جن پانچ اعمال کو اسلام میں خصوصی اہمیت حاصل ہے اُن میں ایک روزہ بھی ہے۔ نماز اگر خدا کی خشیت کا مظہر ہے تو روزہ اس سے محبت کا اظہار ہے۔ روزہ کے ذریعہ ایک صاحب ایمان ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی محبت اور اس کی خوشنودی کی طلب نے اسے کھانے پینے جیسی بنیادی ضروریات سے بھی بے گانہ کررکھا ہے ۔ روزہ کی ابتدا طلوع صبح سے ہوتی ہے ، اس سے پہلے سحری کھانا مسنون ہے تاکہ روزہ رکھنا آسان ہو۔ روزہ کی انتہا سورج کے ڈوبنے پر ہوتی ہے، اس لیے سورج کے ڈوبتے ہی افطار کرنا واجب ہے ۔ افطار میں تاخیر کرنا مکروہ ہے اور افطار نہ کرکے دن کے ساتھ ساتھ رات کا بھی روزہ رکھنا نا جائز اور گناہ ہے۔ اگر دن بھر بھوکا پیاسا رہنا خدا کی بندگی ہے تو افطار میں عجلت کرنا بھی بندگی ہی کا اظہار ہے۔ دن بھر بھوکا رہنا اگر خدا کی خوشنودی کے سامنے اپنی خواہشات کو قربان کرنے سے عبارت ہے تو افطار میں جلدی کرنا اپنے عجز و درماندگی اور اپنے پروردگار کے سامنے فقر و احتیاج کا اظہار ہے۔
گویا انسان اپنے پروردگار سے کہتا ہے کہ ہم آپ کے رزق سے بے نیاز نہیں ہوسکتے، ہم تو کھانے کے ایک ایک دانہ اورپانی کے ایک ایک قطرہ کے محتاج ہیں ، جب تک آپ نے روکا ، رک گئے ، پھر جونہی اجازت ملی آپ کے خوانِ نعمت پر ٹوٹ پڑے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”میرے بندوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو افطار میں جلدی کرتا ہو۔” (سنن الترمذی ) چونکہ افطار ہی سے روزہ کی تکمیل ہوتی ہے اس لیے افطار بھی ایک عبادت ہے ، جیسے سلام سے نماز کے اور بال مونڈانے سے حج وعمرہ کے افعال مکمل ہوتے ہیں ۔ اس لیے سلام اور بال کا مونڈانا یا کٹانا بھی عبادت ہے۔ اسی طرح افطار بھی روزہ جیسی عبادت کا حصہ ہے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کا وقت متعین فرمایا، افطار کے آداب بتائے کہ افطار سے پہلے یہ دعا پڑھی جائے :
اللہم لک صمت و علیٰ رِزقِک افطرت ۔(سنن ابو داؤد)
‘بار الہا!میں نے آپ ہی کے لیے روزہ رکھا اور آپ ہی کی عطا فرمائی ہوئی رزق پر افطار کر رہاہوں ۔’
افطار کن چیزوں سے ہوناچاہئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی بیان فرمایا۔ چنانچہ ارشاد ہے کہ کھجورسے روزہ افطار کیا جائے، اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے افطار کرے۔ کیونکہ وہ پاک ہے ۔ (ابو داؤد )آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس پر عمل فرمایا ۔ چنانچہ معمول مبارک تھا کہ اگر تازہ کھجوریں ہوتیں تو ان سے افطارکرتے ، ورنہ خشک کھجور (خرما) سے اور یہ بھی نہ ہوتا تو چند گھونٹ پانی نوش فرمالیتے۔ (ابوداؤد) چونکہ عبادت میں معاون و مدد گار بننا کارِ ثواب ہے اور مسلمانوں سے یہ مطلوب ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کرانے کی بھی فضیلت بیان فرمائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو کسی روزہ دار کو افطار کرائے ، اس روزہ دار کے اجر میں کمی کے بغیر افطار کرانے والے کو بھی روزہ رکھنے والے کے برابر اجر حاصل ہوگا۔ (سنن ابو داؤد) اس لیے بحمد اللہ مسلمانوں میں دعوت افطار کا ایک عمومی ذوق پایا جاتا ہے اور لوگ اپنی اپنی صلاحیت اور استطاعت کے مطابق اس کا اہتمام بھی کرتے ہیں مگر اس سلسلہ میں چند باتیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں :
پہلی بات یہ ہے کہ دعوتِ افطار اصل میں مسلمانوں کے لیے ہے کیونکہ افطار روزہ کا اختتام ہے اور روزہ مسلمان رکھتے ہیں۔ نیز افطار ایک عبادت ہے اور عبادت مسلمانوں کی معتبر ہے ، نہ کہ غیر مسلموں کی ، کیونکہ عبادت کی بنیاد اللہ تعالیٰ سے تعلق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع پر ہے اورظاہر ہے کہ اللہ سے صحیح تعلق اور سنت کی اتباع کا اسلام کے بغیر تصور نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا دعوت افطار کے مدعوئین بھی اصل میں مسلمان ہونے چاہئیں ، ہاں اگر غیرمسلم بھائیوں کو بھی افطاری کھانے پر مدعو کرلیا جائے تو اس میں حرج نہیں ؛ کیونکہ غیرمسلموں کو مدعو کرنا اور ان کی مہمان نوازی نہ صرف جائز بلکہ مستحب اور لائق اجر و ثواب ہے، خاص کر اگر انہیں دعوتی مقصد کے تحت مدعو کیا جائے ۔ اس موقع پر ان کے سامنے اسلام کا تعارف کرایا جائے، اِسلامی تعلیمات پیش کی جائیں ، روزہ کی حقیقت ان پر واضح کی جائے اور اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں دور کی جائیں تو انشا اللہ اس میں دوہرا ثواب ہے؛ انفاق کا بھی اوردعوت دین کا بھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائی مرحلہ میں جب اپنے خاندان کے سامنے دعوت اسلام پیش کرنے کا حکم دیا گیا تو آپ علیہ السلام نے دوبار بنی ہاشم کے لیے کھانے کا اہتمام فرمایا اور کھانا کھلانے کے بعد ان کے سامنے دین کی دعوت رکھی۔ پس دعوتی مقصد کے لیے کھانے پر مدعو کرنا عین سنت رسول ہے ۔
افسوس کہ آج کل اکثر افطار پارٹیاں عبادت کی روح سے خالی ہوتی جارہی ہیں ، خاص کر مسلمان اور غیرمسلم وزرا اور قائدین کی طرف سے دعوتوں کا جو اہتمام ہوتا ہے اُن کی نوعیت بھی سیاسی ہوتی جارہی ہے، ہر شخص کی توجہ تقریب کے مہمانان خصوصی کی طرف ہوتی ہے۔ بڑی تعداد ان کے حاشیہ برداروں کی ہوتی ہے جن کی حرکتوں سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی خوشنودی کے بجائے کچھ شخصیتوں کی خوشنودی حاصل کرنے یہاں پہنچے ہیں۔ نہ ذکر، نہ استغفار ، نہ دعا، نہ اللہ کی طرف انابت ، نہ اخلاص، نہ خشیت ۔ سب سے مضحکہ خیز کیفیت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو کیمرہ کی قید میں آنے اور اخبار کی سرخی بننے کو بے قرار ہوتے ہیں۔ کاش وہ دنیا کے اخبار میں چھپنے کے بجائے اللہ کے رجسٹر میں اپنا نام لکھالیں ، لوگوں کو خوش کرنے کے بجائے اللہ کی خوشنودی کے لیے دعوت افطار کا اہتمام کریں اور کم سے کم روزہ جیسی عبادت کو دنیا طلبی اور غیراللہ کی رضا جوئی کے ناپاک جذبہ سے آلودہ نہ ہونے دیں !
دوسری بات یہ ہے کہ اس دعوت میں غریب مسلمان نظر انداز نہ ہوجائیں ۔ شریعت کا مزاج یہ ہے کہ ایسے مواقع پر غربا و مساکین کو فراموش نہ کیا جائے ، اسی لیے اسلام میں عیدالفطر کے ساتھ صدقة الفطر رکھا گیا تاکہ خوشی کے اس موقع پر سماج کے غریب و نادار افراد کے گھروں میں بھی خوشی کے چراغ جل سکیں۔ عیدالاضحی میں قربانی واجب قرار دی گئی اور قربانی کے تین حصوں میں ایک غربا کے لیے مخصوص کیا گیا اور ایک رشتہ داروں کے لیے رکھا گیا جن میں غربا و محتاج رشتہ دار بھی شامل ہیں ، نیز ولیمہ میں غریبوں کو شریک رکھنے کی تلقین کی گئی اور جس میں غربا کی شرکت نہ ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بدترین ولیمہ قرار دیا :
شر الطعام طعام الولیمة یدعی لہا الاغنیاء و یترک الفقراء ، الخ ۔ (صحیح بخاری ، کتاب النکاح)
عقیقہ بھی قربانی ہی کی ایک قسم ہے ، یہ گویا اس بات کا اشارہ ہے کہ عقیقہ کے گوشت کی تقسیم یا دعوت میں بھی یہی تناسب ملحوظ ہونا چاہیے۔ افطار پارٹیوں میں اس وقت ایک رجحان صرف اہل ثروت اور سماج کے مشاہیر کو بلانے کا پیدا ہورہاہے ، ایسے حضرات کو بلانا یقینا ناجائز یا مکروہ نہیں ہے لیکن صرف انہیں پر اکتفا کرلینا اور سماج کے محتاج و نادار حضرات کو نظرانداز کردینا یقینا اسلام کی بنیادی فکر کے مغائر ہے اور ایسی تقریبات دین کی روح کے خلاف ہیں بلکہ قربانی کے گوشت کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے استفادہ کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ایسی تقریبات کے کم سے کم ایک تہائی مدعوئین فقرا میں سے ہونے چاہئیں۔ تیسری اور سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ دعوت افطار میں بہر حال عبادت کا رنگ باقی رہنا چاہیے۔ افطار سے کچھ پہلے انفرادی طور پر لوگ ذکر و تسبیح میں مشغول رہیں ، درود شریف پڑھنے کا اہتمام کریں ، قرآن مجید کی تلاوت کریں یا دینی باتوں کا مذاکرہ ہو ، خاص کر دعا کریں، کیونکہ یہ دعا کی مقبولیت کے اوقات میں سے ہے۔ دعا کے ساتھ افطار کیا جائے، توجہ اللہ کی طرف ہو نہ کہ خلق اللہ کی طرف، توجہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیرنے والا ماحول نہ بننے دیا جائے۔

