یوم پاکستان کی تقریبات میں بنگلادیشی وزیراعظم کی شرکت متوقع

آئندہ ماہ منعقد ہونے والی یومِ پاکستان پریڈ، بھارت کے خلاف مئی کی فتح کے بعد پہلی بڑی عسکری تقریب ہوگی، جس میں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور دفاعی تیاریوں کا بھرپور مظاہرہ متوقع ہے۔

حکومتی حلقوں میں اس بات پر غور جاری ہے کہ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان کو اس موقع پر بطورِ مہمانِ خصوصی مدعو کیا جائے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ اگلے ہفتے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں متوقع ہے۔

موقر معاصر جنگ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری پروفیسر احسن اقبال چوہدری نے وزیر اعظم شہباز شریف کے خصوصی نمائندے کے طور پر ڈھاکا میں طارق رحمان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی اور انہیں پاکستان کے دورے کی باضابطہ دعوت دی، جسے بنگلہ دیشی رہنما نے خوشدلی سے قبول کیا۔ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان ابتدائی ٹیلیفونک رابطے میں بھی اس دعوت پر اتفاق ہو چکا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف خود حلف برداری کی تقریب میں شریک ہونا چاہتے تھے، تاہم انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دیے گئے ’بورڈ آف پیس‘ کے اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن جانا پڑا، جس کے باعث ڈھاکا کا دورہ ممکن نہ ہو سکا۔

ادھر ڈھاکا میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عمران حیدر نے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، عوامی فلاح اور جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوا۔ بنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے خطے کے تمام ممالک کے عوام کے مفاد میں تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اسلام آباد میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں برادر ممالک تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے خواہاں ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق سارک خطے سے بھوٹان کے وزیر اعظم شیرنگ ٹوبگے وہ واحد رہنما تھے جنہوں نے ڈھاکا میں حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی، اور اسی خیرسگالی کے جواب میں بنگلہ دیش نے اصولی طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وزیر اعظم طارق رحمان اپنا پہلا غیر ملکی دورہ بھوٹان سے شروع کریں گے۔