد چودہ سو سال سے بھی پہلے رکھی گئی تھی اور صدیوں کے دوران اس میں کئی توسیعات اور تعمیرنو کے مراحل آئے۔ یہ فلسطین کی تیسری بڑی مسجد مانی جاتی ہے جبکہ اس سے بڑی مساجد میں مسجداقصیٰ کے بعد عکا میں واقع ’احمد باشاالجزار‘ کا نام آتا ہے اور رقبے کے اعتبار سے یافا کی جامع المحمودہ بھی نمایاں ہے۔ حالیہ جنگ میں العمری مسجد کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کی چھتیں گرگئیں، محراب کا بڑا حصہ ٹوٹ گیا اور تاریخی دیواریں متاثر ہوئیں لیکن رمضان کی پہلی رات نمازیوں نے ٹوٹے ہوئے حصوں کو پلاسٹک اور لکڑی سے ڈھانپ کر صفیں بچھا لیں۔ سب کی آنکھوں میں عزم کے ساتھ آنسو بھی تھے کیونکہ وہ آواز کہیں سنائی نہیں دے رہی تھی جو غزہ کی پہچان تھی۔ اس مسجد کے امام و خطیب اور عالم اسلام کے عظیم اسکالر شیخ وائل الزرد شہید کی یادیں جامع العمری کے درودیوار سے جڑی ہوئی ہیں۔ مگر دجالی قوت نے اس آواز کو خاموش کردیا۔ ایک نمازی نے کہا: ہم روز مرتے رہے مگر نماز نہیں چھوڑی۔ آج بھی نہیں چھوڑیں گے۔ جنگ کے بعد جب ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے تو انہوں نے خیموں میں پناہ لی۔ انہی خیموں میں عبادت کے لیے بھی جگہ مختص کی گئی۔ وزارة الاوقاف الفلسطینیہ نے مقامی لوگوں کے تعاون سے تباہ شدہ مساجد کے ملبے پر عارضی مصلے قائم کیے۔ پلاسٹک کی چادروں سے ڈھکے ان مقامات پر رات کی تاریکی میں جب قرآن کی تلاوت گونجتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے درد اور اُمید ایک ساتھ سجدہ ریز ہوں۔ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث اکثر جگہوں پر جنریٹر یا بیٹری لائٹس استعمال کی جاتی ہیں۔
رمضان کی آمد اگرچہ روحانی خوشی کا باعث ہوتی ہے مگر اس سال غزہ میں حالات نہایت مشکل ہیں۔ سرکاری بیان کے مطابق تقریباً 19 لاکھ افراد بے گھر ہیں۔ کل آبادی کا بڑا حصہ خیموں میں زندگی گزار رہا ہے۔ خوراک کی شدید قلت، پینے کے صاف پانی کی کمی اور طبی سہولیات کا فقدان عام ہے۔ گزشتہ برس اقوام متحدہ نے غزہ شہر میں قحط کی کیفیت کا اعلان کیا تھا۔ اس سال اگرچہ جنگ بندی کے بعد کچھ امداد پہنچی ہے مگر وہ ناکافی ہے۔ کئی خاندان افطار کے لیے صرف روٹی اور نمک پر اکتفا کر رہے ہیں۔ پہلی سحری میں چائے اور خشک روٹی ہی میسر آئی۔
وسطی غزہ کے علاقوں خصوصاً دیرالبلح اور مخیم البریج میں قائم خیمہ بستیوں میں بچے رمضان کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا اس سال بمباری نہیں ہوگی؟ کیا ابا واپس آئیں گے؟ کیا ہمارا گھر دوبارہ بنے گا؟ رضاکار تنظیمیں خیموں کو رنگ برنگی جھنڈیوں اور کاغذی فانوسوں سے سجا رہی ہیں تاکہ بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ لائی جاسکے مگر یہ خوشی ادھوری ہے۔ بہت سے بچے اپنے والدین یا بہن بھائیوں کو کھو چکے ہیں۔ رمضان کی آمد پر بازاروں میں وہ چہل نظر نہیں آتی جو ماضی میں ہوتی تھی۔ غزہ شہر اور خان یونس کی گلیاں ابھی تک ملبے سے اٹی ہوئی ہیں۔ دکانیں جزوی طور پر کھلی ہیں مگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اس کے باوجود کچھ نوجوان رضاکار اجتماعی افطار کا اہتمام کر رہے ہیں۔ ملبے کے درمیان لمبی چادریں بچھائی جاتی ہیں اور جو کچھ میسر ہو، سب میں بانٹ دیا جاتا ہے۔ کھجوریں اگر کم ہوں تو آدھی آدھی تقسیم کی جاتی ہیں۔ یہ مناظر اخوت اور بھائی چارے کی زندہ مثال ہیں۔
مشکل حالات کے باوجود لوگوں میں روحانی بیداری نمایاں ہے۔ مساجد اگرچہ تباہ ہو چکی ہیں مگر اذان کی آواز اب بھی گونجتی ہے۔ قرآن کی محفلیں خیموں میں منعقد ہو رہی ہیں۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد نماز تراویح میں شریک ہو رہی ہے۔ ایک امام نے کہا: یہ رمضان ہمارے لیے آزمائش بھی ہے اور رحمت بھی۔ ہم نے اپنے پیاروں کو کھویا، اپنے گھر تباہ ہوتے دیکھے مگر ایمان باقی ہے۔ ان کے الفاظ سن کر نمازی آبدیدہ ہو گئے۔ غزہ کی تاریخ صبر اور مزاحمت سے بھری پڑی ہے مگر اس بار تباہی کی شدت غیرمعمولی ہے۔ پھر بھی جب العمری مسجد کے صحن میں پہلی تراویح ادا ہوئی تو ایسا لگا جیسے تاریخ نے ایک بار پھر گواہی دی ہو کہ یہ سرزمین سجدوں سے خالی نہیں ہوگی۔ رمضان کی پہلی سحری کے وقت خیموں میں چراغ جل اٹھے۔
مائیں بچوں کو جگا رہی تھیں۔ کہیں چائے بن رہی تھی، کہیں تھوڑی سی دال گرم کی جا رہی تھی۔ سادگی اپنی انتہا پر تھی مگر نیتوں میں خلوص اور آنکھوں میں امید تھی۔ اگرچہ جنگ بندی کے بعد بھی وقفے وقفے سے خلاف ورزیاں رپورٹ ہورہی ہیں مگر عوام کی خواہش ہے کہ یہ رمضان حقیقی امن کی شروعات بنے۔ لوگ دعا کررہے ہیں کہ یہ مہینہ نہ صرف روحانی سکون لائے بلکہ عملی طور پر بھی حالات میں بہتری کا سبب بنے۔ غزہ کے باسیوں کے لیے یہ رمضان محض عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ بقا، صبر اور امید کا استعارہ ہے۔ ملبے پر کھڑی صفیں، خیموں میں گونجتی تلاوت، بچوں کی معصوم دعائیں اور بزرگوں کے آنسو، یہ سب مل کر ایک ایسی داستان رقم کررہے ہیں جو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ تباہی کے بیچ جب سجدہ قائم رہتا ہے تو یہی پیغام دیتا ہے کہ ایمان کی روشنی اندھیروں سے زیادہ طاقتور ہے۔ غزہ کا رمضان اسی روشنی کا نام ہے۔ (بحوالہ ترک خبر رساں ایجنسی اناطولیہ)

